پنچایت سرٹیفکیٹ معاملے پر اسٹے کی عرضداشت: این آر سی سمیت فریقین کو 16اگست تک جواب داخل کرنے کی ہدایت
03:43PM Thu 4 May, 2017
’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس‘ مکمل ہوتے ہی فرقہ پرست عناصر کی زبانوں پر تالا پڑ جائے گا: مولانا ارشد مدنی
نئی دہلی (بھٹکلیس نیوز)آسام میں غیر ملکی شہری معاملے میں گوہاٹی ہائی کورٹ کے ذریعے پنچایت سرٹیفکیٹ کو خواتین کی شہریت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کئے جانے سے انکار کر دینے کے فیصلے پر اسٹے دینے کا مطالبہ کرنے والی جمعیۃ علما ہند کی عرضداشت پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے آج تمام فریقین کو جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر بحث کے لئے 16اگست کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ اس سے قبل آج نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس کے اسٹیٹ کورڈی نیٹر پرتیک بجیلا ( آئی ایس ) مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار اور آسام حکومت کے کونسل نے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔عدالت نے این آر سی کے کورڈی نیٹر سے جواب طلب کیا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس کومکمل کرنے میں اور کتنا وقت درکار ہے ۔ ا س پر کورڈی نیٹر نے جواب دیا کہ یہ کام دسمبر ماہ تک مکمل کرلیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے اس لئے تمام فریقین اس معاملے میں اپنے اپنے جواب داخل کریں اور اگر جمعیۃ علما ء ہند چاہے تو ان جوابات پر اپنا جواب داخل کرے ۔ اس معاملے پر آئندہ سماعت اب 16اگست کوہوگی ۔جہاں تک بات پنچایت سرٹیفکیٹ کی ہے تو عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر نہ توابھی پابندی لگائی ہے اور نہ اسے تسلیم کئے جانے کے تعلق سے کوئی ہدایت جاری کی ہے،اس تعلق سے فیصلہ بحث کے بعد ہی ہوگا ۔ سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے معروف وکیل کپل سبل، سلمان خورشید ،وویک کمار تنکھا اور سنجے آر ہیگڑے ، فضیل احمد ایوبی وغیرہ موجود تھے ۔ واضح ہو کہ عدالت نے گذشتہ سماعت کے دوران این آر سی کے اسٹیٹ کورڈی نیٹر کوپارٹی بناتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر کے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے میں اسٹے کیوں نہ جاری کیا جائے ۔ جمعتہ علما ہند کے وکیل فضیل احمد ایوبی نے کہا کہ پنچایت سرٹیفکیٹ تسلیم نہ کرنے کایہ معاملہ ان 48لاکھ خواتین سے متعلق ہے جن کے سر پر غیر ملکی ہونے کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔ وہ خواتین جن کی شادیاں اب سے چار پانچ دہائیوں قبل ہوچکی ہیں اور وہ بیاہ کر دوسرے گاؤں اور شہروں میں چلی گئیں ان کے پاس ہندوستانی شہری ہونے کا پنچایت سرٹیفکیٹ کے علاوہ کوئی اور ثبوت نہیں ہے۔اس صورتحال میں جمعیۃ علما ہند کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاناپڑا ۔ فضل ایوبی نے کہا کہ ابھی تک عدالت عالیہ کا رویہ ہمارے حق میں ہے لیکن یہ شروعات ہے ابھی تو بحث اور جرح ہونی ہے۔ اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر ہوگا ۔ دریں اثنا جمعیۃ علماء آسام کے صدر مولانامشتاق عنفر اور نائب صدر رقیب الحسین نے عدالت کی آج کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ عدالت سے 48لاکھ خواتین کو ریلیف حاصل ہوگی۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولاناسید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ میںآج کی سماعت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ کورڈی نیٹر نیشنل رجسٹر آف سٹی زنس کو پارٹی بنائے جانے اور اس سے جواب طلب کئے جانے کے بعد جمعیۃ کا موقف اور مضبوط ہوا ہے۔عدالت عالیہ نے اب فریقین سے جواب داخل کرنے کوکہا ہے جس میں تمام اصلیت سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس کے مکمل ہوتے ہی نہ صرف فرقہ پرست عناصر کی زبانوں پر تالا پڑ جائے گا بلکہ متعصبانہ ذہنیت رکھنے والے افسران اور حکومت کے ذمہ داران کوبھی آئین اور قانون کے مطابق عمل کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔مولانا مدنی نے کہا کہ خواتین کے معاملے میں شہریت کے ثبوت کے طور پر گاؤں پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم نہ کئے جانے کا فیصلہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا ہے، جو منصوبہ بند لگتا ہے ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ آسام کے اس اہم ایشو کے تعلق سے برادران وطن کوبیدار کیا جائے گا تاکہ انہیں پتہ لگ سکے کہ غیر ملکی شہریت کے نام پر لاکھوں بنگالی( ہندوستانی ) مسلمانوں کو بے وطن کرنے کی سازِ شیں کی جا رہی ہیں ۔مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں ملک کی عدلیہ پر اعتماد ہے اور پورایقین کہ سپریم کورٹ سے انصاف ضرور ملے گا۔