ابرِ رحمت اور جلیس انصاری23 سال بعد دہشت گردی کے الزام سے بری

12:52PM Thu 5 May, 2016

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے ایک انتہائی اہم فیصلے میں جے پور کی خصوصی ٹاڈا عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ملزمین ابر رحمت اور ڈاکٹر جلیس انصاری کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔جے پور کی خصوصی ٹاڈا عدالت کے جج وی کے ماتھرنے 28فروری 2004کواپنے فیصلہ میں ابر رحمت کو 20اور ڈاکٹر جلیس انصاری کو 15 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی ۔واضح ہو کہ جمعیۃ علما ہند نے ٹاڈا عدالت کے ا س فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے ایک اپیل دائر کی تھی۔دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتا ر مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی موقر تنظیم جمعیۃ علماء ہند کی ایک اور بڑی کامیابی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ارجن کمار سیکری اور جٹس راجیش کمار اگروال نے دسمبر1993 میں مختلف ٹرینوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں نچلی عدالت کے اس فیصلہ کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے ملزمین ابر رحمت کو 20؍ سال اور ڈاکٹر جلیس انصاری کو 15 سال کی سزا سنائی تھی ۔ جمعیۃ علما مہاراشٹر کی لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ٹاڈا عدالت نے باقی دو ملزمین جمال علوی اور ڈاکٹر حبیب کو مقدمہ سے باعزت بری کیا تھا لیکن راجستھان سرکار نے عدالت عظمی میں ان کی رہائی کے خلا ف اپیل دائر کی تھی جس کی سماعت بھی متذکرہ سزا یافتہ دو ملزمین کے ساتھ ہی عمل میں آئی۔گلزار اعظمی نے مقدمہ سے متعلق تفصیلا ت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب جہاں جمعیۃ علماء ہند نے سزا یافتہ ملزمین کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، وہیں راجستھان سرکار کی باعزت بری کر دئے گئے ملزمین کے خلاف دائر اپیل کابھی دفاع کیا اور الحمداللہ آج دونوں عرضداشتوں کا فیصلہ جمعیۃ علماء کے حق میں آیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تعلق سے جمعیۃ علماء ہندنے سینئر ایڈوکیٹ رتناکر داس کی خدمات حاصل کی تھی جبکہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشاد حنیف اول دن سے ہی اس معاملے کو دیکھ رہے تھے ۔ ایڈوکیٹ ارشاد حنیف نے بتایا کہ سینئر وکلاء نے دوران بحث عدالت کو بتایا کہ ملزمین سے حاصل کردہ اقبالیہ بیان ان کی مرضی کے خلاف تھے اور ان سے جبراً حاصل کئے گئے تھے نیز ٹاڈا کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے ریاستی حکومت سے جو اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا وہ بھی قانون کے مطابق نہیں تھا ۔دفاعی وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ سی بی آئی نے تفتیش کے دوران من گھڑت ثبوت وشواہد عدالت کے سامنے پیش کئے تھے جسے نچلی عدالت نے آنکھ بند کرکے قبول کرلیا تھا اور ملزمین کو سزائیں سنادی گئی تھیں۔سپریم کورٹ کی بنچ نے آج اپنے زبانی حکم میں کہا کہ اگر ملزمین کسی دوسرے مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں جیل سے رہا کیا جائے ۔واضح ہوکہ5-6دسمبر کو پانچ مختلف ٹرینوں میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں سی بی آئی نے 15اعلی ٰتعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ 2004صادر کیا گیا جس میں ڈاکٹر جلیس انصاری اور ابر رحمت کو بالترتیب 15 اور20 سال کی سزائیں تجویز کی گئی تھیں ۔