گوری لنکیش کے قتل میں نکسیلیوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔فور شردھر
04:33PM Wed 13 Sep, 2017
بنگلور (بھٹکلس نیوز):۔ سابق نکسل لیڈرس نورشری دھر اور سری گیرے ناگراج نے کہا کہ صحافی اور متفکر گوری لنکیش کے قتل کے معاملہ میں نکسلیوں کا ہاتھ نہیں ہے اور اس طرح کے الزامات لگانے والے لوگ بے خوف ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں کوبتایا کہ دونوں کے تعلقات نکسلیوں سے کئی سال پرانے ہیں اور وہ نکسلیوں کے اُصول اور ان کی پالیسی کو قریب سے جانتے ہیں۔نکسل اس طرح چوری سے یا پکڑے جانے کی وجہ سے کسی کا قتل نہیں کرتے ۔پہلے قتل ہونے والے لیڈروں یا افسران کے ناموں کی فہرست جاری کی جاتی ہے اور اس کے بعد ہی قتل کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی کا نام اعلان نہیں ہوتا ہے اس کا نام اعلان کرکے قتل کئے جانے کی ذمہ داری لی جاتی ہے ۔نکسلیوں نے آج تک کسی بھی صحافی کا قتل نہیں کیا اور نہ ہی گوری لنکیش کا قتل کیا جاسکتا ہے۔تمام نکسل گوری لنکیش کی بہت عزت اور احترام کرتے تھے۔ دوسری طرف گوری لنکیش معاملہ میں وکرم گوڈا کا ہاتھ نہیں ہے اور وکرم گوڈا نکسلیوں کے مسائل اورانہیں سماجی انصاف دلوانے کے مقصد سے احتجاج کررہے ہیں اور اس معاملہ میں چند کارپوریٹ میڈیا والے جانچ کا رخ بدلنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس معاملہ میں وکرم گوڈا کو ایک سازش کے تحت ملزم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس معاملہ میں خصوصی جانچ ٹیم کو ایمانداری
سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور ٹی وی چینل والے پر دن کوئی نہ کوئی من گھڑت خبروں کو دکھا کر لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوری لنکیش کے نکسلیوں کے ساتھ تعلقات سال 2004 سے زائد تھے اور گوری لنکیش نے ہمت اور دلیری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے گھنے جنگلات میں داخل ہوکر نکسلیوں سے ملاقات کی تھی اور نکسلیوں نے آخر کار کس لئے ہتھیارات اٹھائے تھے اس تعلق سے ریسرچ کیا تھا اوراپنے رسالہ میں کئی خبروں کو شائع کیا تھا۔نکسلیوں کا من بدلنے اور انہیں اہم دائرے میں لانے کے لئے کئی خدمات انجام دی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ گوری لنکیش کے قتل کے پیچھے سنگھ پر یوار کا ہاتھ ہے اور گوری لنکیش کے قتل کے معاملہ کی جانچ گہرائی سے کی گئی تو اس میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے علاوہ دیگر فرقہ پرست تنظیموں کا ہاتھ ہوسکتا ہے ۔ مگر افسوس کہ نئی دہلی میں حکومت چلا رہے لوگوں کی وجہ سے ان کی حفاظت ہورہی ہے اور ہر معاملہ میں انہیں تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