اگست 18: ممتاز شاعر ، سکرپٹ رائٹر اور نغمہ نگار بشر نواز کا یومِ پیدائش ہے
04:08PM Fri 18 Aug, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امین نواز خاں کے بیٹے،معروف نقاد،ادیب ،ہجو گو،ممتازشاعراور نغمہ نگاربشارت نواز خاں دنیائے ادب میں بشر نواز کے نام سے جانے گئے۔ 18 اگست 1935 کواورنگ آباد، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔والدعلی گڑھ کے فارغ التحصیل اوراورنگ آباد میں ناظم تعلیمات تھے ۔والدہ ممتازفاطمہ عالمہ تھیں جودرس قرآن دیا کرتی تھیں۔انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد گریجویشن کے لئے حیدرآباد کاسفرکیا لیکن اعلی تعلیم مکمل نہ ہوسکی۔ ان کی شاعری کا آغاز 1953میں ہوا۔ وہ 1954سے ہی بڑے بڑے مشاعروں میں مدعو کیے جانے لگے۔ حی آباد کے مشاعرے میں پہلی باران کوممتازترقی پسند شاعر مخدوم محی الدین نے متعارف کروایا ۔شعری مجموعے رائیگاں اوراجنبی سمندرکےعلاوہ ایک تنقیدی مجموعہ نیا ادب نئے مسائل ان کے ادبی آثار ہیں ۔ وہ ترقی پسند تحریک کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔نواز اپنی نظموں کے آہنگ سے بھی پہچانے گئے ۔ایک عرصے تک فلموں سے وابستہ رہے۔ فلم بازارکا نغمہ کروگے یاد توہربات یاد آئیگی انہی کا لکھاہواہے۔ان کے لکھے ہوئے نغمے محمد رفیع ،لتا منگیشکر،آشا بھونسلے سمیت کئی اہم فن کاروں کی آواز میں سامعین تک پہنچتے رہے ہیں۔ریڈیو کے لیے کئی ڈرامے لکھے اور ٹی وی سیریل امیر خسرو کا اسکرپٹ بھی انہی کا لکھا ہوا ہے۔دیو ناگری میں بھی ان کا کلام موجود ہے ۔9جولائی 2015کو دار فانی سے رخصت ہوگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہا
اپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہا
کوئی انجانی سی طاقت تھی جو آڑے آئی
ورنہ ہم نے تو بہر گام سنبھلنا چاہا
چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے
ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا
آنکھیں جلنے لگیں تپتے ہوئے بازاروں میں
دل نے جب بھی کسی منظر پہ مچلنا چاہا
صرف ہم ہی نہیں ہر ایک نے جینے کے لیے
اک نہ اک جھوٹے سہارے سے بہلنا چاہا
کون ہے یہ جو سسکتا ہے مرے سینے میں
کون ہے جس نے مرے خون پہ پلنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوا
رنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سوا
ایسے پہلو میں سما جاؤ کہ جیسے دل ہو
چین ملتا ہے کہاں موج کو ساحل کے سوا
چیخ ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آتی ہے
کون سہتا ہے بھلا وار مقابل کے سوا
خشک پتوں سے چھڑا لیتی ہیں شاخیں دامن
کس نے یادوں سے نبھائی ہے یہاں دل کے سوا
ایک بچھڑے ہوئے سائے کے تعاقب میں بشرؔ
سبھی راہوں پہ گئے ہم رہ منزل کے سوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم
پتہ نہیں وہ کون تھا
جو میرے ہاتھ
موگرے کی ڈال پنکھ مور کا تھما کے چل دیا
پتہ نہیں وہ کون تھا
ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا
نظر کو رنگ دل کو نکہتوں کے دکھ سے بھر گیا
میں کون ہوں
گزرنے والا کون تھا
یہ پھول پنکھ کیا ہیں کیوں ملے
یہ سوچتے ہی سوچتے تمام رنگ ایک رنگ میں اترتے گئے
۔۔۔۔۔۔سیاہ رنگ
تمام نکہتیں ادھر ادھر بکھر گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلاؤں میں
یقین ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں گمان ہے
وہ کوئی میرا دشمن قدیم تھا
دکھا کے جو سراب میری پیاس اور بڑھا گیا
میں بے حساب آرزوؤں کا شکار
انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا
گمان۔۔۔ نہیں نہیں یقین ہے
وہ کوئی میرا دوست تھا
جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو
نظر کو رنگ دل کو نکہتوں سے بھر گیا
پتہ نہیں کدھر گیا
میں اس کو ڈھونڈھتا ہوا
تمام کائنات میں
ادھر ادھر بکھر گیا