اگست 18: ممتاز شاعر شاذ تمکنت کی برسی ہے
04:10PM Fri 18 Aug, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختصر تعارف
نام : سید مصلح الدین عرف شفیع ، قلمی نام شاذ تمکنت
۔۔۔۔۔۔
پیدائش : 31 جنوری 1933ء بروز منگل حیدر آباد
1941ء : پلی ہائی سکول میں داخلہ
1943ء : والد کا انتقال
1948ء : میٹرک میں کامیابی ( مضمون اختیاری ، تاریخ اسلام)
سٹی سائنس کالج میں داخلہ ( انٹرمیڈیٹ ، سائنس)
والدہ کا انتقال
1949ء : پہلی نظم ۔ والدہ کی یاد میں کہی
سلسلہ تعلیم منقطع
حیدرآباد اور ہندوستان کے رسائل میں کلام کی باضابطہ اشاعت ہونے لگی
1955ء: سیف آباد کالج میں عارضی ملازمت
سلسلہ تعلیم کا دوبارہ آغاز ۔ حیدرآباد ایوننگ کالج میں آرٹس کے مضامین ( تاریخ ، شہریات اور معاشیات) کے ساتھ پی یو سی میں داخلہ
1956ء: سری نگر ریڈیو کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرے میں شرکت ( اگست)
علی گڑھ اور دہلی کی سیاحت
1959ء: محمدی بیگم بنتِ حافظ حسن محی الدین سے شادی ( 24 اپریل)
1960ء: آندھرا پردیش ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
سنٹرل ریکارڈ آفس (ارم منزل) میں بحیثیت کلرک تقرر
ایم ۔ اے اردو میں داخلے کی غرض سے ترکِ ملازمت
ماہنامہ آندھرا پردیش میں اردو ، محکمہ اطلاعات عامہ حکومت آندھرا پردیش میں جزوقتی ملازمت
1964ء: ایم اے ارددو میں بدرجہ اول کامیابی
یونیورسٹی آرٹس اینڈ سائنس کالج میں بحیثیت لیکچرر عارضی تقرر ہنم کنڈہ ( ورنگل) کے محلہ صوبیداری کے مکان نمبر چار سو ستاون بٹہ دو میں قیام ( ستمبر 1962ء تا اپریل 63ء)
1963ء: سلسلہ ملازمت ختم
بدرو کالج آف کامرس حیدرآباد میں ( زبانِ زائد اردو پڑھانے کے لیے) بحیثیت لکچرر تقرر ( 26 جولائی)
1966ء: پہلے مجموعہ کلام ، تراشیدہ ، کی اشاعت
1967ء: انوار العلوم کالج حیدرآباد میں بحیثیت لکچرر و تقرر ( یکم ستمبر)
1972ء: پونہ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ( اگست 1972ء تا مارچ 1973ء)
1973ء: دوبارہ انوار العلوم کالج میں بحیثیت لیکچرر ( مارچ)
1977ء: شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ میں ریڈر کی حیثیت سے تقرر ( اکتوبر)
نیم خواب ( مجموعہ کلام) کی اشاعت
1979ء : پاکستان کا سفر ( مئی)
1981ء: ورقِ انتخاب ( انتخابِ کلام) کی پاکستان سے اشاعت
پاکستان کا دوسرا سفر
سلسلہ علالت کا آغاز ۔ یرقان کے علاج کے لیے دوڈلینڈس نرسننگ ہوم (برکت پورہ ۔ حیدرآباد) میں
1983ء: پی ایچ ڈی کی تکمیل ( مقالہ: مخدوم محی الدین حیات اور کارنامے)
1984ء: علالت ۔ مہادیر ہاسپٹل میں ۔ تین چار دن بعد صحت یابی ( اپریل)
علالت: عثمانیہ ہاسپٹل میں ۔ پندرہ بیس دن یونیورسٹی وارڈ میں مقیم ( جون)
آخری نظم : بہ یادِ فیض (نومبر)
