حضرت نواب حیدرعلی خان بہادرؒ کا 241واں عظیم الشان عرس کے موقع پر  روہنگیا مسلمانوں پرہورہے ظلم و بربریت کی پُرزور مذمت کی 

01:58PM Fri 22 Sep, 2017

بھٹکلیس نیوز / 22 ستمبر،2017 میسور / (نامہ نگار)  بروز جمعرات بوقت بعد نمازمغرب بمقام گنجام سری رنگ پٹن ، میسور میں ٹیپو سلطان وقف اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی و ٹیپو سلطان عرس کمیٹی مدرسہ قوۃ الاسلام نواب صاحب تعلیم میسورشہر ، ساڈے روڈ کے بزیر اہتمام بانی سلطنت خدادادحضرت نواب حیدر علی خان بہادرؒ کا241واں صندل وعرس شریف کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ، جس کی سرپرستی سرقاضی آف میسور مولانا محمد عثمان صاحب نے کی ۔ اور الحاج تنویر سیٹھ صاحب ، ریاستی وزیر برائے وقف و ایجوکیشن و چیرمین ٹیپو سلطان شہید وقف اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی قیادیت میں عمل میں آیا ۔ صوفیاء کرام مشائخین عظام و فقراء کے ہمراہ جلوس صندل مختلف شاہراؤں سے گشت کرتا ہواگنجام گنبدشاہی پہنچا۔ ٹیپو وقف اسٹیٹ کمیٹی کے اراکین و عرس کمیٹی کے ذمہ داران و عاشقانِ حضرت نواب حیدر علی خان بہادر ؒ نے مزار پاک پرصندل وچادر گل پیش کیا، اور اپنی بے پناہ عقیدت و خراج تحسین پیش کی۔ بنگلور سے آئے ہوئے مہمان خصوصی حضرت قاری صوفی ولی با قادری رکن جمعیت الصوفیا والمشائخ آل کرناٹک نے تلاوت کلام الہیٰ ودرجہ طریقہ فاتحہ پڑھی ۔ سب سے پہلے انہوں نے یکم محرم کے پیش نظر شہداء کربلاؓ امام حسنین کریمینؓ ورفقاء کربلا اہلبیت اطہارؓ کوخراج تحسین پیش کی ۔ عرس کی تقریب کا آغاز دوپہر 2-00بجے ٹیپو ہال ساڑے روڈ کے اجلاس عام سے ہوا ، جس میں ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے صوفی ولی با قادری نے حیدر علی خان بہادر ؒ کے تاریخی واقعات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت شمالی ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کاچراغ غروب ہورہا تھا ، جنوبی ہند میں ایک ایسی سلطنت عروج پر تھی جس کے حکمران کے نام سے انگریزی حکومت کانپ اٹھی تھی ، جنوب میں خاص طور پر ریاست میسور کے راجاؤں کی غفلت او رآپسی جھگڑو ں کی وجہ سے حکومت ان کے ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی، اسوقت ایک جانباز سپاہی نے گرتی ہوئی سلطنت کو سنبھالا ، اپنی دانشمندی اور نمایاں ذہانت سے ریاست میسور میں ایک نئی سلطنت ’’ سلطنت خداداد‘‘ کی بنیاد ڈالی ۔ اس سلطنت کے بانی نواب حیدرعلی خان بہادر ؒ 1720ء میں کولار ضلع کے بودی کوٹہ میں پیداہوئے۔آپ کے والد فتح محمد جو کولار کے صوبے دار تھے ۔ حیدرعلی کابچپن آرام وآسائش سے گزرا ۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنے چچا کی نگرانی میں انہوں نے فوجی تعلیم و تربیت حاصل کی اورمیسور کے راجہ کی فوج میں افسربن گئے ۔ اپنی افسری کے زمانے میں حیدر علی نے ایسے کارنامے انجام دئیے جس سے ان کی شہرت میں چار چاند لگ گئے اور ہر طرف ان کا چرچہ ہونے لگا۔ میسور کے وزیر نند راج نے حیدر علی کو ڈنڈیگل کا گورنر مقرر کیا۔ انہیں سپہ سالار کا عہدہ بھی عطا کیا اور ’’ فتح حیدر بہادر‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ آگے چل کر حیدر علی نے صوبہ سرا پر قبضہ کیا اور اس صوبے کے تمام پالے گاروں نے حیدر علی کو محصول دینا منظور کرلیا ۔ یہ دیکھ کر میسور کے راجہ نے انہیں ختم کردینے کی کوشش کی ۔ راجہ اور حیدرعلی میں جنگ چھڑ گئی ، راجہ کو شکست ہوئی اوروہ اپنی شکست پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ حیدر علی نے جنوبی ہند کی ایک اور ریاست ’’ بدنور‘‘ پر چڑھائی کی او راسے اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ بدنور کانام بدل کر حیدر نگر رکھا گیا ۔ وہاں کئی عمارتیں تعمیر کروائیں ۔ ٹکسال قائم کیا اوراپنے نام کاسکہ جاری کیا۔ اس کے بعد حیدر علی نے ملبار اوردیگر علاقے فتح کرکے علی راجہ نامی ملباری کو وہاں کا حکمران مقرر کیا ۔ پھرریاست شاہنور پر چڑھائی کی او رفتح حاصل کی۔ حیدر علی کی کامیابی سے ان کے دشمن جلنے لگے ۔ انگریز ، مرہٹے اور نظام ان کو شکست دینے کی غرض سے ایک ہوگئے۔ اس دوران حیدر علی نے کورگ ، بلاری ، ادھونی وغیرہ کے علاقے بھی فتح کرلئے ۔ بادامی ، دھارواڑ اورکرنول پر قبضہ کرلیا ۔ اس طرح حیدر علی کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ ویلور ،آرکاٹ ، چتور اورآمبور پر بھی ان کی حکومت قائم ہوگئی ۔ آہستہ آہستہ ان کی سلطنت 80ہزار مربع میل تک پہنچ گئی ۔ اس وسیع سلطنت میں ہندو آبادی زیادہ اورمسلم آبادی کم تھی۔ اس لئے حیدر علی نے ہندوؤں کو اہم عہدے عطا کئے تھے ۔ ان کا وزیر اعظم ’’ پورنیا ‘‘ خود برہمن تھا۔ ان کی حکومت میں ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل تھی ۔ ہندواور مسلمان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ ان میں مذہبی فرق باقی نہیں تھا ۔ اس لئے حیدر علی کی حکومت ہند ومسلم اتحادکا بہترین نمونہ تھی ۔ وہ ایک انصاف پسند بادشاہ تھے ۔ اگر بارش کی قلت ہوتی یا لوٹ مار سے فصلیں تباہ ہوجاتیں تو رعایا کیلئے دوچارسال تک مالگزاری معاف کردی جاتی ۔ ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ان کے ماتحت کام کرنے والے ایماندار ہوں ۔ سلطنت کاسارا کام ان کے رائے مشورے سے ہوتا تھا ۔ وہ بے علم تھے مگر بااخلاق و اعلیٰ ذہانت والے دلیر اور ایماندار شخص تھے۔ نواب بہادر نے شمالی ہند ، عرب اورایران کے قابل لوگوں کو دعوت دی ۔ مختلف ملکوں سے کاریگروں کو بلایا ۔ مختلف صنعتوں کو ترقی حاصل ہوئی ۔ ملک میں تجارت کو فروغ ملا ۔ غرض نواب حیدر علی نے مختصر عرصے میں ملک میں ایک انقلاب برپاکیا۔سن1782ء کو نواب حیدر علی خان کی پشت میں سرطان کی وجہ سے وفات ہوئی۔ان کی تدفین گنجام کی گنبد شاہی سری رنگ پٹن میں عمل میں آئی ۔ اس 241ویں عرس کی تقریب میں ٹیپو سلطان وقف اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اراکین ہائی کورٹ وکیل یم،یس،مکرم ، صدر ٹیپو سلطان شہید ؒ عرس کمیٹی ، میسور، و جنرل سکریٹری افروز پاشاہ عرف اپو دا ، جناب جمیل احمد اشرفی صاحب، صدر حضور محدث اعظم ؒ ہند فاؤنڈیشن ، مولانا محمد عنایت الرحمن صاحب ، امام و خطیب مسجد اقصیٰ گنبد شاہی ، جناب جمشید اشرفی صاحب، پہلوان سردار صاحب، کے علاوہ ریاست کرناٹک کے مختلف علاقوں سے عاشقا ن حیدر علی خان بہادر کے عاشقان و ٹیپو شہید ؒ سے جڑی ہوئی تنظیموں کے لیڈران کے علاوہ کثیر تعداد میں ہندو مسلم عوام الناس نے روہنگیا مسلمانوں پر ہورہے ظلم و بربریت کی پرزور مذمت کی ۔ ضیافت عام کا بھی اہتمام کیا۔