پرساد کھا کر بیمار ہوئے افراد کی سدا رامیا اور ضمیر احمد خان نے کی عیادت؛ سدارامیا نے کیا اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ
02:18PM Sun 16 Dec, 2018
میسور۔ 16دسمبر ( سالار نیوز )گزشتہ جمعہ کی رات کو میسور کے قریب چامراج نگر میں واقع ایک مندر میں پرساد کھاکر 11افراد ہلاک ہوگئے اورکئی افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے اور ان بیمار افراد کو شہر میسور کی مختلف اسپتالوں میں علاج کے لئے داخل کیا گیا ہے۔ سابق ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا اور ریاستی وزیر برائے فوڈ اینڈ سیول سپلائز، اقلیتی بہبودی، اوقاف و حج بی زیڈ ضمیر احمد خان کل چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعہ میسور کے قریب واقع منڈکلی ائیر پورٹ پہنچے۔ جہاں سے وہ میسور کی سرکاری کے اسپتال پہنچے اور زیر علاج بیمار افراد کی عیادت کی اور اس سانحہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں سے ملاقات کی اورانہیں تسلی دی۔ زیڈضمیر احمد خان نے بتایا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت والی کا نگریس اور جنتادل ( یس ) مخلوط حکومت کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں کو فی کس 5لاکھ روپئے اور کانگریس پارٹی کی جانب سے فی کس ایک لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس سانحہ میں زہر کھا کر بیمار ہوئے افراد کو شہر میسور کی مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ 60تا 70افراد زیر علاج ہیں اور 17افراد کی حالت کافی نازک بتائی گئی ہے۔انہوں بتایا کہ زیر علاج افراد کی نگرانی کرنے میسور ضلع کے ڈپٹی کمشنر ابھی رام جی شنکر کو ہدایت دی گئی ہے۔ اگر ان معصوموں کا علاج سرکاری اسپتال میں نہیں ہوسکا تو انہیں پرائیوٹ اسپتال میں داخل کرکے خرچ کی پرواہ کئے بغیر علاج کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور اس کے علاوہ اس سانحہ میں ہلاک ہونے والے افراد کے بچوں کی تعلیم کا خرچ بھی ریاستی حکومت کی جانب سے برداشت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملہ کی سی او ڈی کی جانب سے تحقیقات کروائی جائے گی اور قصور واروں کو سخت سے سخت سزا کی کوشش کی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح معصوموں کی جان کے ساتھ کھیلنے کی ہمت نہ کرسکے۔ کے پی سی سی کے صدر شری دنیش گنڈو راؤ، رکن پارلیمان آر دھروانارائن، ریاستی وزیر پٹ رنگا شٹی ،سابق اراکین اسمبلی ا یم کے سوم شیکھر ، بی پی منجوناتھ اور ماری گوڈا بھی اس موقع پر سدرامیا کے ہمراہ موجود تھے۔ بعد میں سدرامیا اورضمیر احمد خان منڈکلی ائیر پورٹ سے چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعہ بنگلور کے لئے روانہ ہوگئے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کیا اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ: کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور مخلوط حکومت کے کورابطہ کمیٹی کے صدر سدارمیا نے سُلوادی گاؤں کے مارمّامندر میں زہریلا کھانا کھانے سے 11 عقیدتمندوں کی موت اور 80افراد کے بیمار ہونے کے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ سدارمیا نے سنیچر کو کے آر اسپتال جاکر بیماروں کا حال پوچھا۔ بعد ازاں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی سے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرانے سے متعلق گفتگو کریں گے ۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے مریضوں کی حالت کے بارے میں جانکاری لی۔ سدا رمیا نے کہا حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے مالی تعاون کا فیصلہ کر دیا ہے ۔ میں نے بھی اراکین اسمبلی اور وزراء کو بیماروں کوبہتر علاج مہیاکرانے کی ہدایت دی ہے ۔ میں نے چامراج نگر کے ڈپٹی کمشنر سے بھی بات چیت کی ہے ۔ انہوں نے کہایہ دردناک حادثہ ہے ۔ اس طرح کے حادثہ کہیں بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ اس حادثے کے پیچھے جن کا بھی ہاتھ ہے انہیں سزا ضرور دی جائے ۔