عصمت دری کا شکار طالبہ سے رشوت کی مانگ کرنے والے سرکاری وکیل کو ہٹایا گیا
03:34PM Tue 25 Jul, 2017
بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔ محکمۂ قانون نے عصمت دری کا شکار طالبہ سے رشوت کی مانگ کرنے والے سرکاری وکیل کو ہٹا دیا اور اس کے خلاف الیکٹرانکس سٹی پولیس تھانہ میں فوجداری مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔بتایاجاتاہے کہ الیکٹرانکس سٹی پولیس سٹی پولیس تھانہ کی حدود گنگانگر کی رہنے والی آٹھ سالہ ایک سرکاری اسکو ل میں چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے اور جاریہ سال 12جنوری کو پڑوسی ایک نوجوان رمیش نے اس کی عصمت دری کی تھی۔ اس سلسلہ میں طالبہ کی شکایت پر پولیس نے رمیش کے خلاف عصمت دری کا معاملہ درج کرکے گرفتار کیا تھا۔ حکومت نے طالبہ کی جانب سے وکالت کرنے کے لئے ایس نرسپا نامی ایک وکیل کو سرکاری وکیل کے طور پر مقرر کیا تھا۔ نرسپا نے جب بھی طالبہ کے معاملہ میں وکالت کرتا تھا ۔طالبہ کے والدین سے رشوت کی مانگ کرتا تھا اور اس نے ملزم کو ضمانت نہ ملنے کے لئے خصوصی وکالت کرنے ایک لاکھ روپےئے کی مانگ کی تھی۔ ایک یا دو مرتبہ والدین نے رشوت دی تھی اورپھر نرسپا کی مانگ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسلئے والدین نے مجبور ہوکر یہ شکایت وزیر برائے قانون ٹی جی جئے چندر سے کی۔ جئے چندر کے حکم پر محکئمہ قانون اور لیگل اتھارٹی کے ڈائرکٹر جگدیش نے سرکاری وکیل نرسپا کو ہٹا دیا اور رشوت کی مانگ کرنے پر اس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے سرکاری وکیل کے خلاف فوجداری اور دھوکہ دہی کا معاملہ درج کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبہ اور اس کے والدین کا تعلق بہار سے ہے او روہ روزگار کی تلاش میں پانچ سال قبل بنگلور آئے تھے۔ طالبہ کو کنٹرا نہیں آنے پر والدین نے ملزم رمیش کو ٹیوشن پڑھانے کی گزارش کی تھی۔ رمیش ہر دن طالبہ کو ٹیوشن پڑھانے کے نام پر جنسی استحصال کرتا تھا اور ایک مرتبہ موقعہ کا فائدہ اٹھا کر عصمت دری کی تھی۔ طالبہ نے اس کی شکایت کرنے پر اس کے والدین نے یقین کرنے سے انکار کردیا پھر طالبہ کو تیز بخار اور خوف پیدا ہونے پر وہ بیمار پڑگئی ۔جب زنانہ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کیا تو عصمت دری کی بات کہی تھی۔