اگست 18: آج معروف شاعر اور نغمہ نگار جاں نثار اخترؔ کی برسی ہے
04:12PM Fri 18 Aug, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاں نثار کا خاندانی نام جاں نثار حسین اخترؔ ہے۔ پیدائش 08 فروری 1914ء کو گوالیار میں ہوئی۔ ان کا آبائی وطن خیرآباد ضلع سیتا پور (اودھ) ہے۔ ان کا سلسلہ نسب سادات کے اس گھرانے سے ہے۔ علامہ تفضل حسین جاں نثار اختر کے پرداد تھے۔ علامہ کے بھائی حجرت معشوق علی شاہ بھی ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے ۔ آج بھی خیرآباد میں شاہ صاحب کی درگاہ پر ان کا یوم وفات ایک شاندار عرس کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ جاں نثار اخترؔ کے دادا سید احمد حسین تھے جن کی شادی خیرآباد کے مشہور خاندان میں سید النساء بیگم سے ہوئی جو علامہ فضل امام خیر آبادی کی صاحبزادی اور علامہ عبدالحق خیرآبادی کی چھوٹی بہن تھیں۔ اور خود بھی بہت بڑی عالمہ اور فقیہ تھیں اور بطور شاعر حرماںؔ تخلص کرتی تھیں۔
جان نثار کے دادا کی دو اولادیں تھیں ۔ سید محمد حسین بسملؔ اور سید محمد افتخار حسین مضطر ، سید محمد افتخار حسین نے بحیثیت شاعر بہت شہرت اور ناموری حاصل کی۔ اور آج اردو کا کون طالب علم ایسا ہے جو مضطرؔ خیرآبادی کے نام سے واقف نہیں ۔ یہی افتخار حسین مضطرؔخیرآبادی جاں نثار اخترؔ کے والد تھے۔
ضاں نثار اخترؔ کی ابتدائی تعلیم گوالیار میں ہوئی۔ وکٹوتیہ ہائی سکول گوالیار سے میٹرک کا امتحان سیکنڈ ڈویژذن میں پاس کیا ۔ اس کے بعد علی گڑھ کے انٹرمیڈیٹ کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا ۔ 1934ء میں انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لہا ، 1937ء میں بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی ، 1938ء میں علالت کی وجہ سے ایم اے اردو کے امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔ لیکن 1939ء میں ایم اے اردو کے امتحان میں شریک ہوۓ اور فرسٹ ڈویذن میں کامیابی حاصل کی۔1940ء میں مسلم یونیورسٹی میں ڈاکٹر آف فلاسفی کی تیاری شروع کی تحقیقی مقالہ کا عنوان " اردو ناول اور اس کا ارتقاء تھا لیکن اسی دوران وکٹوریہ کالج میں بحیثیت لیکچرار ان کا تقرر ہو گیا ۔ نتیجے میں تحقیقی مقالے کی تکمیل کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔ دوران تعلیم ان کے پسندیدہ مضامین فلسفہ اور اردو لٹریچر رہے۔ اس کے علاوہ سوشیالوجی (عمرانیات) کے موضوع سے بھی دلسچپی رہی۔
25 دسمبر 1943ء کو جاں نثار اخترؔ کی شادی صفیہ سراج سے ہوئی۔ صفیہ کے والد سراج الحق بارہ بنکوی کے مشہور قصبہ اردوولی کے ایک متوسط درجے کے زمیندار چوہدری احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔
1947ء میںملک آزاد ہوا۔ گوالیار کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اختر نے ریاست بھوپال میں سکونت اختیار کرلی۔ یہاں انھیں حمیدیہ کالج میں صدر شعبہ اردو وفارسی کی جگہ مل گئی۔ اس وقت صفیہ علی گڑھ میں پڑھاتی تھیں، وہ بھی اسی کالج میں لکچرر ہوگئیں۔ اختر ترقی پسند تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ حکومت ہند نے کمیونسٹ پارٹی پر پابندیاں عائد کردیں۔ چوں کہ ترقی پسند تحریک بھی اس پارٹی کی سرگرمیوں کا ایک رخ تھا اس لیے اختر کونوکری سے استعفا دینا پڑا اور انھوں نے بمبئی کی راہ لی۔ صفیہ حمیدیہ کالج، بھوپال میں ملازم رہیں۔ صفیہ، اختر کی جدائی میں کڑھ کڑھ کرتپ دق کے موذی مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ اختر اپنی عسیر الحالی کی وجہ سے ان کا خاطر خواہ علاج نہ کراسکے۔ صفیہ لکھنؤ میں انتقال کرگئیں۔ صفیہ کے خطوط کے دو مجموعے ’’حرف آشنا’’ اور ’’زیر لب‘‘ کے نام سے چھپ چکے ہیں۔
