اگست 21:-: معروف کہانی کار ، کالم نگار ، ڈرامہ نگار ، نقاد ، ادیب اور ترقی پسند شاعر ظہیر کاشمیری کا یومِ پیدائش ہے
11:26AM Mon 21 Aug, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظہیر کاشمیری کا اصل نام پیرزادہ دستگیر ظہیر تھا۔ 21 اگست 1919 کو امرتسر انڈیا میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام میاں شاہ دین تھا ۔ میٹرک تک ایم اے او ھائی سکول امرتسر سے تعلیم حاصل کی ۔ سور پھر ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔ خالصہ کالج امرتسر میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا لیکن اسے مکمل نہ کر سکے ۔
گیارہ برس کی عمر سے شعر گوئی کی ابتدا ہوگئی تھی۔تقسیم ہند سے قبل ہی لاہور آگئے تھے۔ابتدا میں فلمی دنیا میں ادبی مشیر کی خدمات انجام دیں کشمیر ان کا آبائی وطن تھا۔
ظہیر کاشمیری زمانہ طالبعلمی میں سیاست مین بھرپور حصہ لیتے رھے پنجاب سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر ھونے کے ساتھ ساتھ علمی مباحثوں اور ادبی سرگرمیوں مین بھی بھرپور حصہ لیتے رھے ۔ اور متعدد انعامات حاصل کئے ۔
عملی صحافت کا آغاز روزنامہ مساوات سے کیا کالم نگار کی حیثیت سے روزنامہ احسان، حالات، نوائے وقت اور پکار میں لکھتے رھے ۔ ظہیر کاشمیری قیام پاکستان سے قبل فلمی صنعت کے ساتھ وابستہ ہونے کے لیے لاہور آ گئے۔ انہوں نے کئی فلموں کی کہانیاں لکھیں اور ہدایت کاری بھی کیفلم ’’تین پھول‘‘ کی کہانی لکھی اور خود ہی ہدایت کاری بھی کی۔ ، مگر ان کا اصل میدان ادب اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد تھا اور طبقاتی ناانصافیوں کے خلاف برسرپیکار رہے۔ آپ ترقی پسند شاعر تھے ۔ اس لئے ادب برائے زندگی پر یقین رکھتے تھے اور ہمیشہ اپنے قلم کو انسانی حقوق اور پسے ہوئان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیںے طبقات کے لیے استعمال کیا۔
ظہیرکاشمیری 12 دسمبر 1994ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کاروبارِ چمن اس نے جب سنبھالا ہے
فضا میں لالہ و گُل کا لہو اچھالا ہے
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے
ہجومِ گُل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو!
زمینِ صحنِ چمن آج بھی جوالا ہے
ہمارے عشق سے دردِ جہاں عبارت ہے
ہمارا عشق، ہوس سے بلند و بالا ہے
سنا ہے آج کے دن زندگی شہید ہوئی
اسی خوشی میں تو ہر سمت دیپ مالا ہے
ظہیر ہم کو یہ عہدِ بہار، راس نہیں
ہر ایک پھول کے سینے پہ ایک چھالا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوحِ مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا
بدنام ہو کے عشق میں ہم سرخرو ہوئے
اچھا ہوا کہ نام گیا ننگ رہ گیا
ٴ
ہوتی نہ ہم کو سایہء دیوار کی تلاش
لیکن محیطِ زیست بہت تنگ رہ گیا
سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط
خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا
اپنے گلے میں اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے
جینے کا اب تو ایک یہی ڈھنگ رہ گیا
کتنے ہی انقلاب شکن در شکن ملے
آج اپنی شکل دیکھ کے میں دنگ رہ گیا
تخیل کی حدوں کا یقیں نہ کر سکا
لیکن محیطِ زیست بہت تنگ رہ گیا
کل کائنات فکر سے آزاد ہو گئی
انسان مثال دست تہِ سنگ رہ گیا
ہم ان کی بزمِ ناز میں کیوں چپ ہوئے ظہیر
جس طرح گھٹ کے ساز میں آہنگ رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادگارِ بادہ و پیمانہ ہیں
ہم چراغِ کشتۂ میخانہ ہیں
چند تنکوں میں نہ تھا لطفِ بہار
چند شعلے زینتِ کاشانہ ہیں
ہر حقیقت ہے فریبِ اعتبار
یہ حسیں جلوے اگر افسانہ ہیں
ہم بھی مہر و ماہ سے باتیں کریں
ہم بھی عکسِ جلوۂ جانانہ ہیں
شب جو تھے محوِ طوافِ شمعِ ناز
صبحدم خاکسترِ پروانہ ہیں
بُت پرستو! ہم ہیں مسجودِ نظر
ہم غرورِ لعبتِ بُت خانہ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تری چشمِ طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پرنم بھی
محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریہ غم بھی
تھکن تیرے بدن کی عذرکوئی ڈھونڈ ہی لیتی
حدیثِ محفلِ شب کہہ رہی ہے زلفِ برہم بھی
بقدرِ دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے
چراغِ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدہم بھی
مری تنہائیوں کی دل کشی تیری بلا جانے
مری تنہائیوں سے پیار کرتا ہے ترا غم بھی
بہاروں کے غزلخواں آج یہ محسوس کرتے ہیں
پسِ دیوارِ گل روتی رہی ہے چشمِ شبنم بھی
قریب آتے مگر کچھ فاصلہ بھی درمیاں رہتا
کمی یہ رہ گئی ہے باوجودِ ربطِ باہم بھی
ظہیر ، ان کو ہمارے دل کی ہر شوخی گوارا تھی
انہیں کرنا پڑے گا اب ہمارے دل کا ماتم بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم بدلا، رُت گدرائی اہلِ جنوں بے باک ہوئے
فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے
گُل بوٹوں کے رنگ اور نقشے، اب تو یونہی مٹ جائیں گے
ہم کہ فروغِ صبحِ چمن تھے، پابندِ فتراک ہوئے
مہرِ تغیّر اس دھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا!
