جولائی 26:کو برصغیر کے نامور افسانہ نگار، شاعر اوع اردو ادب میں جاسوسی ناول نگاری کے بانی ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات
11:37AM Tue 25 Jul, 2017
تحریر: ابوالحسن علی بهٹکل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُردو ادب میں یوں تو بے شمار لکھاری نام وَر ہوئے، لیکن ابن ِصفی کے مقام کو کوئی نہیں پہنچ سکا۔وہ اپنی زندگی میں ہی دیو مالائی شخصیت بن گئے تھے۔ اُردو کے جاسوسی ادب میں اُن کا کوئی ثانی پیدا نہیں ہو سکا۔ 26 جولائی 1928ء کو اُترپردیش (بھارت)کے ضلع الہ آباد کے معروف قصبے نارا میں میں پیدا ہونے والے اسراراحمد نے پاکستان آ کر ’’ابن ِصفی‘‘ کا روپ اختیار کیا ،تو اُن کے جاسوسی ناول پڑھنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ 1952ء میں ابن ِصفی ہجرت کر کے (پاکستان) آ گئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ اُن کے ناول ہر ماہ کراچی اور الہ آباد دونوں جگہوں سے شائع ہوتے تھے۔ اُن کے ناولوں کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ بک سٹال پر آتے ہی یہ ناول ختم ہو جاتے تھے بل کہ کچھ ناشروں نے اُن کے نام کی مقبولیت کا یہ فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اُن کے نام سے یا اُن کے ملتے جلتے ہوئے نام سے سیکڑوں جاسوسی ناول شائع کر دئے، لیکن اُن ناولوں میں زبان و بیان کا وہ ذائقہ کہاں سے ہو سکتا تھا۔ ابن ِصفی نے بار بار تردید کی کہ یہ ناول اُن کے لکھے ہوئے نہیں، لیکن سرقہ کرنے والے پبلشروں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اُن مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اُن کے نئے ناول اورایڈیشن کے انتظارمیں لوگ بک سٹالوں پر بے چینی سے چکر لگایا کرتے تھے۔ ابن ِصفی کے ناولوں کے کردار کرنل فریدی، سارجنٹ حمید اور علی عمران کو پڑھنے والے آج بھی اُنھیں یاد کرتے ہیں۔ اُن کے ناول آج بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھے جا رہے ہیں، جیسے اُن کی زندگی میں پڑھے جا رہے تھے او رشاید کل بھی پڑھے جاتے رہیں گے بل کہ اُس وقت تک پڑھے جاتے رہیں گے ،جب تک اُردو زبان زندہ ہے۔اُنھوں نے ناول کے ادب سے فحش نگاری کا خاتمہ کیا اور جاسوسی ناول میں مقبولیت کا وہ مقام حاصل کیا کہ 1970ء میں قومی انٹیلیجنس ادارے نے بھی اُن سے معاونت اورمشاورت حاصل کی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اُردو زبان میں ابن ِصفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا۔ اُنھیں جتنے قاری میسر آئے، کسی دوسرے ادیب کو نہیں ملے۔ درحقیقت اُنھوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا دیا تھا، جو نہ صرف اُن کے ناولوں کا مطالعہ کرتا تھا بل کہ آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظار کرتا تھا اور اُنھوں نے مضامین ِنَو کے انبار لگا دئے۔ ابن ِصفی کا ذہن جاسوسی ناولوں کا ٹکسال تھا، اسی لیے اُنھو ں نے محض 20 برس کے عرصے میں 250 سے زیادہ جاسوسی ناول لکھے، یعنی قریباً ہر ماہ ایک ناول لکھاحالاں کہ ابن ِصفی نے اپنی زندگی کی شروعات شاعری سے کی تھی، بطورِ شاعر وہ اپنا نام اسرار ناروی لکھتے تھے -
بشکریہ سید کاظم جعفری
.................