صفیہ کے انتقال کے بعد ممبئی لوٹنے پر جاں نثاار اخترؔ فلم پروڈیوسر سراۓ ارکاردار کے فلم ساز ادارے میں پانچ سو روپے ماہانہ ملازم ہوگۓ۔ فلم " باپ رے باپ" کے میوزک ڈائریکٹر اوپی نئیر تھے جسکے گانے جاں نثار اخترؔ نے لکھے تھے اس طرح جاں نثاار کا اوپی نیر سے تعارف ہوا ۔اور اس کے بعد چار سال تک دونوں کام کرتے رہے۔ اب جاں نثار فلمی دنیا سے پوری طرح وابستہ ہو چکے تھے ۔
بھوپال سے جاں نثار اخترؔ کا تعلق ترک ملازمت کے بعد بھی قائم رہا ۔ اور وہ مشاعروں میں اکثر یہاں آتے رہتے تھے۔ اسی درمیان میں ان کی ملاقات خدیجہ ہارون سے ہوئی جو اخترؔ کی شاعری کی بڑی مداح تھیں ۔ دونوں کو ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ خدیجہ ہارون حسن سیرت اور حسن صورت دونوں صفات کی حامل تھیں۔ یہ اردو ادب کا ستھرا ذوق رکھتی تھیں۔ ان کی شخصیت نے جاں نثار کو بیحد متاثر کیا۔ اور ان کے سہارے کی متلاشی روح کو خدیجہ ہارون کی رفاقت میں تسکیں کا سامان نظر آیا ۔ دونوں کے دلوں میں محبت کی وہ شمع فروزاں ہوئی جس نے ان کی زندگیوں کو دائمی نور عطا کیا ۔جان نثار اخترؔ کی شاعری کی تو خدیجہ پہلے ہی سے دلدادہ تھیں ۔ ان کی قربت پا کر انھوں نے شاعر کے دل کو بھی پڑھا اور آخر کار 17 ستمبر 1956ء کو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گۓ۔۔ خدیجی ہارون اب خدیجہ اخترؔ ہو گئیں۔
جاں نثار نے شاعری کا ذوق وراثت میں پایا تھا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز اور نشوونما علی گڑھ میں ہوئی۔ علی گڑھ کے دوران قیام یہ ’’انجمن اردوئے معلی‘‘ کے سکریٹری رہے اور ایک عرصے تک ’’علی گڑھ میگزین ‘‘ کی ادارت کی۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’سلاسل‘‘، ’’تارگریباں‘‘، ’’نذر بتاں‘‘، ’’جاوداں‘‘، ’’گھر آنگن‘‘، ’’خاک دل‘‘، ’’پچھلے پہر‘‘۔ نومبر ۱۹۷۴ء میں انھیں ’’خاک دل‘‘ پر نہرو ایوارڈ کا تین ہزار روپے کا انعام ملا۔ اترپردیش حکومت نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پانچ ہزار روپے کا عطیہ دیا۔ ان کی وفات کے بعد وزیر اعظم نے اپنے فنڈ سے دس ہزار روپے کا عطیہ ان کے خاندان کی امداد کے طور پر دیا اور اتنی ہی رقم حکومت مہاراشٹر نے دی۔
۔ فلموں کے لۓ انھوں نے بے پناہ گیت لکھے اور شہرت حاصل کی ۔انھیں عارضۂ قلب لاحق ہوگیا تھا اور وہ 18؍ اگست1976ء کو بمبئی میں انتقال کرگئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا
گزر ہی آۓ کسی طرح تیرے دیوانے
قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا
چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی
تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا
میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں
بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا
یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی
تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے
اکارت جائے گا خونِ شہیداں ہم نہ کہتے تھے
عِلاجِ چاکِ پیراہن ہُوا، تو اِس طرح ہوگا
سِیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے
ترانے کچھ دبے لفظوں میں خود کو قید کرلیں گے
عجب انداز سے پھیلے گا زِنداں ہم نہ کہتے تھے
کوئی اِتنا نہ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے
اِنھیں سڑکوں پہ مرجائے گا اِنسان ہم نہ کہتے تھے
نظرلپٹی ہے شُعلوں میں، لہو تپتا ہےآنکھوں میں
اُٹھا ہی چاہتا ہے، کوئی طوُفاں ہم نہ کہتے تھے
چَھلکتے جام میں بھیگی ہُوئی آنکھیں اُتر آئیں
ستائے گی کسی دِن یادِ یاراں ہم نہ کہتے تھے
نئی تہذیب کیسے لکھنؤ کو راس آئے گی
اُجڑ جائے گا یہ شہرِغزالاں ہم نہ کہتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تو نیناں کجرارے اور اس پر ڈوبے کاجل میں
بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں
آج ذرا للچائی نظر سے اُس کو بس کیا دیکھ لیا
پگ پگ اُس کے دل کی دھڑکن اُتری آئے پائل میں
پیاسے پیاسے نیناں اُس کے جانے پگلی چاہے کیا
تٹ پر جب بھی جاوے 'سوچے' ندیا بھر لوں چھاگل میں
صبح نہانے جوڑا کھولے، ناگ بدن سے آ لپٹیں
