نالہ شب نے کیا ہے جو اثر مت پوچھو مضمون:ایس اے ساگر

03:17PM Mon 17 Mar, 2014

ایس اے ساگر ہندوستان کے تجارتی دارالخلافہ ممبئی کے ممبرا علاقہ میں واقع رشید کمپاؤنڈ پولیس کی زیادتی کاگواہ بن گیا۔13 مارچ کی شب کو پولیس نے چین چوری کی آڑمیں ایسی زیادتی کا ثبوت پیش کیا ہے کہ اس کی شکایت اقلیتی کمیشن تک جاپہنچی ہے۔آدھی رات کو 4گھنٹے سے زائد چلنے والی پولیس تفیش کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے جبکہ پولیس پلہ جھاڑ رہی ہے کہ کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا ‘محض’ پوچھ گچھ ‘کیلئے تھانہ میں لایا گیا تھا۔موصولہ تفصیلات شاہد ہیں کہ بے قصور80 مسلمانوں کو تھانے لیجاکر بغیر کوئی وجہ بتائے کئی گھنٹے تک حراساں کیا گیا۔پریشان ہوکرمقامی باشدہ شہزاد پوناوالا نے اقلیتی کمیشن سے اس کی شکایت بھی کی ہے۔پوناوالا کے بقول’اے سی پی امت سیاہ کی قیادت میں یہ کارروائی کی گئی تھی۔ پولیس جنہیں اٹھا کر لے گئی ان میں اسکول میں پڑھنے والے لڑکوں سے لے کر 80 سال تک کے عمررسیدہ افراد بھی شامل ہیں۔‘جن لوگوں کو تھانے لے جایا گیا تھا ان میں 19 سال کے محسن اور 20 سال کے رمیض بھی موجود تھے۔محسن کے بقول ’میں نے ابھی 12 ویں کلاس کا امتحان دیا ہے۔ جب میں نے پولیس کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ تم جیب کترے لگتے ہو۔‘رمیض کا کہنا ہے کہ ’رات کو تقریباً 2 بجے کے قریب پولیس والے دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔ میرے گھر میں امی اور بہن سو رہی تھیں۔ میں اندر بیڈروم میں سو رہا تھا کہ اچانک پولیس کی آمدسے سب لوگ گھبرا گئے۔ میری ماں دل کی مریضہ ہیں‘ ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ پولیس والوں نے مجھے پکڑا اور کہاکہ’ چل گاڑی میں بیٹھ۔‘محسن کا کہنا ہے کہ پولیس نے کئی لوگوں کو چھوڑ دیا تھالیکن ان کو بٹھاکے رکھاگیا۔یہ الگ بات ہے کہ این سی پی کے مقامی ممبر اسمبلی جیتندر اوہاڑ کی مداخلت کے بعد پولیس نے محسن کو چھوڑیا۔ پولیس کی قیافہ شناسی؟: اے سی پی امت سیاہ نے بی بی سی کوگمرا ہ کن بیان میں کہاہے کہ ’کسی کو بھی حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔ انہیں محض’ تفتیش ‘ کیلئے لایا گیا تھا۔ جب باہر لوگوں نے ہنگامہ کرنا شروع کیا، تو ان سے پوچھ گچھ بھی پوری نہیں ہو سکی۔‘جبکہ شہزاد پوناوالا نے اپنی شکایت میں تحریر طور آگاہ کیا ہے ’اس امتیازی کارروائی کیلئے 2خواتین اہلکار سمیت تقریباً 200 کی تعداد میں پولیس والے آئے تھے۔‘ممبئی میں اس واقعہ نے ایک بار پھر خاکی وردی کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔ مساوی حقوق کی دہائی دینے والے ملک میں یہ سوال ذہنوں میں پنپنا واجب بھی ہے کہ پولیس مخصوص فرقہ کوکیوں نشانہ پر لیا ہے؟ذرائع ابلاغ میں موصولہ خبروں پر ملک بھر کے انصاف پسند شہری ششدر ہیں ممبئی پولیس نے مسلمانوں کوکیوں اٹھا لیا جبکہ گھنٹوں پوچھ گچھ کے دوران مقامی لوگوں کی طرف سے پولیس تھانے کا گھیراؤ کرنے کے بعد انہیں چھوڑا گیا ۔ اس عرصہ میں پولیس نے ان سے جو سوالات کئے ہیں وہ واقعی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کس طرح ہندوستان کی پولیس مخصوص فرقہ کو نشانہ بناکرمتعصبانہ سلوک روا رکھتی ہے ؟ رمیض بھی ان لوگوں میں سے ایک تھا جسے پولیس نے اٹھا کر تھانے میں بند کر دیا تھا۔ اس نے بتایاہے کہ پولیس والے اس سے پوچھ گچھ کے دوران کہہ رہے تھے کہ وہ چہرہ سے جیب کترا نظر آتا ہے ۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا جیب کتروں کے چہروں پر ان کا پیشہ لکھا رہتا ہے ؟ پولیس وردی میں شیو سینک؟: یہ کوئی نیارجحان نہیں ہے کہ جب پولیس کو اس طرح کا رویہ سامنے آیا ہو لیکن افسوس کی بات ہے کہ بار بار پولیس کے ایسے امتیازی رویہ اختیار کے باوجود بھی پولیس میں اصلاحات کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا ۔ ممبئی فسادات 1993 کے دوران اس وقت کے ایس پی آر ڈی تیاگی کی ٹیم نے جو کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی دوران ایک پولیس والے نے سماجی رہنما اصغر علی انجینئر سے کہا تھا کہ’ اگر وہ اپنی وردی اتار دے اس کے اندر سے ایک شیو سینک نکلے گا۔‘ یہ ہے مہاراشٹر پولیس کا چہرہ جسے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ فسادات میں سب سے زیادہ مشتبہ کردار مہاراشٹرا کی پولیس کرتی ہے ، اور افسوس وہاں پر گزشتہ 14 برسوں سے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس کی ملی جلی حکومتیں برسراقتداررہی ہیں جو سیکولر ہونے کا دم بھرتی نظر آتی ہیں لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی بیان کرتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آر ایس ایس اور شیوسینا کی طرف سے مہاراشٹرا میں کئی ایسے ادارے چلائے جاتے ہیں جن میں ’برین واش‘ کرکے نوجوانوں کو پولیس ٹریننگ دی جاتی ہے ،ان میں سے زیادہ تر کا انتخاب جب مختلف پولیس عہدوں پر ہو جاتا ہے تو پھر وہ چوری چھپے یا کھلم کھلا طور پر اسی کام کو انجام دیتے ہیں جسے شو فوجی ، بجرنگی اور سنگھی انجام دیتے ہیں ۔ فرقہ پرستی کا ڈی این اے: جولائی 2008 میں مہاراشٹرا کے دگرس میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی توہین کئے جانے پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جس میں پولیس کا کردار جانبدار تھا ، ضلع کے ایس پی یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ’ میں نے مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ اب وہ اگلے10 سال تک اپنا سر نہیں اٹھا سکیں گے۔‘ یہ بات ایس پی نے آل انڈیا سیکولرفورم کے مہاراشٹرا یونٹ کے کنوینر سریش کھیرنار کے سامنے کہی تھی ۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح پولیس کا رویہ ، مایوس کن ، فرقہ وارانہ ، اور تعصب سے لبریزہوتا ہے ۔ کچھ لوگ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پولیس میں مسلم شراکت بڑھنے سے اس طرح کے واقعات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ دلیل درست بھی ہو سکتی ہے لیکن جہاں تک عمومی تاثرکاسوال ہے ہندوستان میں فرقہ پرستی کا ڈی این اے روز افزوں پنپ رہا ہے۔ اگر فرقہ پرستی محض ہندو مسلم تنازع تک محدود ہے تو پھرذات اپات کی بنیاد پر دلتوں اور آدیواسیوں کیساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو کیا نام دیا جائے گا ؟ مراٹھا اور غیر مراٹھا کے درمیان جو خلیج دن بدن وسیع اور عمیق ہوتی جارہی ہے ‘ اسے کیا نام دیا جائے گا ؟ برائے نام نمائندگی: یہ کسی مسلم تنظیم کا موقف نہیں بلکہ ہندوستانی وزارت داخلہ کی رپورٹ شاہدہے کہ اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں کی پولیس فورس میں بھی نمائندگی یا ملازمت دئے جانے میں مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔3ستمبر2008کو شائع مہاراشٹرسے متعلق بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ پولیس میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور کئی تظیموں نے اس کمی کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پولیس کانسٹیبل کے عہدے تک مسلمانوں کی تعداد قدرے تسلی بخش ہے۔ یعنی 3 اعشاریہ 35 فیصد لیکن سپرنٹینڈنٹ آف پولیس یا ایڈیشنل سپرنٹینڈنٹ آف پولیس کے درجہ کے ایک سو 15 افسران ہیں جن میں محض ایک مسلم پولیس افسر ہے۔ پولیس محکمہ میں مسلمانوں کی اس حد تک کم نمائندگی کی وجہ سے ریاست کی مسلم ہی نہیں سیکولر تنظیموں کو بھی تشویش ہے۔ حال ہی میں نامور سماجی کارکن تیستا سیتلواد، رسالہ کمیوینلزم کامبیٹ کے ایڈیٹر جاوید آنند سمیت کئی افراد پر مشتمل ایک وفد نے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل سے ملاقات کر کے انہیں ایک یاداشت پیش کی تھی۔اس وقت ریاست میں 12 ہزار پولیس کانسٹیبلوں کی بھرتی جارہی تھی اور ان لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیاتھا کہ مسلمانوں کوان کی آبادی کے تناسب سے اس محکمہ میں نمائندگی کو یقینی بنائی جائے۔حق معلومات قانون کے ذریعہ حاصل کردہ اعداد وشمار نے یہ واضح کر دیا کہ ممبئی سے محکمہ پولیس میں نوجوانوں کی بھرتی تقریبا صفر ہے۔ ریاست کے ان اضلاع سے کچھ مسلم کانسٹیبل یا سب انسپکٹر کے عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جنہوں نے محض مراٹھی میڈیم سے ہی تعلیم حاصل کی۔2005 میں 23 مسلمان یعنی آبادی کے تناسب سے2 اعشاریہ 46 فیصد، 2006میں 44 مسلمان یعنی 2 اعشاریہ 33 فیصد اور 2007 میں محض 25 مسلمان ہی بھرتی کئے گئے۔ ہندو شرپسندوں کا کھیل: ریاست میں واحد مسلم انسپکٹر جنرل احمد جاویدنے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کو کچھ مقام حاصل کرنا ہے تو انہیں بہت محنت کی ضرورت ہے۔’ سسٹم کو کوسنے کی بجائے ہمیں دوسروں سے زیادہ محنت کرنی ہے تاکہ ہم ان کے مقابل کھڑے ہو سکیں۔‘ جے جے مارگ پولیس اسٹیشن کے سینیئر پولیس انسپکٹر ابو بیگ کے مطابق ممبئی کے مسلمان لڑکے دراصل مراٹھی سے ناواقف ہیں اور پولیس محکمہ میں بھرتی کیلئے اس کا جاننا بہت ضروری ہے۔ بیگ کے مطابق صرف زبان ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر کے مراٹھی کلچر سے بھی واقفیت بہت لازمی ہے کیونکہ تحریری امتحان میں اسی سے متعلق سوالات پیش ہوتے ہیں۔ جاوید آنند انسپکٹر بیگ سے متفق نہیں ہیں۔ان کے مطابق پولیس محکمہ کے تحریری امتحان میں جو مراٹھی زبان استعمال ہوتی ہے وہ قدیم زبان ہوتی ہے جس سے وہی واقف ہوتا ہے جس کی وہ اپنی مادری زبان ہے۔ دوسرے یہ کہ ان امتحانات میں محض ہندو مذہب اور اس سے متعلق ایسے سوالات دیے جاتے ہیں جس سے ایک عام شخص لاعلم ہوتا ہے۔ اس لیے امتحانی پرچوں کو بدلنا لازمی ہے۔ سنہ بانوے ترانوے کے فسادات کی تحقیقات کرنے والے جسٹس سری کرشنا نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا تھا کہ پولیس محکمہ میں مسلمانوں کی نمائندگی تشویشناک حد تک کم ہے اور اسے بڑھانا چاہئے تاکہ مسلمانوں کیخلاف پولیس زیادتی کے کیس کم ہوں جبکہ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران ایسے کئی کیس سامنے آئے تھے جب ممبئی پولیس کیخلاف ہندو شرپسندوں کا ساتھ دینے کے کیس درج ہوئے تھے۔ مسلم نوجوان نظر انداز : ہندوستان کی پولیس فورس میں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام بھی نہیں ہے، 21جولائی 2012کو موصولہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مختلف ریاستوں کی پولیس میں مسلم افسروں اور اہلکاروں کی شرح تناسب کل ملا کر محض 6 فیصد ہے، جن میں سے 2 فیصد جموں و کشمیر پولیس میں تعینات ہیں، ہندوستانی وزارت داخلہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پولیس میں اتنے بھی مسلمان افسر نہیں کہ انھیں مسلم علاقوں میں تعینات کیا جاسکے، ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں قائم پولیس فورس کی کل افرادی قوت 16 لاکھ 60 ہزار کے لگ بھگ ہے، اگر مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی پولیس فورس میں تعینات 46 ہزار 250 مسلمان افسروں اور اہلکاروں کو نکال دیا جائے تو پورے ہندوستان کی تمام ریاستوں کی پولیس فورس میں مسلم افسروں اور اہلکاروں کا تناسب گھٹ کر صرف 4 فیصد رہ جاتا ہے، یعنی ہندوستان میں 16 کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کی پولیس فورس میں نمائندگی برائے نام ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق پورے ہندوستان میں پولیس افسروں اور اہلکاروں کی کل تعداد 16 لاکھ 60 ہزار کے قریب ہے جبکہ مسلم افسروں اور اہلکاروں کی کل نمائندگی محض ایک لاکھ 8 ہزار ہے، ہندوستانی پولیس فورس میں مسلم نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کے معاملہ میں نئی دہلی نمبر ون پر ہے، کیونکہ دہلی پولیس کی کل افرادی قوت 75 ہزار 117 ہے جس میں حیران کن طور پر مسلم افسروں اور اہلکاروں کی کل نمائندگی صرف ایک ہزار 521 ہے، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دہلی پولیس فورس میں مسلمانوں کی نمائندگی 2 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں کی پولیس فورس میں بھی نمائندگی یا ملازمت دئیے جانے میں مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے، کیونکہ مسلم آبادی کے اعتبار سے ان دو بڑی ریاستوں میں مسلم افسروں اور اہلکاروں کا مقامی پولیس فورس میں تناسب 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اکثرریاستوں نے کیا نظر انداز: اسی رپورٹ نے انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر کے بغیر باقی تمام ریاستوں کی پولیس فورس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی وزارت داخلہ نے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلم آبادی والے علاقوں میں پولیس اور فورسز کے ہاتھوں مبینہ زیادتیوں کی شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کا اعتماد بحال رکھنے کیلئے مسلم اکثریتی علاقوں میں قائم پولیس چوکیوں کا چارج مسلمان افسروں کو سونپنے پر زور دیا لیکن ہندوستانی وزارت داخلہ کے مرتب کردہ منصوبہ پر اس لئے عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ پورے ملک میں اتنے مسلم افسر یعنی اتنی تعداد میں مسلم انسپکٹر اور سب انسپکٹر دستیاب ہی نہیں کہ انہیں اقلیتی علاقوں کا چارج دیا جائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ نے بھی مختلف سرکاری خدمات میں غریب مسلمانوں کی نمائندگی کیلئے نشاندہی کی تھی جبکہ مذکورہ کمیٹی نے آبادی کے درمیان اعتماد کی تعمیر کرنے کا ایک طریقہ کے طور پر پولیس اسٹیشنوں میں مسلمان افسران کی سفارش بھی کی، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہندوستانی وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام بھی مشروط تھا کہ پولیس اہلکاروں کی بھرتی میں ریاست کی حکومتوں کو اقلیتوں کو خصوصی غور دینا تھا اور سلیکشن کمیٹیوں میں اس مقصد کیلئے اقلیتی برادری کے نمائندوں کو ہونا چاہئے تھا، لیکن بہت کم ریاستوں نے ایسا کیا۔ جنوبی ہند کا حال: بہرحال کیرلہ میں مسلم آبادی 24.7 فیصدبتائی جاتی ہے جبکہ وہاں پر پولیس میں مسلمانوں کی نمائندگی 13 فیصد ہے۔ اس طرح آبادی کے مقابلہ میں پولیس میں تقریبا نصف مسلمان ہیں جبکہ کیرل فرقہ وارانہ تشدد سے تقریبانجات پاچکا ہے ۔ اسی طرح تملناڈو میں مسلم آبادی 5.46 فیصد ہے جن کا پولیس میں حصہ فیصد 0.11 فیصد بتایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود تمل ناڈومیں فرقہ وارانہ نظریہ کاا حساس تک نہیں ہے جبکہ وہاں پر برائے نام فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں جنھیں محض انگلیوں پر شمار کیا جاسکتاہے۔ اس کیساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ مہاراشٹرا میںیہ حصہ 10.06 فیصد اور پولیس فورس 4.71 فیصد ہے جو فرقہ وارانہ تشدد کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور ریاست کے کئی علاقے فرقہ وارانہ طور پر حساس ہیں ۔ اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 18.50 فیصد ہے لیکن پولیس فورس میں ان کی تعداد 4.24 فیصد ہے ۔ یہ کون نہیں جانتاکہ اترپردیش کے کئی علاقے فرقہ وارانہ طور پر زیادہ حساس ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اتر پردیش اور بہار جہاں مسلمان آبادی میں 16.53 فیصدہے جبکہ پولیس میں محض 5.4 فیصد ہیں جو فرقہ وارانہ فسادات محفوظ رہے ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے وہاں بھی فرقہ وارانہ جھڑپیں دیکھی گئی ہیں ۔ فی الحال ضرورت پولیس میں اصلاحی عمل کی ہے۔ اس حلف کو تازہ کرنے کی ہے جو پولیس میں بھرتی کے دوران عہدوپیمان کئے جاتے ہیں ، اگر ایسا نہیں ہوا تو مہاراشٹرا جیسے سانحات پورے ملک میں عام ہو جائیں گے ، اور فاشسٹ طاقتیں اپنے شرمناک مفسدانہ منصوبوں میں کامیاب ہو جائیں گی ۔ جیلوں میں بہتات: یہ خدشہ کس حد تک درست ہے کس اندازہ لگانے کیلئے بی بی سی کی رپورٹ حاضرہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض غیر سرکاری جائزے شاہد ہیں کہ ملک کی بیشتر جیلوں میں30 فیصد سے زیادہ مسلم قیدی ہیں۔29 اکتوبر2006 کو موصولہ رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی کی مناسبت سے جیلوں میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد تشویش ناک ہے اور اس کیلئے عدلیہ اور پولس کا ’تعصبانہ رویہ‘ ذمہ دار ہے۔ ہندوستان میں سرکاری عدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے بارہ فیصد ہے۔ لیکن اگر ملک کی جیلوں کی بات کریں تو یہاں مسلمانوں کی تعداد تیس فی صد سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کی جیلوں میں تو حالات اس سے بھی خراب ہیں جہاں 35 سے 40 فیصد قیدی مسلمان ہیں۔کشمیر ٹائمز اخبار کے بیورو چیف افتخار گیلانی نے ’مائی ڈیز ان پریزن‘ کے نام سے دلی کی تہاڑ جیل پر ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ10 برس کے دوران ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایاکہ ’ہر برس رمضان سے قبل دلی کی تہاڑ جیل میں مسلمانوں کی اصل تعداد پتہ کی جاتی ہے۔ اس برس اعداد و شمار کے مطابق پوری جیل میں قیدیوں کی تعداد 14ہزار 3 سو28 تھی جس میں سے 5 ہزار 6 سو 20 مسلمان تھے۔‘سنٹر فار ہیومن رائٹز اینڈ لاسے تعلق رکھنے والے وجے ہلمٹ ممبئی کی مختلف جیلوں میں گزشتہ کئی برسوں سے کام کر رہے ہیں جبکہ ہلمٹ کا کہنا ہے کہ ممبئی کی جیلوں میں تقریبا 40 فیصد قیدی مسلم ہیں۔ مصدقہ متعصبانہ سلوک: عجیب بات یہ ہے کہ دلی میں جیل انتظامیہ سے کئی بار رابطہ قائم کرنے کی کوشش کے باجود وہاں سے جواب موصول نہیں ہوسکا۔سیئنر صحافی پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ یہ انہتائی افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں ساڑھے13فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ ہندوستان کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد40 فی صد سے زیادہ ہے۔پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ’ہندوستان کی ذیلی عدالتوں اور محکمہ پولیس میں مسلمانوں کے تئیں تعصب پایا جاتا ہے جس کے سبب مسلم برادری کیساتھ انصاف نہیں ہو پاتا ہے۔ جیلوں میں تقریبا 60 فیصد ’انڈر ٹرائل‘ ملزم ہو تے ہیں اور پچھلے 10 برسوں میں ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین کے تحت بہت لوگوں کو بلا وجہ بند کر دیا گیا جس میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے پوچھ گچھ کے بہانہ مسلمانوں کو ہی پکڑا جاتا ہے۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکن گوتم نولکھابھی کہتے ہیں کہ ’ مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک ایک عام بات ہے اور یہ پولیس کا دوہرا میعار ہی ہے کہ ایک برادری کو جیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ دوسری کو سنگین سے سنگین جرم میں بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘گزتم نولکھا کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بے انصافی ختم کرنے کیلئے انتظامیہ اور پولیس کو جواب دہ بنانے کی ضرورت ہے۔ کہاں ہیں مسلم قائدین؟ پرفل بدوائی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت کیلئے حکومت نے جو سچّر کمیٹی تشکیل دی ہے اس کے سروے سے جیلوں کی صحیح صورتحال سامنے آنے کی توقع ہے اور اسی کی سفارشات سے اصلاحات کا بھی امکان ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ ایک عام بات ہے کہ ملک کی بیشتر جیلوں میں مقررہ تعداد سے زیادہ قیدی ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے ملزم جنکی سزا پانچ یا چھ برس ہونی چاہئے وہ اس سے دگنے سالوں سے جیل میں ہیں کیونکہ نہ تو کوئی انکی ضمانت لینے کو تیار ہے اور نہ ہی ان کے پاس اتنے پیسے ہیں کو وہ اپنامقدمہ لڑ سکیں جبکہ سپریم کورٹ نے ایسے قیدیوں کی ایک فہرست تیار کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کیساتھ انصاف ہو سکے۔نجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اور مسلم لیڈروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پہلو پر توجہ دیں کہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد کیوں زیادہ ہے اور حکومت کچھ ایسے اصول و ضوابط جاری کرے جس سے مسلمانوں کیساتھ اس قسم کا سلوک نہ برتا جائے۔