بہار میں زہریلے کھانا کھانے سے 22/ بچے ہلاک

01:54PM Wed 17 Jul, 2013

بہار میں زہریلے کھانا کھانے سے 22/ بچے ہلاک بھٹکلیس نیوز / 17جولائی ،13 بہار/بہار میں ایک سکول میں خراب کھانا کھانے سے کم از کم 22 بچے ہلاک اور درجنوں بیمار ہوگئے ہیں۔زہریلا کھانا کھانے کا یہ واقعہ ساران ضلع میں مراکھ گاؤں میں پیش آیا۔واقعے کی تفتیشات شروع کر دی گئی ہیں اور ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین کو دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ہندوستان میں اسکول میں دوپہر کے کھانے مفت فراہم کرنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں تعلیم کے لیے لانا تھا تاہم اس سکیم میں صفائی کا شدید مسئلہ ہے۔اس واقعے کے بعد قریبی قصبے چھاپڑا اور ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں اٹھائیس بچوں کو بیماری کی حالت میں ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔منگل کو دھمساتی گندمان نامی گاؤں میں ہوئے اس واقعے میں کل 47 بچے بیمار ہوئے تھے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بارہ سال سے کم عمر کے چند بچے انتہائی شدید بیمار ہیں۔ بیمار بچوں میں سے ایک کے والد راجہ یادوو نے بتایا کہ ان کا بیٹا اسکول سے واپسی پر انتہائی بیمار تھا اور اسے الٹیاں آئیں جن کے بعد اس فوری طور پر ہسپتال لانا پڑا۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی وجہ زہریلا کھانا کھانا تھی۔ایک سینیئر اہلکار امرجیت سنھا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہمیں شک ہے کہ بچوں کا کھانا زہریلا اس لیے ہوا کہ چاول یا سبزی میں کیڑے مار دوا موجود تھی۔ایک اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے کے لیے جو تیل استعمال کیا جا رہا تھا، وہ بھی زہریلا ہو سکتا ہے۔پٹنہ میں مقیم صحافی کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بچوں کوا سکولوں میں دیے گئے دوپہر کے کھانے میں زہر پائے جانے کے واقعات اس سے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔بہار کے وزیرِاعلیٰ نتیش کمار نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے اور ماہرین کی ایک ٹیم کو سکول بھی بھیجا ہے۔بہار ہندوستان کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے۔بھارت میں حکام کے مطابق اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کا نظام دنیا میں کھانا فراہم کرنے کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کے تحت بارہ لاکھ اسکولوں میں ایک کڑوڑ بیس لاکھ بچوں کو دوپہر کا کھانا دیا جاتا ہے۔یہ پروگرام چنائی میں سنہ انیس سو پچیس میں شروع کیا گیا تھا۔ bbc urdu bihar-school-cildren