احمد صفی ابن صفی کے بیٹے اس جانکاہ سانحے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
" 24 جولائی کو ابو کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب ہوگئی تھی۔ معمول سے زیادہ اس لیے کہ اس بیماری کو تقریبا دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا تھا۔ ابو پر درد کا پہلہ اور شدید حملہ 17 ستمبر 1979 کی رات کو ہوا تھا اور اس کے بعد صحت مسلسل خراب ہی رہی۔ نومبر 1979 میں بیماری شدت اختیار کرگئی۔ ڈاکٹروں نے طویل معائنوں اور تکلیف دہ ٹیسٹوں کے بعد ایک خطرناک بیماری کا اندیشہ ظاہر کردیا۔ دسمبر 1979 میں ابو کو کراچی کے جناح اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ مزید معائنوں اور ٹیسٹوں نے لبلبہ میں کینسر کی تصدیق کردی۔ اس بات کو ابو سمیت تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھا گیا۔ اسپتال میں بہترین علاج اور توجہ سے بظاہر ابو کی بیماری میں کمی ہوگئی۔ اسپتال سے گھر آنے کے بعد علاج جاری رہا لیکن بیماری کی وجہ سے ان کے جسم میں متواتر خون کی کمی واقع ہونے لگی۔ جمعرات 24 جولائی 1980 کو ابو کو بخار آگیا جو اس وقت غیر معمولی بات نہیں تھی لیکن رات ہوتے ہوتے بخار بہت تیز ہوگیا۔ دوسرے دن طبیعت میں خرابی کی وجہ سے میں (احمد صفی) دیر سے سو کر اٹھا۔ امی نے بتایا کہ رات بھر ابو کی طبیعت بہت خراب رہی۔ ابو کو اس وقت بھی خاصا بخار تھا۔ جمعہ کا دن تھا، چھٹی ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کا ملنا بھی مشکل تھا۔ امی کے مشورے سے میں اور بھیا (ابرار صفی) رحمن بھائی کو لینے چلے گئے۔ ڈاکٹر رحمن آئے تو ابو کا بخار تیز ہوچکا تھا۔ ان کی سانس اس قدر تیز تیز چل رہی تھی کہ بولنا دشوار تھا۔ ڈاکٹر رحمن نے فورا انجکشن منگوائے، جب انہوں نے انجکشن لگانے کے لیے ابو کی آستین سرکائی تو ابو نے منع کیا " میرے بازو اب مزید مت چھیدو" ۔۔ رحمن بھائی نے پاؤں کی رگ میں انجکشن لگایا۔ انجکشن لگنے اور دوا ملنے کے بعد ابو کی طبیعت بہتر ہوگئی اور انہوں نے عادتا طبیعت سنبھلتے ہی باتیں شروع کردیں۔ شام کے وقت افطار کے بعد عیادت کے لیے حسب معمول لوگوں نے آنا شروع کردیا۔ ابو کو کافی تیز بخار تھا، اس کے باوجود آنے جانے والوں سے تھوڑی بہت بات چیت کررہے تھے۔ رحمن بھائی نے جاتے وقت بھیا سے کہا کہ اس وقت تو حالت قدرے بہتر ہے، انشااللہ صبح سب سے پہلے خون چڑھانے کا انتظام کریں گے۔ یہ ایک ایسی صبح کا ذکر تھا جو کبھی نہ آئی۔ اس رات مجھے (احمد) بھی کافی تیز بخار تھا، میں ابو کے پاس سے اٹھتے ہی بڑے کمرے میں چلا گیا اور جاتے ہی سو گیا۔ رات کو ڈیڑھ بجے کا عمل تھا۔ گھڑیاں دیر ہوئے 26 تاریخ کا اعلان کرچکی تھیں۔ ابو نے سارے دن کے بعد بیت الخلا جانے کو کہا۔ سارا دن اس قدر کمزوری رہی تھی کہ ہاتھ نہ اٹھتا تھا لیکن اس وقت خود اٹھے اور سہارا لے کر کمرے سے متصل باتھ روم گئے۔ وہاں سے واپس آئے تو سانس نہایت تیزی سے چلا رہا تھا۔ بھیا کو بلایا کہ پیٹھ سہلا دیں۔ امی نے فورا بھیا کو جگایا۔ جب بھیا پیٹھ سہلا رہے تھے تو ابو نے کہا " ناحق تم لوگوں کو آدھی رات تنگ کررہا ہوں، میری وجہ سے تم لوگوں کو بہت پریشانی ہوتی ہے"۔۔۔۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔ تھوڑی دیر میں اچانک تکلیف میں اضافہ ہوگیا۔ کراہنے کی آواز سن کر میں فورا کمرے میں پہنچا، اس وقت تک ابو لیٹ چکے تھے۔ ان کی آنکھیں چھت میں گڑی ہوئی تھیں اور سانس چلنے کی وجہ سے پورا پلنگ ہل رہا تھا۔ ہم سب پریشان ہوگئے، امی اور بہنیں گھبرا کر رونے اور دعائیں مانگنے لگیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔ میں اور بھیا ابو کے ہاتھ پاؤں سہلانے لگے، ابو کی حالت دیکھ کر سب کی حالت غیر ہو رہی تھی، بھیا روتے جاتے تھے اور ابو کو جھنجھوڑتے جاتے تھے۔ افتخار (بھائی) فورا گاڑی لے کر ڈاکٹر کی طرف دوڑ گیا۔ بھیا اور مجھ میں ابو کے پاس سے ہٹنے کی ہمت نہ تھی۔ امی اور بہنیں پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر دوڑ رہی تھیں۔ اچانک ابو نے زور سے سانس لی اور ان کے چہرے کا کرب یکسر دور ہوگیا۔۔۔۔ وہ بالکل پرسکون ہوگئے۔"
اردو کے اس عظیم ادیب نے خود ہی کہا تھا۔
لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
لیکن نہ لکھ سکے کبھی اپنی ہی داستاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم
اگر شباب ہی ٹھرا مرے شباب کا زخم
ذرا سی بات تھی کچھ آسمان نہ پھٹ پڑتا
مگر ہرا ہے ابھی تک ترے جواب کا زخم
زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے
ہے آسمان کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم
میں سنگسار جو ہوتا تو پھر بھی خوش رہتا
کھٹک رہا ہے مگر دل میں اک گلاب کا زخم
اسی کی چارہ گری میں گذر گئی اسرارؔ
تمام عمر کو کافی تھا اک شباب کا زخم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بانسری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کی صدا
رات کے پرکیف سناٹے میں بنسی کی صدا
چاندنی کے سیمگوں شانے پہ لہراتی ہوئی
گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب
پھیلتی میدان میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی
آرہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے
نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی
آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگا
چھا گیا ہے چاند کے چہرے پہ خفت کا غبار
بزمِ انجم کی ہر ایک تنویر دھندلی ہوگئی
رکھ دیا ناہید جھنجھلا کے ہاتھوں سے ستار
ذرہ ذرہ جھوم کر لینے لگا انگڑائیاں
کہکشاں تکنے لگی حیرت سے سوئے جوئبار
یوں فضاؤں میں رواں ہے یہ صدائے دلنشیں
ذہنِ شاعر میں ہو جیسے اک اچھوتا سا خیال
یا سحر کے سیمگوں رخسار پر پہلی کرن
سرخ ہونٹوں سے بچھائے جس طرح بوسوں کے جال
گاہ تھمتی، گاہ سناٹے کا سینہ چیرتی
یوں فضا میں اٹھ، ہوجاتی ہے مدھم ہائے ہائے
شام کی دھندلاہوہٹوں میں دور کوئی کارواں
کوہساروں سے اتر کر جیسے میدانوں میں آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی قاتِل ، کبھی جینے کا چلن ہوتی ہے
ہائے کیا چیز یہ سینے کی جلن ہوتی ہے
چھیڑیے قصۂ اغیار ہی ، ہم سُن لیں گے
کچھ تو کہئے کہ خموشی سے گھٹن ہوتی ہے
