سپریم کورٹ کی شنوائی 29جنوری تک ٹلی ؛ مسلم فریقوں کے وکیل نے بنچ کی تشکیل پر ہی سوال اٹھایا
12:13PM Thu 10 Jan, 2019
نئی دہلی، 10جنوری2019
آج سپریم کورٹ کی کانشی ٹیوشن بنچ جس کی صدارت خود چیف جسٹس کر رہے تھے ،نے اجودھیا معاملے کی شنوائی کا آغاز کیاتو مسلم فریقوں
( مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علما ہند) کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے کانشی ٹیوشن بنچ کی تشکیل پر ہی سوال کھڑا کر دیا۔ ڈاکٹر دھون کی دلیل یہ تھی کہ عدالت عظمی کی ایک دیرینہ روایت یہ ہے کہ بنچ میں کوئی ایسا جج نہیں ہو سکتا جو کسی بھی معاملے میں اس کیس میں کسی پارٹی کی طرف سے بطور وکیل پیش ہوا ہو۔کیونکہ جسٹس یو للت 1997میں اجودھیا مسئلہ سے متعلق ایک کیس میں کلیان سنگھ کی طرف سے وکیل تھے ۔لہذا وہ اس بنچ کا حصہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس پر جسٹس یو للت نے خود کو اس کیس سے الگ کر لیا اور چیف جسٹس نے یہ مانا کہ بنچ بنانے میں چوک ہوئی ہے ۔ لہذا فیصلہ دیا کہ بنچ دوبارہ بنائی جائے گی اور کیس سے متعلق تفصیلات طے کر نے کے لئے اگلی تاریخ 29جنوری ہوگی۔ اسی طرح چیف جسٹس نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ چونکہ اس کیس میں 19ہزار صفحات کی دستاویزات پر پارٹیوں نے انحصار کیا ہے اور اس کا ترجمعہ خود کروایا ہے لہذا رجسٹری یہ دیکھے گی کہ ترجمہ درست ہے یا نہیں۔
آج کے فیصلے پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ نے بنچ سے متعلق اپنے سہو کو تسلیم کرتے ہوئے اسے درست کرنے کا فیصلہ کر لیا یہ مناسب اور خوش آئند بات ہے۔
بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی کے کو کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہندو فریق خواہ مخواہ میڈیا کے ذریعہ یہ اشتعال پھیلا رہے ہیں کہ مسلم فریق کسی نہ کسی تکنیکی بنیاد پر مقدمہ کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے۔دراصل یہ افراد خود عدالت پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہم نے تو صرف ایک سہو کی طرف اشارہ کیا تھا جسے کورٹ نے تسلیم کر لیا۔
مسلم فریقوں کی طرف سے تمام وکلا عدالت میں موجود تھے ۔الحمد اللہ ڈاکٹر راجیو دھون اپنی علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود پوری تیاری کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