اُس کی رنگت، اُس کی خوشبو کتنی ملتی صندل میں
چاند کی پتلی نوک پہ جیسے کوئی بادل ٹِک جائے
ایسے اُس کا گِرتا آنچل اٹکے آڑی ہیکل میں
گوری اس سنسار میں مجھکو ایسا تیرا روپ لگے
جیسے کوئی دیپ جلا ہو گھور اندھیرے جنگل میں
کھڑکی کی باریک جھری سے کون یہ مجھ تک آ جائے
جسم چرائے، نین جھکائے، خوشبو باندھے آنچل میں
پیار کی یوں ہر بوند جلا دی میں نے اپنے سینے میں
جیسے کوئی جلتی ماچس ڈال دے پی کر بوتل میں
آج پتہ کیا، کون سے لمحے، کون سا طوفاں جاگ اُٹھے
جانے کتنی درد کی صدیاں گونج رہی ہیں پل پل میں
ہم بھی کیا ہیں کل تک ہم کو فکر سکوں کی رہتی تھی
آج سکوں سے گھبراتے ہیں، چین ملے ہے ہل چل میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھم نے کاٹی ھیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ھیں تاروں کی باراتیں اکثر
عشق راہزن نہ سہی عشق کے ھاتھوں اکثر
ھم نے لٹتی ھوئی دیکھی ھیں باراتیں اکثر
ھم سے اک بار بھی جیتا ھے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ھم جان کے کھالیتے ھیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ھیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتئے ھیں باتیں اکثر
حال کہنا ھو کسی سے تو مخاطب ھے کوئی
کتنی دلچسپ ھوا کرتی ھیں باتیں اکثر
اور تو کون ھے جو مجھ کو تسلی دیتا
ھاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنج و غم مانگے ہے، اندوہ و بلا مانگے ہے
دل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے
چپ ہے ہر زخمِ گلو، چپ ہے شہیدوں کا لہو
دستِ قاتل ہے جو محنت کا صِلہ مانگے ہے
تو بھی اک دولتِ نایاب ہے، پر کیا کہیے
زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے
کھوئی کھوئی یہ نگاہیں، یہ خمیدہ پلکیں
ہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے
راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی
آج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے
بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے
لاکھ منکر سہی پر ذوقِ پرستش میرا
آج بھی کوئی صنم، کوئی خدا مانگے ہے
سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہے
وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے
دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہے
اب توجہ، نہ تغافل، نہ ادا مانگے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ھے کہ تم ھو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب شاخ کوئی ھاتھ لگاتے ھی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
صندل سے مہکتی ھوئی پر کیف ھوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
اوڑھے ھوئے تاروں کی چمکتی ھوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اسقدر مجھے اپنے قریب لگتا ھے
تجھے الگ سوچوں تو عجیب لگتا ھے
جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار
وہ شخص مجھ کو بہت بد نصیب لگتا ھے
حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ھے
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص
کبھی کبھی مجھے سب عجیب لگتا ھے
افق پہ دور چمکتا ھوا کوئی تارہ
مجھے چراغ دیار حبیب لگتا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
کچھ نہ کچھ تیرا احسان اُتارا ہی نہ ہو
کُوئے قاتل کی بڑی دھوم ہے، چل کر دیکھیں
کیا خبر کُوچہء دلدار سے پیارا ہی نہ ہو
دل کو چُھو جاتی ہے رات کی آواز کبھی
چونک اُٹھتا ہوں کہیں تم نے پُکارا ہی نہ ہو
کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر
سوچتا ہوں تیرے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو
زندگی اک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو
درد وہ دے جو کسی صورت گوارہ ہی نہ ہو
شرم آتی ہے کہ اُس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارہ ہی نہ ہو