جموں ۔ کشمیر گورنر : ناراض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں ، جو ٹھیک لگا میں نے وہی کیا
03:18PM Thu 22 Nov, 2018
جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کی وجہ سے سوالات کے گھیرے میں آنے والے گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا ہے کہ انہیں جو ٹھیک لگا وہی کیا، ناراض سیاسی جماعتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لئے آزاد ہیں۔ کوئی میرے پاس نہیں آیا، کسی نے ممبران اسمبلی کی پریڈ نہیں کرائی ۔ انہوں نے پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے اتحاد کا نام لئے بغیر کہا کہ اگر یہ سرکار معرض وجود میں آجاتی تو موجودہ صورتحال کا الٹ ہوجاتا اور ایک موقع پرست سرکار نکل کر سامنے آجاتی۔
گورنر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے لئے 21 نومبر کو اس لئے چنا کیونکہ یہ عید میلاد النبی (ص) ہونے کی وجہ سے ایک مبارک دن تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ریاست میں انتخابات کے ذریعے چنی ہوئی سرکار چاہتا ہوں۔
ستیہ پال ملک نے جمعرات کو راج بھون جموں میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'میں نے کسی جانبداری سے کام نہیں لیا۔ دوسرا گروپ بھی اپنی اکثریت بتا رہا تھا، یہ بھی اپنی اکثریت کا دعویٰ کررہا تھا۔ کوئی میرے پاس آیا نہیں۔ کسی نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ کسی نے کوئی لسٹ نہیں دی۔ کسی نے پریڈ نہیں کرائی۔ ان کے پاس تو پانچ مہینے سے زیادہ وقت تھا۔ ابھی تو میرے پاس آدھا ہی مہینہ رہ گیا ہے۔ جو مجھے ریاست کے لئے ٹھیک لگا، میں نے وہی کیا۔ میں نے اسمبلی کو جموں وکشمیر کے آئین کے مطابق تحلیل کیا ہے'۔