’ہندو شدت پسندوں کے خلاف مقدمہ کمزور کرنے کے لیے دبا‎ؤ ہے‘

10:15AM Fri 26 Jun, 2015

کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کی وفاقی حکومت ہندو شدت پسندوں کے خلاف بم حملوں کے مقدمات ہارنے کی کوشش کر رہی ہے؟ ان دنوں بھارتی میڈیا میں اس سوال پر بحث جاری ہے۔مہاراشٹر میں خصوصی سرکاری وکیل روہنی سالیان کا الزام ہے کہ جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، قومی تفتیشی بیورو (این آئی اے) کی جانب سے ان پر ہندو شدت پسندوں کے خلاف قائم ایک مقدمہ کمزور کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ روہنی سالیان 2008 میں ہونے والے مالیگاؤں بم دھماکے کے مقدمے میں خصوصی سرکاری وکیل ہیں۔ مالیگاؤں میں یہ بم دھماکہ رمضان کے دوران کیا گیا تھا جس میں چار مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔ سبھی ملزمان ہندو ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ’ابھینو بھارت‘ نامی ایک شدت پسند تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔روہنی سالیان کا الزام ہے کہ پہلے گذشتہ برس حکومت کی تبدیلی کے بعد اور پھر 12 جون کو این آئی اے کا ایک افسر ان سے ملنے آیا اور اس نے کہا کہ وہ زیادہ شدت سے کیس نہ لڑیں۔ان سے میبنہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ ’اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ‘ یہ نہیں چاہتے کہ وہ یہ مقدمہ لڑیں۔‘ لیکن جواب میں این آئی اے نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس مقدمے کی ابھی باقاعدہ سماعت شروع ہی نہیں ہوئی ہے اور روہنی سالیان نے بظاہر یہ الزام اس لیے لگایا ہے کہ کیونکہ انھیں سرکاری وکیل کے عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کی جا رہی تھی۔لیکن روہنی سالیان کا کہنا ہے کہ ’مجھے ان کا ایجنڈا نہیں معلوم، لیکن گذشتہ ایک سال میں تفتیش کی رفتار سست ہو گئی ہے۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں کوئی جلدی نہیں ہے۔‘ مالیگاؤں اور گجرات کے موداسا میں ہونے والے بم دھماکوں کے لیے کچھ مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی بیورو (اے ٹی ایس) نے یہ انکشاف کیا کہ ان حملوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں کا ہاتھ تھا۔اس انکشاف کے بعد ہی اجمیر شریف (سات ہلاکتیں)، حیدرآباد کی مکہ مسجد (نو ہلاکتیں) اور سمجھوتہ ایکسپریس (68 ہلاکتیں) میں ہونے والے بم دھماکوں کی از سرنو تفتیش شروع کی گئی اور تفتیشی اداروں کے مطابق ان میں بھی ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ پایا گیا۔ مالیگاؤں میں 2006 میں بھی بم دھماکے کیے گئے تھے جن میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کیس میں نو مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم این آئی اے کی تفیش میں ہندو شدت پسندوں کا ہاتھ سامنے آنے کے بعد عدالت نے انھیں رہا کر دیا تھا۔ مالیگاؤں کے دھماکوں کے سلسلے میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور فوج کے ایک حاضر سروس کرنل پرساد شری کانت پروہت سمیت 12 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے چار کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر باقی آّٹھ کی ضمانت کی درخواست پر بھی جلد ہی سماعت ہونے والی ہے۔ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ حکومت ہندو تنظیموں سے وابستہ تمام ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت مذہب کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔۔۔ عدالت کو (این آئی اے) کے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘ سینیئر وکیل اور سابق ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ اگر سرکاری وکلا کو اس طرح کی ہدایات دی جائیں گی تو پورا نظام عدل ہی تباہ ہو جائےگا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ این آئی اے کے خلاف اس نوعیت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ این آئی اے ممبئی پر 2008 کے حملوں کے بعد صرف بڑے واقعات کی تفتیش کے لیے قائم کی گئی تھی اور مبینہ ہندو شدت پسندوں کو بے نقاب کرنے میں اس نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔روہنی سالیان کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس کے ترجمان نے کہا این آئی اے کے سربراہ کو فوراً ہٹایا جانا چاہیے اور سپریم کورٹ یا بامبے ہائی کورٹ کو خود اس مقدمے کی نگرانی کرنی چاہیے۔