خلیل احمد نے کیا ٹیم انڈیا میں ڈیبیو، ظہیرخان کی کمی پوری کرسکتا ہے یہ کھلاڑی

03:12PM Tue 18 Sep, 2018

راجستھان کے ٹونک ضلع کے 20 سال کے لیفٹ آرم اسپنرخلیل احمد نے ایشیا کپ 2018 میں ہانگ کانگ کے خلاف میچ کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا کی طرف سے ڈیبیوکیا ہے۔ انہیں روہت شرما نے کیپ سونپی۔ اس ٹورنامنٹ میں مستقل کپتان وراٹ کوہلی کوآرام دیا گیا ہے، لہٰذا روہت شرما 16 رکنی ٹیم کی کمان سنبھال رہے ہیں۔ ٹیم انڈیا میں واحد نیا چہرہ خلیل احمد ہیں، جن کی صلاحیت کو نکھارنے میں ٹیم انڈیا کے عظیم کھلاڑی راہل دراوڑ کا زبردست تعاون رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل احمد کی گیند بازی رفتار148 کلومیٹرہے، جواپنے آپ میں شاندارہے۔
 سچ کہا جائے تو ہندوستان کوظہیرخان کے بعد سے ایک عدد بائیں ہاتھ کے تیزگیندباز کی تلاش ہے، لیکن کوئی ایسا گیند بازنہیں ملا، جوٹیم انڈیا میں اپنی جگہ یقینی کرسکے۔ حالانکہ جے دیوانادکٹ اوربریندرسرن کی ٹیم میں انٹری ہوئی، لیکن وہ بھی اس خالی جگہ کو بھرنے میں ناکام رہے۔ اب ہندوستانی سلیکٹروں نے نوجوان خلیل احمد پر بھروسہ جتایا ہے۔ویسے ٹیم میں شامل ہونے پرخلیل نے بھی اپنے ارادے ظاہرکردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اب مجھے منتخب کیا گیا ہے، میں صرف ایشیا کپ ہی نہیں ہندوستان کے لئے زیادہ سے زیادہ میچ کھیلنا چاہتا ہوں۔ میں کم ازکم 10 سالوں تک کھیلنا چاہتا ہوں اورزیادہ سے زیادہ وکٹ حاصل کرنا چاہتا ہوں"۔ ویسے خلیل احمد نے انڈر-14 راج سنگھ ڈونگرپورٹرافی میں چارمیچوں میں 26 وکٹ لے کرتہلکہ مچا دیا تھا، لیکن صحیح معنوں میں یہ نوجوان تب سرخیوں میں آیا، جب سال 2016 کے آئی پی ایل سیزن میں دہلی ڈیئرڈیولس نے انہیں 10 لاکھ روپئے کی قیمت پراپنی ٹیم میں شامل کیا۔ حالانکہ پورا سیزن یہ نوجوان بینچ پربیٹھا رہا، لیکن راہل دراوڑ کے ساتھ نے ان کی شبیہ بدل دی۔ یہی نہیں خلیل احمد 2016 انڈر-19 عالمی کپ میں بھی ٹیم کا حصہ تھے اورایشان کشن کی ٹیم کے لئے انہوں نے 6 میچوں میں تین وکٹ لئے، اس کے بعد فروری 2017 میں انہوں نے راجستھان کے لئے ٹی -20 کرکٹ میں ڈیبیوکیا۔ وہیں اسی سال اکتوبرمیں وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیوکرنے میں کامیاب رہے۔