فرضی ڈگری فروخت کرنے والے گروہ کا پردہ فاش،2 ہزار سے زیادہ فروخت کر چکاہے فرضی ڈگریہزارسے5لاکھ روپے تک لیتے تھے قیمت،4افرداگرفتار
03:01PM Fri 17 Feb, 2017
نئی دہلی، (بھٹکلی نیوز)
مغربی ضلع کی تلک نگر تھانہ پولیس نے ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جو دسویں سے لے کر ایم بی بی ایس اور پی ایچ ڈی تک کی فرضی ڈگری بیچتے تھے۔ یہ گروہ اب تک تقریبا دو ہزار سے زیادہ ڈگری فروخت کر چکا ہے۔ ان کے پاس سے تقریبا دو سو سے زیادہ فرضی مارک شیٹ کاپی،6 ہارڈ کاپی مارک شیٹ کے سرٹیفکیٹ، ایک لیپ ٹاپ اور پانچ موبائل برآمد ہوئے ہیں۔ گینگ کے رکن دس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے میں ڈگری بیچتے تھے۔برآمد فرضی سرٹیفکیٹ میں سب سے زیادہ دسویں اور بارہویں کلاس کے ہیں، اس کے ساتھ ہی بی ایڈ، پی ایچ ڈی اور ایم بی بی ایس کی فرضی ڈگری ملی ہیں۔ گرفتار ملزمان کی شناخت اتم نگر رہائشی روپیش کمار، بھاگلپور( بہار) رہائشی رتیش کمار، روہتک (ہریانہ) رہائشی سمیری اور دیولی (دہلی) رہائشی مکیش ٹھاکر کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر وجے کمار کے مطابق 23 جنوری کو تلک نگر رہائشی شہابج الحق نے تلک نگر تھانے میں شکایت درج کرائی تھی کہ پردیپ نام کے شخص نے دسویں کلاس کی ڈگری دلائی تھی جو کہ 2003 تک ہے۔ اسے شک ہے کہ یہ ڈگری جعلی ہے، اس نے یہ ڈگری کے لئے دس ہزار روپے دئے تھے، معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے تلک نگر اے سی پی اے پٹیل کے زیر نگرانی و ایس ایچ او شیو کمار کی قیادت میں ٹیم بنا تحقیقات شروع کر دی۔ اس کے بعد سات فروری کو ایک اطلاع کے بعد ٹریپ لگا رپیش کو گرفتار کر لیا، اس کی نشاندہی پر پولیس نے رتیش، سمیری اور مکیش کو بھی گرفتار کر لیا۔ رتیش اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔
ملزمان نے بتایا کہ جعلسازی کا دھندہ واٹس ایپ کے ذریعے ہوتا تھا، اس کے ذریعے وہ جنہیں ڈگری کی ضرورت ہوتی تھی، وہ رابطہ کرتے تھے، پھر ان کی ڈیمانڈ پر فرضی ڈگری بنا کر بھیج دیا جاتا تھا۔ گروہ کے ارکان نے دہلی کے جنک پوری کے علاوہ بہار کے بھاگلپور، ہریانہ کے روہتک میں اپنا دفتر کھول رکھا تھا، کسی کو شک نہ ہو اس لئے یہ لوگ کچھ دنوں کی کلاس بھی چلاتے تھے، اس کے بعد انہیں ڈگری کے نام پر فرضی سرٹیفکیٹ دے دیتے تھے، فرضی ویب سائٹ بنا رکھی تھی۔ پولیس افسر کے مطابق کسی کو شک نہ ہو اس لئے انہوں نے ’’انڈیا آئی سی ایس ای ڈاٹ ان‘‘ نام سے فرضی ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی، اگر کسی کو شک ہو تو اسے ویب سائٹ پر جاکر جانچ پڑتال کرنے کی بات کہتے تھے۔ انکوائری کرنے پر ان کی ساری تفصیل وہاں مل جاتی تھی۔ پولیس نے بھی اس ویب سائٹ کے ذریعے بہت سی فرضی ڈگری برآمد کی ہیں۔ تحقیقات میں مصروف پولیس پولیس افسر کے مطابق گروہ میں تقریبا دس سے 12 لوگوں کے شامل ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس ملزمان سے پوچھ گچھ کرکے گروہ کے دیگر ارکان کے بارے میں معلوم کر رہی ہے۔ ملزمان کا دہلی کے ساتھ ساتھ ہریانہ، بہار اور مدھیہ پردیش تک جال پھیلا ہوا ہے۔یہ لوگ اپنی اپنی ریاستوں کے لڑکوں کو دسویں، بارہویں اور دیگر ڈگریاں مہیا کراتے تھے۔ دسویں اور بارہویں کے لئے دس ہزار، بی ایڈ کے لئے 55 ہزار، پی ایچ ڈی کے لئے ایک لاکھ اور ایم بی بی ایس کے لئے دو لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ روپے لئے جاتے تھے۔ پولیس کو شک ہے کہ ان سے کہیں دور دراز رہنے والے جھولا چھاپ ڈاکٹروں نے بھی تو فرضی ڈگری نہیں لے رکھی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں سے ڈگری لے کر وہ لوگ گاؤں یا پسماندہ علاقے میں اپنا کلینک کھول ڈاکٹری کر رہے ہوں۔