ممبئی میں طوفانی بارش: 22 سے زائد افراد کی موت، عام زندگی متاثر، تعلیمی اداروں کو ملی چھٹی

03:31PM Tue 2 Jul, 2019

ممبئی اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں بارش قہر برپا کر رہی ہے۔ منگل کی صبح بارش کی وجہ سے دیوار گرنے کے واقعات میں کم از کم 22 افراد کی موت ہو گئی اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 24 گھنٹے کے اندر مزید بارش ہونے اور لوگوں کو ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے باہر نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ ممبئی، نوی ممبئی، تھانے اور کونکن علاقے میں تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ پونے کے امبےگاؤں میں واقع ایک کالج کی دیوار گرنے سے چھ افراد دب کر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ ممبئی کے مشرقی ملاڈ میں ایک دیوار جھونپڑیوں پر گرنے سے کم از کم 13 افراد کی موت ہو گئی اور کئی دیگر زخمی ہیں۔
 وزیراعلیٰ دیویندر فڑنويس نے ملاڈ کے واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ فڑنويس نے مرنے والوں کے اہل خانہ کو پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ کلیان میں بھی تین افراد کے مرنے کی اطلاع ہے۔
 ممبئی میں جمعہ کی شب سے جاری بارش نے پیر کی شب ایک بار پھر طوفانی رُخ اختیارکر لی۔ اس کے نتیجے میں ممبئی شہر اور مضافاتی علاقے میں پیر کو بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا اور محض 48گھنٹے میں 550ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اتنی بارش اوسطاً پورے جون کے مہینے میں ہوتی ہے۔ اس بارش کے دوران پیش آئے مختلف واقعات کے دوران 22 افراد کی موت ہوگئی ہے۔ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایک ٹوئٹ کے ذریعہ اس کی اطلاع دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں اور ہوشیار بھی رہیں۔ بی ایم سی نے کہاکہ امکانی بارش اور سیلاب جیسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کر دی گئی ہے۔ کمشنر پروین پردیسی کا کہنا ہے کہ جغرافیاتی تبدیلی اور موسم میں تبدیلی کا اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن بارش کے پانی کو پمپنگ کرنے کے لیے کارپوریشن جتنی رقم خرچ کرتی ہے ،ایسا دنیا میں کہیں نہیں کیا جاتا ہے۔ بی ایم سی کے مطابق پیر کی شب پونے گیارہ بجے بحرعرب میں مدوجزر ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ سمندر میں بھرنی کے سبب سمندر کی لہریں 3.70میٹر تک اٹھ سکتی ہیں۔