مختار انصاری کو ہائی کورٹ سے دھچکا، پرچار کے لئے نہیں ملی پیرول

01:48PM Mon 27 Feb, 2017

نئی دہلی،(بھٹکلیس نیوز)بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) رہنما اور پوروانچل کے دبنگ کہے جانے والے مختار انصاری کو دہلی ہائی کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے مختار انصاری کی پیرول کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ انصاری کی پیرول پٹیشن کے خلاف الیکشن کمیشن نے اپیل کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ انصاری کو پیرول ملنے سے قانون بگڑ سکتی ہے۔ کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انصاری کے باہر آنے سے انتخابی تشہیر پر اثر پڑے گا۔معاملے میں ہائی کورٹ نے انصاری کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا تھا۔ تاہم انتخابی مہم کے لئے انصاری کو سی بی آئی کورٹ سے پیرول مل گئی تھی۔انصاری پر نومبر 2005 میں کرشنا نندن رائے کے قتل کا الزام ہے۔ انصاری اس معاملے میں مقدمے کی سماعت کا سامنا کر رہے ہیں۔اس سے پہلے جمعہ کو ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن، انصاری اور اتر پردیش حکومت کی جانب سے دلیلیں سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ وہیں، حکومت نے بھی ممبر اسمبلی کو ملی راحت کی مخالفت کی تھی۔ جسٹس مکتا گپتا نے فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔قابل ذکر ہے کہ حال میں بی ایس پی میں شامل ہوئے انصاری مؤ صدر اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نچلی عدالت نے انتخابی مہم کے لئے گذشتہ 16 فروری کو انہیں چار مارچ تک کے لئے حراست میں پیرول پر رکھا ہے۔ اس سے پہلے انصاری بھائیوں کی پارٹی قومی ایکتا دل کا سماجوادی پارٹی میں ضم ہونے کی خبر تھی۔ انصاری برادران کے اس اقدام کو اکھلیش یادو نے مخالفت کی تھی اور اس کے بعد پارٹی میں تنازعہ ہو گیا تھا۔