گجرات فساد:مودی کے خلاف مقدمہ ملتوی ذکیہ جعفری کی عرضی پرسماعت 26؍نومبر کو
01:17PM Tue 20 Nov, 2018
نئی دہلی،20نومبر(ایجنسی) سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں نریندر مودی ،جو اس وقت وزیر اعلیٰ تھے ،کو اسپیشل جانچ ٹیم کے ذریعے کلین چٹ دینے کے خلاف ذکیہ جعفری کی عرضی پر شنوائی 26 نومبر کے لئے ملتوی کر دی ہے۔گجرات فسادات کے دوران مارے گئے کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے اسپیشل جانچ ٹیم کے فیصلے کے خلاف ان کی عرضی خارج کرنے کے گجرات ہائی کورٹ کے 5 اکتوبر 2017کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔جسٹس اے ایم کھانولکرکی صدارت والی بنچ نے کہا کہ ، اس معاملے کی شنوائی میں کچھ وقت لگے گا۔ عرضی پر 26 نومبر کو شنوائی کی جائے گی۔اس سے پہلے شنوائی شروع ہوتے ہی اسپیشل جانچ ٹیم کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ ذکیہ کی عرضی قابل غور نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ دوسری عرضی گزار نہیں ہوسکتی ہیں۔بنچ نے کہا کہ وہ ذکیہ کی عرضی میں سیتلواڑ کو دوسری عرضی گزار بنائے رکھنے کے معاملے میں شنوائی سے پہلے اس کی درخواست پر غور کرے گی۔اس سے پہلے کی تاریخ پر شنوائی کے دوران ذکیہ کی وکیل نے کہا تھا کہ اس عرضی پر نوٹس جاری کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ 27 فروری 2002 کے دوران ہوئی مبینہ بڑی سازش سے متعلق ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسپیشل جانچ ٹیم کے ذریعے نچلی عدالت میں معاملہ بند کرنے کی رپورٹ میں کلین چٹ دئے جانے کے بعد عرضی گزار نے مخالف عرضی دائر کی تھی جس کو مجسٹریٹ نے غور کئے بغیر ہی خارج کر دیا تھا۔ اسپیشل جانچ ٹیم نے 8 فروری 2012 کو معاملہ بند کرنے کی رپورٹ میں مودی اور 63 دیگر کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے کافی ثبوت نہیں ہیں۔گودھرا میں27؍فروری کو سابر متی ایکسپریس ٹرین میں کار سیوکوں کے ڈبے میں ہوئی آگ زنی کے اگلے دن احمد آباد کی گلبرگہ سوسائٹی میں 28 فروری 2002 کو متشدد بھیڑ کے حملے میں سابق ایم پی احسان جعفری سمیت 68 لوگ مارے گئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ گجرات ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ گجرات فسادات کی دوبارہ جانچ نہیں ہوگی۔ ذکیہ جعفری نے کورٹ سے کہا تھا کہ اس کے پیچھے ایک بڑی سازش تھی، جس کو ہائی کورٹ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ کورٹ نے ان سے کہا تھا کہ وہ آگے اس کی اپیل کر سکتی ہیں۔ غور طلب ہے کہ عرضی میں 2002 میں گودھرا فساد کے بعد ہوئے فسادات کے بارے میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور دوسروں کو ایس آئی ٹی کے ذریعے دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھنے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوی ذکیہ جعفری اور سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کے این جی او ‘‘سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس’ نے فسادات کے پیچھے ‘بڑی مجرمانہ سازش’ کے الزامات سے متعلق نریندر مودی اور دوسروں کو ایس آئی ٹی کے ذریعے دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھنے کے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف کریمینل ریویزن پٹیشن دائر کی تھی۔غور طلب ہے کہ گجرات ہائی کورٹ میں داخل اپیل میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ مودی ،پولیس اورانتظامہ کے بڑے افسروں سمیت 59دوسرے لوگوں کو مبینہ سازش میں شامل ہونے کا ملزم بنایا جائے ،جس کی وجہ سے دنگے ہوئے تھے۔ اس معاملے کی نئے سرے سے جانچ کے لئے ہائی کورٹ کی ہدایت کی بھی مانگ کی گئی تھی۔واضح ہو کہ ایس آئی ٹی نے 8فروری 2012 کو داخل اپنی کلوزر رپورٹ میں مودی اور دوسرے لوگوں کو کلین چٹ دی تھی ،2013 میں میٹرپولیٹین مجسٹریٹ کی عدالت نے رپورٹ کے خلاف جعفری کی اپیل کو خارج کردی تھی۔اس کے بعد ذکیہ 2014میں ہائی کورٹ گئی تھیں۔