آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر کی تنقید
09:34AM Tue 19 Apr, 2016
بھوپال۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کی اہم میٹنگ بھوپال میں منعقد ہوئی ۔ بھوپال میں مجلس مشاورت کی ایک روزہ میٹنگ میں جہاں ملک کی موجودہ صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا گیا وہیں سبھی قوموں کے بیچ آپسی اتحاد پر زور دیا گیا۔ میٹنگ میں دلت مسلم اور دلت کرشچین کے ریزرویشن کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ۔ مجلس مشاورت کا ماننا ہے کہ برسراقتدار جماعت سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ ضرور لگاتی ہے لیکن وہ ملک کی اقلیت اور دلتوں کو ان کے حقوق دینے کے حق میں نہیں ہے ۔
مجلس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے میں مرکزی حکومت کے رول کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مد ھیہ پردیش حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ مجلس کا ماننا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ملک میں پانچ مراکزکے قیام کے فیصلے کے نفاذ میں صوبائی حکومتوں نے جو رخنہ اندازی کی ہے وہ اقلیتی طبقے کی تعلیم کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ ساتھ ہی مجلس نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ملک گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاکہ سماج کے سبھی طبقات کو ان کے حقوق مل سکیں ۔
مجلس مشاورت کی مرکزی مجلس عاملہ کی اہم میٹنگ میں ملک کے تمام ممبران نے شرکت کی اور مجلس کے ایک سال کے ایجنڈے پر اپنی مہر لگائی ۔ میٹنگ میں ملک کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ۔ مجلس مشاورت کا ماننا ہے کہ بر سر اقتدار جماعت کے ذریعہ جس نہج پر کام کیا جا رہا ہے اس سے ہندوستان کے ہزاروں سال قدیم سیکولر تانے بانے کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے ۔
مجلس کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے اور ملک کا پیسہ چند سرمایہ دارگھرانوں کی ملکیت بن کر رہ گیا ہے۔ اگر وقت رہتے اس سمت میں اہم قدم نہیں اٹھایا گیا توملک کا سیکولراقدارختم ہو جائےگا اور اس کا نقصان صرف مسلمانوں کو نہیں ہوگا بلکہ اس کا خمیازہ پورے ہندوستان کو بھگتنا پڑے گا ۔ اس کے لیے سبھی قوموں کے بیچ باہمی ڈائیلاگ ضروری ہے تاکہ سبھی قوموں کے ساتھ مل کر ملک کی بقا کے لئے کام کیا جا سکے ۔ مجلس نےملک میں بے گنا ہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور این ایس اے کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