ہندوستان کی جنگ آزدی کے اولین مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کا 218واں یوم شہادت
01:21PM Fri 5 May, 2017
کر ناٹکا کو مو سو ھار دا ویدیکہ و دیگر سیکو لر تنظیموں کی جانب سے منعقدہ جلسہ سے ڈاکٹر بی شیخ علی کا خطاب
میسور (بھٹکلیس نیوز)ہندوستان کی جنگ آزادی کے اولین مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کے 218ویں شہر کے یکزبشن گرانڈ میں کر ناٹکا کو مو سو ھار دا ویدیکے و دیگر سیکو لر تنظیموں کے اشتراک سے منعقدہ خصوصی اجلا س یوم شہادت اجلاس کے دوران اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا مشہور مورخ و روزنامہ سالار کے مدیر اعلی ٰ ڈاکٹر بی شیخ علی نے کہا کہ حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ جنہوں نے ملک کی خاطر جام شہادت پائی ایسے سپوت کا ریاست ہی نہیں بلکہ سارے ملک کے باشندوں کو بڑ ھ چڑھ کر اپنے دلوں میں موجود والہانہ محبت اور خراج عقیدت پیش کرنی ہے اور اس ضمن میں کر ناٹکا کو مو سو ھار دا ویدیکہ و دیگر سیکو لر تنظیموں کے اشتراک سے 4مئی کو یادگار بیاد ٹیپو سلطان اجلاس کو ہم سب نہ صرف کامیاب بنا نا ہے بلکہ ہماری نئی نسلوں کو ایسی عظیم الشان ہستیوں کے تعلق سے روشناس بھی کرانے کی اشد ضرورت ہے ا۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ ٹیپو سلطان چونکہ ایک سیکو لر بادشاہ گذرے ہیں اس لئے ہم پر اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم ایسے جلاس کو ہماری کو شیشوں سے کامیاب بنائیں ،اس موقع پر معز ز مہمامان کے طور پر کر ناٹکا کو مو سو ھار دا ویدیکے کے کنوینر اشوک ، دیونور مہادیو اپا، دلت لیڈر پروفیسر کالے گوڈا،بٹرنگے گوڈا ،کر ناٹکا کو مو سو ھار دا ویدیکہ جنرل سکریٹڑی رتی راؤ ، سابق ایم پی وشوا ناتھ ، عزیز سیٹھ لیبرسل صدر ایم رسول ، شوکت علی خان ،مظہر اللہ خان ٹیپو سلطان ریلیجس چار ٹیبل ٹرسٹ ، وغیرہ شریک رہے اس موقع پر تمام تنظیموں کی جانب سے پروفیسر بی شیخ علی صاحب کو تہنیت بھی پیش کی گئی ،حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کو بہترین خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسٹیج پر موجود معز ز شخصیات نے کہا کہ مئی 4سال1799میں حضرت ٹیپو سلطان شہید ہوئے اس لحاظ سے پورے218سال کا عرصہ گذر چکا ہے تاریخ گواہ ہے کہ اس شہادت کی خبر نے وہاں کی رعا یا پر اتنا گہرا اثر اور افسو س چھوڑا کہ بے شمار لوگوں نے کاویری میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی جن میں تمام طبقات کے لوگ شامل تھے کیا اس بات سے حضرت ٹیپو سلطان کی عوام کے تئیں محبت کا اظہار ہوتا ہے سلطنت خداداد ایک ایسی سلطنت ثابت ہوئی کے اسکی مثال کہیں اور نہیں ملتی عوام الناس کے ساتھ بھر پور انصاف ،عدل کا کیا کہنے کیا ہم اس زمانے کے تین لاکھ کے قریب کسانوں کے لئے حضرت ٹیپو کی جانب سے کئے گئے فلاحی اقدامات کو ہم فر امو ش کر سکتے ہیں افسو س کہ ایسی عظیم و بالا تر شخصیت کو لیکر سیاسی کھیل کھیلا جاتا ہے انہیں بدنام کرنے کی سازش کی جاتی ہے دشمنان زمانہ لاکھ کو شیش کرلے عوام ا لناس میں موجود ان سے عقیدت و احترام کو کبھی دور نہیں کر سکیں گے وہ ہیرو تھے اور ہمیشہ ہیرو ہی رہیں گے حضرت ٹیپو سلطان اگر ہند و ہوتے تو آج ہر گھر میں انکی ایک تصویر ضرور ہوتی اجلاس کا آغاز صبح 11بجے شہر کے ٹاؤن ہال سے کیا گیا اور ٹھیک 12بجے شہر کے دسہرہ وستو پردرشن میدان میں اجلاس عام منعقد ہوا جس میں ریاست کے نامور دانشوران اور مورخین نے اپنے خیالات بتاتے ہوئے کہا کہ تاریخ کا سرسری طور پر پڑھنا جہالت ہے اور یہی جہالت فر قہ پرست قوم کر رہی ہے اگر وہ حقیقی تاریخ کو جانیں تو انکے دلوں میں موجود نفرت محبت میں تبدیل ہو سکتی ہے پچھلے سال ایسے
اجلاس کو فرقہ پرست طاقتوں نے اپنی منظم کوشیشوں سے فسادات جیسے ماحول کو جنم دیاپس ہمیں پوری بیداری کے ساتھ اس حق کی آواز کو بلند کرنے والوں کا بھر پور ساتھ دینا ہے ، حضرت ٹیپو سلطان وہ شخصیت تھے جنہوں نے وقت آنے پر اپنے معصوم بچوں کو رہن رکھا اگر ہم آج ان حالات کے بارے میں صرف سو چیں تو ہمارے دل لرز جاتے ہیں کہ آخر ایک باپ جو زمانہ کا بادشاہ تھا آخر کیسے یہ عظیم کام کر گیا کیا انکی ایک صفت ہمیں ایک عظیم ملکی محبت کا پیغام نہیں دیتی اللہ نے حضرت ٹیپو کو کن کن نعمتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب وتمدن کو کیسے نبھایا اس بات کو نئی نسلوں میں پیش کرنا لازمی ہے ،تاج محمد خان نے کہا کہ واقعی ہمیں انہیں خراج عقیدت کانمونہ پیش کرنا ہے تو ہمیں ایک یادگار سمینار کا انعقاد کرنا ہے جہاں ٹیپو مخالف ہستیوں کو مدعو کرتے ہوئے انکی ذہن سازی اور تاریخ کے حوالہ سے روشناس کرایا جائے کیونکہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جس میر صادق کی وجہ سے حضرت ٹیپو شہید ہوئے اس میر صادق کا قتل کرنے والا کوئی مسلمان فوجی نہیں تھا بلکہ ایک ہندو فوجی بلرام نے اسکا قتل کیا تھا ایسی کئی حقیقتوں کو آصج منظر عام پر لانے کی اشد ضرورت ہے جس سے کہ ان ناقدین کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جا سکے ،