بنک منیجر سے مسلح بدمعاش۳ لاکھ۲۴ ہزارلوٹ کر فرار دہشت کا ماحول
01:42PM Tue 3 Jan, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز)آج صبح تھانہ قطب شیر کے گاؤں سفدل پور میں بائیک سوار مسلح بدمعاشوں نے دھاوابول کر سنڈیکیٹ بنک کے منیجر سے تین لاکھ چوبیس ہزار کی رقم لوٹ لی اور بہ آسانی فرار ہوگئے بدمعاش نے جب یہ لوٹ کی واردات کو انجام دیا تب علاقہ میں راہگیر موجود تھے مگر بد معاشوں کے ایکشن سے کوئی بھی ایک دم یہ نہی سمجھ سکاکہ یہ لوٹ کی واردات ہے اور بنک کی رقم لوٹ لیگئی۔ خبر کے مطابق تھانہ قطب شیر کے گاؤں سفدل پور میں بائیک سوار دو مسلح بدمعاشوں نے سنڈیکیٹ بنک کے منیجر کا اپنے طور سے تعاقب کیا جب بدمعاشوں کو یہ یقین ہوگیا کہ منیجر کے پاس اس وقت لاکھوں کی رقم موجود ہے تب اچانک بدمعاش بنک کے افسر پر ٹوٹ پڑے اور خوف و حراس پھیلاکر رقم لوٹ کر فرار ہوئے گاؤں والوں کا کہناہے کہ سرکار نے جو یوپی ۱۰۰ گاڑیاں ضلع میں عوام کے تحفظ کیلئے اتاری ہیں وہ ہمکو کافی وقت سے گاؤں کی سڑکوں پر نظر ہی نہی آئیں ہیں گاؤں میں موقع واردات پر پہنچے لوگوں کا کہناہے کہ اس طرح کی لوٹ ہمارے علاقوں میں عام ہے پولیس رپورٹ ہی درج نہی کرتی اس لئے لوٹ کا چر چہ ہی نہی ہوتا آج یہ سنگین واردات بنک کی لوٹ سے وابسطہ ہے اسلئے مجبور ہوکر یہ واردات بڑے افسران کی جانکاری میں لانا تھانہ انچارج کی مجبوری تھی گاؤں کے افراد نے کہاکہ لوٹ کی یہ واردات بدمعاشوں نے بڑے اطمینان اور حوصلہ کے ساتھ انجام دی لوٹ کی اطلاع بنک افسر کے چلانے پر ہی ملی تب تک بدمعاش بھاگ چکے تھے۔ تھانہ قطب شیر کے انچارج نے کہاکہ بدمعاشوں کو پکڑ نے کیلئے چاروں سرحدی گاؤں کا سیل کیا گیاہے اور پولیس کی ٹیمیں چھان بین کر رہی ہیں سینئر پولیس افسران اور پولیس کپتان نے اخبار نویسوں کو بتایاہے کہ شاطر بد معاشوں کے خلاف پولیس پارٹی کو بھیجا جا چکاہے جلد ہی لٹیروں کو گرفت میں لے لیاجائیگا۔ قابل ذکر ہے کہ ویسٹ یوپی میں یہ ایسی دسویں لوٹ پاٹ کی سنسنی خیز واردات ہے کہ جسمیں پولیس بدمعاشوں اور ڈکیتوں کو قابو کرنے میں بری طرح سے ناکام ہے گزشتہ سال یہاں تین بنکوں سے رقم لوٹی گئی مگر پولیس ان واردات میں شامل اصل لٹیروں کو ابھی تک گرفتارہی نہ کرسکی ہے آج کی یہ واردات بھی اسی انداز میں انجام دیگئی ہے ۔ آپکو بتادیں کہ ویسٹ اتر پردیش کے چند اضلاع میں گزشتہ سال کے آخری دوماہ کے دوران ڈاکہ ، لوٹ اور قتل کی وارداتیں رونما ہونے سے علاقہ کے عوام میں کافی غصہ اور دہشت پھیلی ہوئی ہے ۔آج کی واردات نے خوف میں مزید اضافہ کر دیاہے اس طرح کے سخت حالات دیکھنے کے باوجود بھی سیاسی نمائندے تماشائی بنے ہیں۔ جرائم پر جرائم ہوتے جارہے ہیں پولیس مجر مانہ ذہنیت رکھنے والے افراد پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے سرکاری مشینری لفاظی کرکے عوام کو دلاسہ دینے میں مشغول ہیں جبکہ یاستی ڈی جی پی جاوید احمد پولیس کو سہی اور بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا بار بار اشارہ کر رہے ہیں مگر سیاسی اثر ورثوخ کے باعث پولیس اصل مجرموں کو پکڑ نہی پارہی ہے ؟ عام چرچہ ابھی بھی گشت کر رہی ہے کہ گزشتہ ماہ کے دوران مراد نگر کے علاقہ اندرا پوری میں رہنے والے اسکریب تاجر شاہد قریشی کے مکان پر گزشتہ ہفتہ رات کے ڈھائی بجے دھاوابولکر گھر کے سبھی افراد کو پہلے اپنے قبضہ میں لیا پھر سبھی کو باندھ کر الگ الگ کمروں میں بند کر دیا لگاتار گھنٹہ بھر گھر کا ایک ایک کونہ دیکھ کر ڈکیت قریب ۵۰ لاکھ کا مال لوٹ کر بہ آسانی فرار ہوگئے تھانہ مراد نگر کے انسپکٹر اور ایس ایس آئی نے ۲۴ گھنٹہ تک اس دلدہلادینے والی ڈکیتی کی خبر کو چھپائے رکھا اور تھانہ مراد نگر کے اندراپوری کے مقامی لوگوں کے تھانہ پر ہنگامہ کرنیپر پولیس نے شاہد ڈکیتی واقعہ کو معمولی لوٹ بتاکر خاموشی اختیار کرلی مگر نوئیڈا کے با اثر اسکرائیب تاجر شاہد کی شکایت پر جب پولیس کپتان نے از خد معاملہ کی چھان بین کرائی تو سچ سامنے آتے ہی پولیس کپتان دیپک کمار نے تھانہ انچارج سبودھ سکسینہ اور ایس ایس آئی روشن سنگھ کو لائن حاضر کر تھانہ میں دو سینئر داروغہ کو نئی تعیناتی دی گئی تاکہ جانچ سہی طور سے کیجا سکے کل دیر شام ایس ایس پی مراد نگر نے بتایاہے کہ گزشتہ ہفتہ شاہد کی گھر پڑے ڈاکہ کے ملزمان کی نشان دہی کر لی گئی ہے اور لٹیرے میرٹھ سے تعلق رکھتے ہیں ابھی اس دلدہلادینے والے معاملہ کی جانچ چل ہی رہی تھی کہ اس واردات کے کچھ ہی دن گزر نیکے بعد ہی اسی وقت اور اسی اہم علاقہ کے آس پاس دیر رات میرٹھ کے تھانہ جانی کے علاقہ گاؤں رسول پور کے رہنے والے باغات کے ٹھیکیدار آس محمد کے یہاں بھی ٹھیک اسی انداز میں درجن بھر مسلح ڈکیتوں نے حملہ بولکر گھر کے سبھی افراد کو ایک کمرے میں بند کر دیا بعد میں ڈکیتوں نے آس محمد سے الماریوں کی چابیاں چھین کر قریب ڈھائی کلو سونا، چھ کلو چاندی، قیمتی کپڑے، الیکٹرانک سامان اور نقد روپیہ لوٹ لئے اندازہ کے مطابق ڈکیت آس محمد کے مکان سے ایک کروڑ کا مال لوٹ کر بہ آسانی فرار ہوگئے ہیں جہاں مراد نگر کے ایس ایس پی دیپک کمار نے شاہد قریشی کے لٹیروں کو گرفتار کر نیکے لئے چھ ٹیمیں تشکیل دی ہیں وہیں آج میرٹھ کے ایس ایس پی جے روندر گوڑ نے دو جانچ ٹیمیں تشکیل دیکر ڈکیتوں کے خلاف مورچہ کھولا ہے تعجب ہے کہ دونوں ڈ اکہ میرٹھ کمشنری میں اقلیتی فرقہ کے افراد کے گھروں میں ایک ہی وقت اور ایک ہی انداز میں ڈالے گئے !
(پاسبان نیوز)