تمل ناڈو میں بارشوں سے ایک ماہ میں 269 ہلاکتیں; ریسکیو آپریشن جاری، ’ایئر پورٹ سے پانی نکالنا بڑا چیلنج‘

04:06PM Thu 3 Dec, 2015

بھٹکلیس نیوز / 03 دسمبر، 15 وزیراعظم نریندر مودی تمل ناڈو کے دارالحکومت چینّئی میں زبردست بارش سے پیدا ہوئی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ریاست کے دورے پر ہیں۔ ادھر جمعرات کی صبح مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں چینّئی کی موجودہ صورت حال پر بیان دیتے ہوئے اس کی تفصیلات بتائی ہیں۔ 151203020727_chennai_floods_640x360_reuters_nocredit انھوں نے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے گذشتہ ایک ماہ کے دوران تمل ناڈو میں 269 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہزاروں لوگ اب بھی چینّئی میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چینّئی شہر کے ریلوے سٹیشن پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ریل سروسز اب بھی معطل رہیں گی۔ 151203114650__87008282_87008281 151203114649__87008065_87008064 جمعرات کی شام تک محکمہ ریلوے اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرے گا کہ شہر میں کس سٹیشن سے ٹرین سروس شروع کی جا سکتی ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس مشکل سے نکلنے کے لیے ریاست تمل ناڈو کو بطور امداد 904.9 کروڑ روپے کی مالی مدد دی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی وزرا کے ایک گروپ نے چینّئی میں صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اگلے ہفتے تک اس سے متعلق رپورٹ پیش کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف کی 30 ٹیمیں امدادی کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔ بارش کی وجہ سے مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق 40 فیصد موبائل فونز اور 20 فیصد لینڈ لائن فون کام نہیں کر رہے۔ اس درمیان موبائل ٹیلی فون سروس فراہم کرنے والی کمپنی بی ایس این ایل نے چنّئی میں اگلے ایک ہفتے کے لیے مفت سروس فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بدھ کو چنّئی کے حالات پر بحث ہوئی تھی اور پارلیمنٹ کے ارکان نےحالات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا بھی جمعرات کو چنّئی شہر کا فضائی جائزہ لیں گی۔ گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید بارشوں کی وجہ سے تمل ناڈو کے دارالحکومت چینّئی میں حالات بدتر ہو گئے ہیں۔ شہر کے تقریباً 70 فیصد علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ چینئی میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے حکام کا بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں فوج نے اب تک دو ہزار افراد کو بچا لیا ہے۔ بھارتی بحریہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بحری جنگی جہاز کے ذریعے غوطہ خور، کشتیاں اور امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔ ین روز قبل مزید بارش کے باعث سیلاب آیا جس کے باعث مکانات، ہسپتال، سڑکیں، ریلوے اور ہوائی اڈا زیر آب آ گئے۔ اس کے علاوہ سکول، کالج اور فیکٹریاں بھی بند کر دی گئی ہیں جبکہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