1985:سمن چندرا نرسنگ ہوم میں پندرہ دن زیرِ علاج ( جنوری)
آخری مشاعرہ ۔ ( 11 مئی ۔ ادبی ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ کل ہند مشاعرے میں شرکت)
شدید علالت: دواخانہ اسرٰی میں داخل ۔ ( 16 اگست تا 18 اگست)
وفات: 18 اگست 1985ء۔ اتوار ۔ صبح ساڑھے چار بجے
تدفین بعد نمازِ عصر ۔ قبرستان احاطہ درگاہِ یوسفین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پسند خاطرِ شاذ : چاۓ نوشی ، پان ( تمباکو اور قوام کے ساتھ) پھل ، عمدہ لباس ، خوشبو ، مطالعہ ، خچ و کتابت
محبوب موسیقار: سہگل ، بیگم اختر ، مہدی حسن ، فریدہ خانم ، آشا بھوسلے ، میکش ، محمد رفیع اور مناڈے
محبوب شاعر: میرؔ ، غالبؔ ، مومنؔ ، سوداؔ ، مصحفیؔ ،داغؔ ، انیسؔ ، حالیؔ ، جوشؔ ، فراقؔ جگرؔ ، یگانہؔ ، حسرتؔ، فیضؔ، احمد ندیم قاسمی، عبدالحمید عدم ، ابن انشاء ، اختر الایمان ، ناصر کاظمی اور احمد فراز
محبوب ادیب: کرشن چند ، راجند سنگھ بیدی
محبوب مزاح نگار: مشتاق احمد یوسفی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انعامات و اعزازات
1960ء : آندھرا پردیش ساتیہ اکیڈمی ایوارڈ
1973ء ، 74ء دی یونٹی ایوارڈ ( منجانب ، ہندو مسلم یونٹی فرنٹ آندھرا پردیش)
1977ء: نیم خواب پر انعام ( منجانب ، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی)
1979ء: امتیاز میر ( منجانب ، آل انڈیا میر اکیڈمی لکھنؤ)
1981ء میر ایوارڈ ( منجانب ، آل انڈیا میر اکیڈمی لکھنؤ)
1985ء: مخدوم ایوارڈ ( منجانب اردو اکیڈمی آندھرا پردیش) بعد از مرگ
1986ء: ادبی ایوارڈ: ( منجانب اردو فورم جدہ ، سعودی عربیہ ، بعد از مرگ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا
جب چاہوں تمہیں دیکھوں آئینہ بنا لوں گا
یادوں سے کہو میری بالیں سے چلی جائیں
اب اے شب تنہائی آرام ذرا لوں گا
رنجش سے جدائی تک کیا سانحہ گزرا ہے
کیا کیا مجھے دعویٰ تھا جب چاہوں منا لوں گا
تصویر خیالی ہے ہر آنکھ سوالی ہے
دنیا مجھے کیا دے گی دنیا سے میں کیا لوں گا
کب لوٹ کے آؤ گے اصرار نہیں کرتا
اتنا مرے بس میں ہے میں عمر گھٹا لوں گا
کیا تہمتیں دنیا نے اے شاذؔ اٹھائی ہیں
اک تہمت ہستی تھی سوچا تھا اٹھا لوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات راس نہ آئے اجل بہانہ کرے
ترے بغیر بھی جینا پڑے خدا نہ کرے
میں روز مرتا ہوں اس انتظار کے صدقے
برا نہ مان اگر زندگی وفا نہ کرے
ہم ایک ہو گئے دو دن میں کس طرح اللہ
یہی دعا ہے کوئی تیسرا جدا نہ کرے
منایا جشن شب غم کہ ایک دن تو کٹا
جو تجھ سے چھوٹ کے جیتا رہے وہ کیا نہ کرے
میں اپنی روشنئ طبع سے لرزتا ہوں
مرا جنوں مجھے منزل سے آشنا نہ کرے
میں کیا بتاؤں کہ قربت کا فاصلہ کیا ہے
کہ جیسے گھر تو بنائے کوئی رہا نہ کرے