نظام آباد کے مجلسی کارپوریٹر س اوقافی جائیدادوں کی سودے بازی میں مصروف ۔۔۔؟
03:02PM Tue 21 Mar, 2017
کچھ کارپوریٹرس اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دینے کے بجائے خود ہی گتہ دار بنے بیٹھے ہیں۔
نظام آباد۔(بھٹکلیس نیوز)صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسیٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمان حیدرآباد کی قیادت ریاست دکن ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں اپنی شنا خت بنائے ہوئے مسلم اقلیتوں و دلتوں کے مسائل کیلئے جد وجہد میں لگی ہوئی ہے،اور ریاست تلنگانہ و مہاراشٹرا و پارلیمنٹ کو اپنی پسماندہ غریب طبقات اور مسلمانوں کی ترجمانی کر رہی ہے لیکن لال پیلے ہرے جو دیگر جماعتوں کو چھوڑ کر کرسی اور مفادات کے حصول کی غرض سے مجلس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے 2014ء میں ہوئے مجلس بلدیہ کے انتخابات میں نظام آباد ہی نہیں بلکہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اراکین بلدیہ اور کارپوریٹر کی نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی نظام آباد ایک واحد ضلع ہے جہاں پر مجلس کے 16کارپوریٹرس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ مسلم افراد مجلس بلدیہ کے انتخابات میں شکست سے دو چارہوئے کانگریس کا ایک ہی کارپوریٹر کو نظام آباد میں کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ بھی تنہائی کو برداشت نہ کرتے ہوئے بر سرِ اقتدار جماعت میں شامل ہو کر عوامی خدمت میں مصروف ہو گئے لیکن جہاں شہر نظام آباد کی عوام جس بھروسہ اور جس اعتماد کے ساتھ بیرسیٹر اسد الدین اویسی اور قائد مقننہ اکبر الدین اویسی رکن اسمبلی چندرائین گٹہ حیدرآباد کی ایماء پر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے اُمیدوار ؤں کو کامیابی سے ہمکنار کیا تھا ۔یہاں شہر کے بعض مجلسی کارپوریٹرس اعلیٰ قیادت اور عوامی بھروسہ کو شدید ٹھیس پہنچا رہے ہیں اور تنظیم کے ساکھ کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد کے بعد نظام آباد مجلس کا طاقتور گڑھ مانا جاتا رہا اس کے باوجود یہاں کی قیادت مسلمانوں کے ترجمانی کرنے میں ناکام رہی جس کے سبب مرکزی قیادت میں مسلسل 3 صدور کو ان کی نا اہلی کی بنیاد پر پارٹی کی صدارت سے برخواست کردیا گیا ۔20؍ مارچ 2017 کے صحافی دکن حیدرآبادکے علاوہ دیگر مقامی اخبارات کے شمارہ میں اوقافی جائیدادوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع ہونے پرسیاسی قائدین کے تعلق سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ کئی ایک کارپوریٹرس دو سال قبل ذیج گاہ میں جمع جانوروں کہ فضلہ کا غبن میں ملوث پائے گئے۔ اور کئی ایک مورم کی غیر قانونی طور پر منتقلی کے کاروبار میں مصروف ہیں تو کہیں ایک کارپوریٹرس جدید تعمیر کرنے والے عمارتوں کے مالکین سے بھاری رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس کاروبار میں بلدی عملہ کی سرپرستی حاصل کرتے ہوئے یہ کام انجام دئے جا رہے ہیں اور بلدیہ کے عہدیداروں پر الزام لگا رہے ہیں، اس لئے کہ جتنے بھی اقلیتی علاقہ ہیں وہ بغیر لیے آوٹ کے بنا ئے گئے ہیں کچھ علاقہ صنعتی علاقومیں ہونے کے سبب وہاں پر رہائشی مکانوں کو بلدیہ کی جانب سے تعمیر کرنے کی منظوری حاصل نہیں ہوسکتی ہے اسی لئے اس کا فائدہ مقامی کارپوریٹرس اٹھا رہے ہیں۔ کچھ کارپوریٹرس اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر انجام دینے کے بجائے خود ہی گتہ دار بنے بیٹھے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنے ہی رفقاء کے کسی ایک فرد کے نام تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا ٹھیکہ حاصل کرتے ہوئے غیر معیاری کاموں کی انجام دہی میں مصروف ہیں؟ اس کے علاواہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کرنے والے جو غیر قانونی بغیر لیے آؤٹ کے پلاٹوں کے کاروبار کرنے والوں سے بھی یہ بھاری رقم کے حصول کی کوشش میں ملوث ہیں۔۔۔؟انہیں یہی کافی نہیں اب ان کی نظریں شہر میں لاوارث اوقافی جائیدادوں پر لگی ہوئی ہیں حال میں خلیل واڑی ،پوچما گلی میں واقع سید جلال بغدادی ؒ کی مزار کی اراضی پر ٹکی ہوئی ہے ،مجلسی کارپوریٹرس خفیہ طور پر ایک معاہدہ پرد ستخط کئے ہیں وقف بورڈ کے عہدیداروں کے علم میں لائے بغیر ۔۔؟ اور نہ ہی انہوں نے مرکزی مجلس کی قیادت سے مشورہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا، اوقافی جائیدادوں کے ضمن اگر کوئی گفٹ کرنا بھی چاہتا ہے تو اسے وقف بور ڈ کے عہدیداروں کے علم میں لا کر ہی اس کام کو انجام دیا جاسکتا ہے ۔جبکہ متنازعہ اراضی کا مسئلہ ابھی حل ہیں نہیں ہو ا درگاہ کی جو جائیداد وقف گزٹ میں درج ہے جو368.2گز پر مشتمل ہے اس کا سروے ابھی مکمل ہی نہیں ہوا اچانک مجلسی کے چند افراد کی جانب سے اس طرح کا معاہدہ معنی خیز ہے۔؟ اس معاہدہ کی کاپیاں سوشیل میڈیا پر گشت کر رہی ہے کہ ایسی کیا اچانک معاہدہ کی ضرورت پیش آئی جلد بازی میں خفیہ طور پر انجام دیا گیاہے؟ جس کی خبرنہ ہی میڈیا کو دی گئی اور نہ مقامی وقف بورڈ کے اراکین کو اور نہ ہی کسی معزز شہر ی کو اس معاہدہ کی اطلاع دی گئی ۔۔۔ ایک طرف مجلس کی اعلیٰ قیادت اسمبلی میں ان قیمتی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی آواز کو بلند کر رہی ہے لیکن شہر نظام آباد کا ایک مجلسی گروپ اوقافی جائیدوں کی سودی بازی میں ملوث ہے ۔ عوام میں اس بات کو لئے تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور ان کارپوریٹرس کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اور ایسے کارپوریٹرس سے سخت ناراض بھی ہے ، جو عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق عوام ان کی شکاتیوں کو اعلیٰ قیادت تک پہنچا بھی رہی وقفہ وقفہ سے یہاں کے حالات سے واقف کروا رہی ہے ،اعلی قیادت بھی اپنے ذرائع سے یہاں کے کارپوریٹرس کی کاکردگی سے واقف ہورہے ہیں اور سخت ناراض بھی ہیں۔ گزشتہ سال اسی وجہ سے نظام آباد شہر کی مجلس کی باڈی کو تحلیل کر دیا گیا ۔ ممکن عنقریب صحیح قیادت کے ہاتھوں یہاں کی صدارت کی ذمہ داری کو سونپے جانے کے امکانات ہیں۔شہر نظام آباد کی مسلم طبقہ مجلس کے چند کارپوریٹرس کی ان اس حرکتوں سے شدید ناراضگی کا اظہار کررہی ہے، اور مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اخلاقی بنیادیوں پر ڈپٹی مئیر اور دیگر کارپوریٹرس جو اوقافی جائیدادوں کو تحفظ کرنے کے بجائے نقصان پہنچا رہے ہیں اپنے عہدؤں سے استعفیٰ دے دیں اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے عوام یہ بھی مطالبہ کر رہی ہے کہ پارٹی کی جانب سے تادیبی کاروائی کی جائے تاکہ دوبارہ کوئی بھی اس طرح پارٹی کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کریں۔