2نومبر سے پسماندہ طبقات کے سماجی تعلیمی جائزہ کا آغاز

04:54PM Tue 9 Sep, 2014

بھٹکلیس نیوز/09ستمبر ،14 کاروار (نامہ نگار) شمالی کنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر  یم ٹی ریجو  نے اطلاع دی ہے  کہ کرناٹک اسٹیٹ پسماندہ طبقات کمیشن کی جانب سے دو نومبر سے سماجی اور تعلیمی جائزہ لینے کا کام شروع ہو رہا ہے ، لہذا انہوں نے ہدایت کی ہے کہ اس کام کے لئے درکار پیشگی تیاری اور اقدامات فوری طور پر شروع کئے جائیں ،جائزہ لینے کا کام 2011کی ہندوستان کی مردم شماری سے تیار کئے گئے چارج رجسٹر مختصر مکانات کی فہرست گنتی کے بلاکوں کے رہائشی نقشوں کے  بنیاد ہر کیا جانا چاہیئے،استواری افسران اور دیہی اور شہری چارج افسران کی نامزدگی  ماسٹر تربیت دینے والوں کی نشاندہی ،گنتی کرنے والوں ،سوپر وائزروں اور عملے والوں کی نشاندہی ،ان کی نامزدگی کے احکامات جاری کرنا اور تربیت دے کر جائزہ لینے کا کام بحسن وخوبی  انجام دینے  کے لئے اقدامات کرنا چاہیئے ،ڈپٹی کمشنر  نے کہا کہ ان تمام کاموں کو انجام دینے کے لئے ضلعی سطح کے افسران کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ،ضلع کے پسماندہ طبقات کی بہبودی کے افسر اس جائزہ لینے کے کام کے ضلعی سطح کے انچارج افسر ہوں گے ، ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ مقررہ مدت میں منظم طریقے سے نقائص  کے بغیر  اچھی  طرح جائزہ لینے  کاکام مکمل ہو نا چاہئے  اسکے لئے تمام افسران کو اس  کام میں تعاون کر نا چاہئے ،ضلع کے تمام تحصیلداروں کو دیہی  چارج افسران کے طور پر  نامزدکیا گیا ہے ، تمام بلدی مقامی اداروں کے چیف آفیسر /اے ای ای /اے ای /محصول انسپکٹروں  کو شہری چارج استواری افسر نامزد کیا گیا ہے ، یہ افسران ماہر تربیت داروں کو نامزد کریں گے ،ہر ایک گنتی بلاک کے لئے ایک گنتی دار اور ہر 6گنتی داروں پر ایک سوپر وائزر کو بھی نامزد کرناہے ، چونکہ پچھلے گنتی کے بلاکوں کے تحت گنتی کا کام ہو نے جارہا ہے  لہذا چارج افسران کو چاہئے کہ  ان کے پاس محفوظ  رکھےہوئے  مکانات کی مختصر  فہرست ،رہائشی نقشے س اور چارج رجسٹرس  کاپھر سے جائزہ لینے ان کی جانچ  کر کے گنتی داروں  کو دینے کے لئے تیار رکھنا  چاہئے ،گنتی داروں اور سوپر وائزروں کو ترتیب دینے کے لئے تیار ی کرنی چاہئے  ،گنتی کے کام کے لئے درکار  نمونے سازوسامان ،رہنما کتابیں وغیرہ کی مانگ ابھی سے تیار رکھنی  چاہیئے  گنتی کے بلاک  کے حساب سے واپس لینا چاہیئے  ،اور انکی مقررہ مفروضہ مرکزوں کو سونپ کر ان سے رسید حاصل کر نی چاہیئے ۔