عآپ کے لئے بجی خطرے کی گھنٹی، 21 ارکان اسمبلی پر لٹکی تلوار، بھڑکے کیجریوال!۔
12:34PM Tue 14 Jun, 2016
نئی دہلی۔ دہلی میں اروند کیجریوال کی حکومت ایک بڑی مشکل میں پھنس گئی ہے۔ اس کے 21 اراکین اسمبلی پر رکنیت جانے کی تلوار لٹک گئی ہے۔ دراصل دہلی حکومت نے 21 ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کیا، اس کے بعد اس نے اسمبلی سے ایک بل پاس کیا جس میں پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے کو منافع کا عہدہ نہ ماننے کی بات تھی۔
اسمبلی سے منظور کرنے کے بعد اس بل کو صدر کے پاس بھیجا گیا، لیکن صدر نے یہ بل واپس کر دیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ اب الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ گیا ہے۔ اب ان اراکین اسمبلی کو الیکشن کمیشن کو جواب دینا ہوگا کہ ان کی رکنیت ختم کیوں نہ کی جائے۔
اگر کمیشن ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا تو ان 21 نشستوں پر دوبارہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں دہلی حکومت نے جلد بازی کی۔ ممبران اسمبلی کو پہلے پارلیمانی سیکرٹری بنا دیا گیا اور پھر بل منظور کیا گیا، لیکن بل کے مسترد ہونے سے دہلی حکومت مشکل میں پھنس گئی۔
وہیں بل کی منظوری نہ دیے جانے کے بعد اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی ناراض ہے۔ ایک میٹنگ میں بہت سے عآپ رہنماؤں نے مرکز کی سخت تنقید کی اور انہوں نے کہا کہ صدر نے مودی حکومت کی سفارش پر بل مسترد کیا۔
آج اروند کیجریوال نے اسے لے کر مودی حکومت پر حملہ بولا۔ کیجریوال نے کہا، پارلیمانی سکریٹری بلا کیا ہے۔ ہم نے ارکان اسمبلی کو تھوڑی اضافی ذمہ داری دی، ہم انہیں کوئی تنخواہ، کوئی سہولت نہیں دے رہے ہیں۔ اگر کوئی رکن اسمبلی مفت میں کام کر رہا ہے تو مودی جی کو کیا دقت ہے۔
مودی جی نہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ انہیں دہلی کی ہار ہضم نہیں ہو پا رہی تبھی وہ ہمیں کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ صرف دہلی کے پارلیمانی سکریٹری کو کیوں خارج کر رہے ہیں۔ انہیں عام آدمی پارٹی سے ڈر لگتا ہے۔ صدر کے پاس تو فائل بھی نہیں جاتی۔