اگست 22:-: اردو ادب کے معروف شاعر ، صحافی ، ڈرامہ نگار اور ادیب ظہور کی سالگرہ ہے
04:23PM Tue 22 Aug, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام ظہور احمد اور تخلص نظر تھا۔ ۲۲؍ اگست ۱۹۲۳ء کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے الیکٹریشن کے فرائض انجام دیے، ٹھیکیداری اورکاشتکاری کی، ہوٹل میں نوکری کی، مرغیاں پالیں اور مزدوری کی۔باقاعدہ تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا، مگر انھوں نے اپنے طور پر مطالعہ جاری رکھا۔ہفت روزہ ’’ستلج‘‘ بہاول پور کے مدیر رہے۔انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے۔وی شانتا رام کی فلم’’پڑوسی‘‘ کے مقبول گانے ظہورنظر نے ہی لکھے تھے۔زندگی کے آخری دنوں میں ریڈیو پاکستان ، ملتان اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لیے ڈرامے لکھے۔ ظہورنظر کی نظموں کا انگریزی ،روسی، چینی ،ڈچ اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ وہ ۷؍ستمبر ۱۹۸۱ء کو بہاول پور میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’بھیگی پلکیں‘، ’ریزہ ریزہ‘، ’زنجیر وفا‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری
بس یہی غنیمت ہے تیرے بعد شب گزری
کنج غم میں اک گل بھی لکھ نہیں سکا پورا
اس بلا کی تیزی سے صرصر طرب گزری
تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھے
سانس کی ہوا جب بھی چھو کے میرے لب گزری
ایک ساتھ رہ کر بھی دور ہی رہے ہم تم
دھوپ اور چھاوں کی دوستی عجب گزری
جانے کیا ہوا ہم کو اب کے فصل گل میں بھی
برگ دل نہیں لرزا تیری یاد جب گزری
بے قرار بے کل ہے جاں سکوں کے صحرا میں
آج تک نہ دیکھی تھی یہ گھڑی جو اب گزری
بعد ترک الفت بھی یوں تو ہم جئے لیکن
وقت بے طرح بیتا عمر بے سبب گزری
کس طرح تراشو گے تہمت ہوس ہم پر
زندگی ہماری تو ساری بے طلب گزری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترکِ محبت، ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں گھلتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں، کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
اڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا تھام کے دامن روز بلائیں تمہیں
دور گگن پر ہنسنے ولے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ، ہاتھ لگائیں تمہیں
درد ہماری محرومی کا تم جب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں
رنگ برنگے گیت تمھارے ہجر میں ہاتھ آئے
پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں
پاس ہمارے آکر تم بیگانہ سے کیوں ہو؟
چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں
انہونی کی چنتا، ہونی کا انیائے نظرؔ
دونوں بیری ہیں جیون کے، ہم سمجھائیں تمہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم
پاگل پن
میرا دایاں ہاتھ، بائیں ہاتھ کو
کاٹنے میں رات دن مصروف ہے
صحن سے دہلیز تک
خون کے دھبوں کی شطرنجی بچھی ہے، جس پہ موت
سینکڑوں چہرے بکھیرے ، زندگی کو مات دینے کے نشے میں مست ہے
روزنِ دیوار سے
آ رہی ہے میرے بدکردار ہمسائے کے ہنسنے کی صدا
آسماں پر دائرہ در دائرہ
چیختی چیلوں کا غول
منتظر ہے میرے بائیں ہاتھ کا
اور بایاں ہاتھ کٹ گرنے کو ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیا چوراہا
قد آور آئینے لے کر
بونوں کا مخلوط جلوس ابھی گُذرا ہے
لمبے لمبے بالوں والا اِک دانشور
بازی گر کے بانس پہ چڑھ کر
گردن کی سب نسیں پُھلائے چیخ رہا ہے
اونے پونے آدمیوں سے یہ مخلوق کہیں بہتر ہے
ہا ہا ہاہا ہی ہی ہی ہی ہو ہو ہو ہو
ہنستے ہنستے پورے آدمیوں کے جبڑے دُکھنے لگے ہیں
بجلی کی تیزی سے آ کر جیپ رُکی ہے
ڈی ایس پی نے تھانیدار کو حکم دیا ہے
دانشور کے بانس کی، اپنے ڈنڈے سے لمبائی ناپو
بانس ناپ کر
تھانیدار کا ڈنڈا دانشور کی گردن ناپ رہا ہے
اور دانشور ہانپ رہا ہے
کانپ رہا ہے،
ّ ____________
ہا ہا ہاہا ہی ہی ہی ہی ہو ہو ہو ہو کی آوازیں
مدھم ہو کر ڈوب رہی ہیں
پورے آدمیوں کا مجمع
دونوں ہاتھوں سے دُکھتے جبڑوں کو دبائے
ہولے ہولے بکھر رہا ہے
____________
کُھلے دریچوں، وا دروازوں کے پٹ آپس میں ٹکرا کر
پوچھ رہے ہیں
یہ سب کیا ہے؟
یہ سب کیوں ہے؟
دانشور کی سوچ سمجھ میں کچھ نہیں آتا
بازی گر کے سارے دعوے، سارے وعدے
جھوٹے نکلے
بازی گر نے اُس کو بانس پہ چڑھنے سے پہلے جو کہا تھا
سب کچھ اُس کے اُلٹ ہوا ہے
____________
ریستوران کے اندر بونے ناچ رہے ہیں
ریستوران کے باہر ہاکر
اخباروں کی اس سُرخی کو ڈھول بنا کر پیٹ رہے ہیں
آج کا سورج بھی کل کے سورج کی صُورت
وقت سے پہلے چُھپ جائے گا
کالی ڈائن رات اُفق پر
اپنے اُلٹے پاؤں پسارے پھیل رہی ہے
ہیبت________،
ہر گھر کے آنگن میں
زینہ زینہ اُتر رہی ہے
دانشور کی سوچ سمجھ میں کچھ نہیں آتا
بازی گر کو بانس کے چِھن جانے کا دھڑکا لگا ہوا ہے