مسلم فرقہ آئینی طور پر سبھی مراعات پانیکا حقدار! قاری عقیل الرحمان
03:25PM Thu 16 Mar, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز)مغربی یوپی کے معزز عالم دین امام جامع مسجد گھنٹہ گھر شہر قاری عقیل الرحمان نے چند ائمہ مساجد اور اخبار نویسوں سے کل دیر شام اہم بات چیت کے دوران اپنی اور اپنے قابل قدر اکابرین کی گزشتہ دور سے آج تک کی سب سے اہم اور حساس۵۵ سالہ دینی، تبلیغی اور سوشل خدمات اورخصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے بہت مخلصانہ انداز میں بتایا کہ ۱۹۴۵ میں جنگ آزادی سے قبل ہی کچھ علیحدہ سوچ اور نظریہ رکھنے والاملک میں بہت تھوڑی تعداد میں موجود ایک خاص طبقہ ہمارے وجود کو مٹانے کے لئے نا جانے کیوں کمر بستہ ہے انگریزوں کے مد مقابل اپنے وطن عزیز کی خاطر مسلمان کے ذریعہ آن ریکارڈ بڑے پیمانہ پر مالی اور جانی قر بانیاں دینے کے بعد بھی اپنے اس ملک میں ہمیں اور ہماری نئی نسل کو اسی خاص سوچ اور نظریہ والے مٹھی بھر طبقہ کی وجہ سے آج بھی شک کے دائرہ میں لاکر تنگ و پریشان کیا جارہاہے ا سی ذہنیت ، فرقہ پرستی اور تعصب کا فائدہ اٹھاکرچند مفاد پرست سیاسی جماعتوں نے ملک بھر میں مسلم قوم کا ہما ووٹ لیکر اقتدار تو پالیا مگر ہمیں سازش کے تحت سرکاری مراعات سے محروم ہی رکھا جو مراعات دیگئی ہیں وہ( اونٹ کے منھ میں زیرہ کے برابر ہی ہیں) ناکافی ہیں صرف شور مچامچاکر مرکز اور ریاستی سرکاروں نے مسلم طبقہ کا استحصال کرتے ہوئے اپنے اہل وعیال ، کنبہ اور برادریوں کوہی فیض سے مالا مال کیاہے ان سیاسی جماعتوں نے ہمارا لگاتار استحصال کرتے ہوئے ( سرکاری اسکیموں اور سرکاری نوکریوں سے دور کرتے ہوئے ) ہمیں پستی ، جہالت ،غلامی اورتناؤ بھری زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا ہے ! آپنے کہاکہ ملک کے لئے اپنی جان اور اپنا مال لٹانے والے وفادارمسلمانوں کے ساتھ ایک لمبے عرصے سے سوتیلا برتاؤ کیا جا رہا ہے ملک میں ہمارے نوجوان، ہماری املاک، ہمارے مذہبی حقوق، ہماری مسجدیں ، مدارس اور خانقاہیں تک بھی اب محفوظ نہیں ہیں جو مراعات ملک کی سرکاریں اپنے ہی فرقہ کہ لوگوں کو دیتی جا رہی ہے اسکا دس فیصد حصہ بھی آج تک اس ملک کے وفادار مسلمانوں کو نہیں ملا ہے ہمارے اکابرین اور علماء نے اس ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے آج اسی ملک میں ہمارے ساتھ حق تلفی کی جا رہی ہے جو باعث شرم عمل ہے۔ ہم پر انگلی اٹھانے والے پہلے اپنے گریباں جھانکیںیہ بھی سچ ہے کہ کسی بھی سرکار نے ہمیں اپنانہی جانا اور کسی بھی سیاسی جماعت کی سرکار نے ہمارا ووٹ تو لیا مگر ہم مسلمانوں کو آ ئین کے مطابق ہمارا حق ہمیں نہیں دیا گیا؟ عالم دین قاری عقیل الرحمان نے کہاکہ نتیجہ کے طور پر آزادی کے۷۰ سال بعد بھی مسلمان اپنے ہی ملک میں شک وشبہات، ظلم وستم، فرقہ وارانہ حملوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے ہی اس ملک میں مظلوم کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہے اب مسلم عوام نے بے خوف ہوکر بھاجپاکو ووٹ دیکر اقتدار سونپ دیا ہے امید ہے کہ اب حالات میں تبدیلی ممکن ہے۔ امام و خطیب مسجد گھنٹہ گھر قاری عقیل نے نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بڑی کڑواہٹ کے ساتھ فرمایا کہا کہ اپنے وطن مملکت جمہوریہ ہند کی وفادار ی میں آج بھی اپنے اس عزیز ملک کا مسلمان سب سے آگے ہیں ہم ملک کی خاطر اور ملک کی حفاظت کے لئے آج بھی اپنی جانوں کی قربانیوں کے لئے سب سے آگے بڑھنے کو تیار ہے ،بقول حکم رب العزت ہماری تمام علمی اور جسمانی طاقت صرف اور صرف اپنے معبود حق ا ور پیارے رسولﷺ کے بعد اپنے ہی ملک کے لئے ہے ہم نے جتنے بھی سجدے خدا کے سامنے کئے ہیں وہ اسی سر زمین پر کئے ہیں ہمارے لئے اس سر زمین کی بری اہمیت ہے اسی سر زمین پر ہمارے اولیاء کرام کی پر نورآرام گاہیں، خانقاہیں اور روحانی مراکز موجود ہیں ہمارے دینی ادارے جو ملک کی ایکتا اور وفاداری کا درس دیتے ہیں وہ بھی اسی ملک کی سر زمین میں چل رہے ہیں اور مسلمانوں کو قرآن اور حدیث کی تعلیم دیکر ملک اور ملت کے لئے معاون بن نے کا اہم درس دے رہے ہیں امام جامع مسجد گھنٹہ گھر قاری عقیل الرحمٰن نے کہا کہ مگر شرم کی بات ہے کہ خاص ذہنیت کے لوگ ہماری ان وفاداریوں کو دہشت گردی کا نام دیکر ہمیں پوری دنیا میں ذلیل و خوارکرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اپنے جلسوں اور بیا نوں میں ہمیں طرح طرح کے بیہودہ اور گھنونے الفاظوں سے پکار رہے ہیں جو ملک ہندوستان کے لئے شرم کی بات ہے مرکز میں بیٹھی سرکار اور صوبائی سرکا ریں بھی اقلتیوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہی ہے مسلمان ملک کا وفادار ہے اور ہمیشہ رہے گا اقتدار پر قابض لوگ ہی آج صرف مسلمانون کو اپنے ووٹ کے لئے استعمال کر رہے ہیں جو ملک کے لئے اور بھی زیادہ شرمناک بات ہے ۔امام مسجد قاری صاحب نے کہا کہ آج ملک کو بے باک ، ذہین اور با صلاحیت مسلم قیادت کی ضرورت ہے آپنے زور دیکر کہا ہے کہ ہم نے اپنے اکابین کو اور اکابرین کی تعلیمات کو اورانکے کے تجربات کو نظر اندازکرکے اپنا بڑا نقصان کیا ہے آپنے کہا کہ ہم اس ملک میں طاقتو ر اور محفوظ بنے رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنِ مقدس اور اطاعتِ رسول پر عمل کرنا ہو گا اس کے علاوہ اپنے بزرگانِ دین کی بتائی ہوئی باتوں کو اپنانا ہوگا تبھی ہم اس ملک میں آزادی کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔ امام وخطیب قاری موصوف نے کہا کہ وقت بدلاہے مسلم ووٹران نے بھاجپاکو ووٹ دیاہے نئی سرکار بنی ہے اب ہمکو جوش یا بے صبرے پن کو ظاہر کرنیکی ضرورت نہی موقع ہے نظریہ پرکھنے کا اور شریفانہ طور پر اپنے پیچیدہ مسائل حلا کرانیکا ۔قاری صاحب نے کہا کہ اب ہماری نئی نسل کے افراد بھی روزگار میں برابری، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ریزرویشن دلائے جانے کے ساتھ ساتھ اردو کی ترقی اور اس اہم ملکی زبان کو روزگار سے جوڑ نیکی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں اور ہمارے مرکزی اور صوبائی وزرا اور قانون سازاسمبلی کے ممبر ان کو پہلے کی مانند اپنی خاموشی توڑ کر اس جانب توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ ملک میں سبھی کو برابری حاصل رہے اور ہمارا ہزاروں سال پرانا بھائی چارہ بھی قائم رہے ؟