یادِ ماضی ہے کہ نیزے کی اَنّی، کیا کہئے؟
ذہن میں ایسی چُبھن ، ایسی چُبھن ہوتی ہے
پُھول کِھلتے ہی چمن آنکھ سے اوجھل ہو کر
ڈھونڈتا ہے اُسے، جو رشکِ چمن ہوتی ہے
کتنی ہی زہر میں ڈوبی ہوئی رکھتی ہو زباں
پھر بھی وہ نازشِ گل، غنچہ دہن ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونہی وابستگی نہیں ہوتی
دور سے دوستی نہیں ہوتی
جب دلوں میں غبار ہوتا ہے
ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی
چاند کا حسن بھی زمین سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی
جو نہ گزرے ، پَری وشوں میں کبھی
کام کی زندگی نہیں ہوتی
دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
شام کو واپسی نہیں ہوتی
(ق)
آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی
اک مرض کے ہزار ہیں نباض
پھر بھی تشخیص ہی نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دولتِ غم اپنے ہی اوپر ہم نے خوب لٹائی
سارے جہاں میں کوئی نہ ہوگا ہم سا حاتم طائی
ہم نے کہا تھا پچھتاؤ گے جانے کیسی ساعت تھی
چھوٹے منہ سے نکلی ہوئی بھی بات بڑی کہلائی
فہم و فراست خواب کی باتیں جاگتی دنیا پاگل ہے
عقل کا سورج ماند ہوا ہے ذروں کی بن آئی
دریا کی گہرائی ناپو موتی ہاتھ لگیں گے
کیا پاؤ گے ناپ کے یارو جذبے کی گہرائی
اپنی ذات میں ڈوبنے والے ٹہریں اونچے لوگ
سب کا درد بانٹنے والے کہلائیں ہرجائی
سود و زیاں کے بازاروں میں ڈھونڈ رہا تھا اپنا مول
بن بہروپ کسی نے قیمت دو کوڑی نہ لگائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤ
میرے دشمن ہی کہلاؤ
دل سا کھلونا ہاتھ آیا ہے
کھیلو توڑو جی بہلاؤ
کل اغیار میں بٹھے تھے تم
ہاں ہاں کوئی بات بناؤ
کون ہے ہم سا چاہنے والا
اتنا بھی اب دل نہ دکھاؤ
حسن تھا جب مستور حیا میں
عشق تھا خون دل کا رچاؤ
حسن بنا جب بہتی گنگا
عشق ہوا کاغذ کی ناؤ
شب بھر کتنی راتیں گزریں
حضرت دل اب ہوش میں آؤ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی ہے خاک نشینوں کی زندگی کی دلیل
قضا سے دور ہے ذروں کا نکسار جمیل
وہی ہے ساز ابھارے جو ڈوبتی نبضیں !
وہی گیت نفس میں جو ہو سکے تحلیل
دکھائی دی تھی جہاں سے گناہ کی منزل !
وہیں ہوئی تھی دل نا صبور کی تشکیل
سمجھ میں آئے گی تفسیر زندگی کیا خاک
کہ حرف شوق ہے اجمال بے دلی تفصیل
یہ شاہراہ محبت ہے ،آگہی کیسی !
بجھا سکو تو بجھا دو شعور کی قندیل
صدائے نالہ بھی آتی ہے ہمرکاب نسیم
نہ ہو سکی ہے نہ ہوگی بہار کی تکمیل
ہزار زیست ہو پایندہ تر مگر اسرار
اجل نہ ہو تو بنے کون بار غم کا کفیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق عرفاں کی ابتدا ہے
حسن منزل نہیں راستہ ہے
ذرے ذرے میں سورج ہے پنہاں
تو افق میں کسے ڈھونڈتا ہے
پھول کی زندگی ایک دن کی
نہ جانے کس بات پر پھولتا ہے
جب سے تم مہرباں ہو گئے ہو
دل کو دھڑکا سا اک لگ گیا ہے
علم و حکمت نے وہ گل کھلائے
اب تو وحشت ہی کا آسرا ہے
درد جو مل گیا ہے دوا سے
اس نئے درد کی دوا کیا ہے
کل یہی راستہ بن نہ جائے
آج جو صرف اک نقش پا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