صدیوں کے افتادہ ذرّے، ہم دوشِ افلاک ہوئے
دل کے غم نے دردِ جہاں سے مل کے بڑا بے چین کیا
پہلے پلکیں پُرنم تھیں، اب عارض بھی نمناک ہوئے
کتنے الہڑ سپنے تھے جو دورِ سحر میں ٹوٹ گئے
کتنے ہنس مُکھ چہرے ، فصل بہاراں میں غمناک ہوئے
برقِ زمانہ دور تھی لیکن مشعلِ خانہ دور نہ تھی
ہم تو ظہیر اپنے ہی گھر کی آگ میں جل کر خاک ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساغر اچھل رہے تھے جدھر دیکھتے رہے
ہر شے میں ان کا حسنِ نظر دیکھتے رہے
گلشن کو ہم برنگِ دگر دیکھتے رہے
ہر گام پر خزاں کا خطر دیکھتے رہے
ہم نے تو کروٹوں میں جوانی گزار دی
حسرت سے بزمِ غیر کا در دیکھتے رہے
وہ جنبشِ نقاب کا منظر نہ پوچھیے
کیا دیکھنا تھا اپنا جگر دیکھتے رہے
وہ بار بار دل میں جلاتے رہے چراغ
ہم سر جھکا ئے شمعِ سحر دیکھتے رہے
محسوس ہو رہا تھا کوئی سلسلہ ظہیر
پہروں زمین راہ گزر دیکھتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہدہ
کسی سنولائی ہوئی شام کی تنہائی میں
دو سرکتے ہوئے سایوں میں ہوئی سرگوشی
بات چھوٹی تھی --- مگر پھیل کے افسانہ بنی
میں نے اکثر یہی سوچا --- ترا خوش رنگ بدن
نقرۂ ناب کا ترشا ہوا ٹکڑا ہو گا
دودھیا ۔۔۔۔۔ سرد ۔۔۔۔ حرارت سے تہی
جس پہ طاری ہو خود اپنے ہی تصور کا جمود
کوئی اعجازِ پرستش جسے چونکا نہ سکے
تو مگر پھول کی پتی سے سبک تر نکلی
اوس کے لمس سے جو آپ ہی جھک جاتی ہو
اک ہلورہ بھی جسے ٹھیس لگا سکتا ہو
تو مگر خوابِ محبت تھی فرشتوں نے جسے
بیٹھ کر چاند ستاروں میں بنا صدیوں تک
اپنے بلور کے ایوان سجانے کےلئے!
دمِ گفتار ۔۔۔ تیرے ہونٹوں سے رستی ہوئی بات
جیسے گیتوں کے بہاؤ میں مخاطب کو لئے
چھوڑ آئے کسی رومان بھری وادی میں
تیری شب تاب جوانی کی ضیا نے اکثر
ہالۂ نور مرے گرد کیا ہے تعمیر
اور میں حجلۂ تنویر میں پہروں بیٹھا
تیرے مانوس تنفس کی صدا سنتا رہا
ابھی کچھ اور بھی راتیں ہیں پسِ پردۂ غیب
ابھی کچھ اور بھی نغمے ہیں پسِ پردۂ ساز
کئی راتوں کئی نغموں سے گزرنا ہو گا
دیکھ ! وہ چاند کی چوٹی کا چمکتا مینار
اسی مینار میں دونوں کو پہنچنا ہوگا