جون : 16- معروف اردو شاعر سید یزدانی جالندھری کا آج یوم پیدائش ہے
07:55PM Sat 15 Jul, 2017
Share:
جون : 16- معروف اردو شاعر سید یزدانی جالندھری کا آج یوم پیدائش ہے
یزدانی جالندھری (1915ء-1990ء) کی ولادت 16 جولائی کو پنجاب کے ادب خیز شہر جالندھر کے گیلانی سادات گھرانے میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام ابو بشیر سیّد عبدالرشید یزدانی
اور والد کا نام سیّد بہاول شاہ گیلانی تھا جو محکمہ تعلیم
میں صدر مدرس تھے. ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔
تقسیمِ برِصغیر سے پہلے ہی ان کا خاندان منٹگمری (ساہیوال)
منتقل ہو گیا اور یزدانی وہاں سےمزید تعلیم کے لیے
اسلامیہ کالج لاہور آ گئے جہاں ان کے دوستوں میں حمید نظامی,نسیم حجازی اور مرزا ادیب جیسے صحافی اور ادیب شامل رہے۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔پہلا شعر پانچویں جماعت میں کہا۔ ابتدا میں اپنے رشتہ کے چچا سیّد فرزند علی شاہ صاحب سے اور بعد ازاں سلسلۂ مصحفی کے استاد شاعر مولانا افسر صدیقی امروہوی اوراستاد تاجور نجیب آبادی سے مشورہ سخن رہا۔
برِصغیر پاک و ہند میں یزدانی صاحب کو اپنے دور کا اُستاد شاعر کہا جاتا ہے۔1933 میں ادبی جریدہ "غالب" کا اجرا کیا جس میں احسان دانش ، خاطر غزنوی اور عبدالحمید عدم ان کی معاونت کرتے تھے۔
کالج کی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ بمبئی کی فلم انڈسٹری میں گزارا جہاں ان کی دوستی ساحر لدھیانوی سے رہی۔ اس دور کے ان کے ادبی دوستوں میں کیفی اعظمی اور جاں نثار اختر کے نام بھی شامل ہیں۔ اسی دوران انہیں خوشتر گرامی کے رسالہ"بیسویں صدی" کی ادارت کا موقع بھی ملا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یزدانی جالندھری پہلے کراچی مقیم رہے جہاں صہبا لکھنوی کےادبی مجلہ "افکار" کی مجلسِ ادارت کے رکن رہے۔ اور چند فلموں کے لیے گیت اور مکالمے بھی لکھے۔ ساٹھ کے عشرے میں کراچی سے مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے۔ یہاں وہ ماہنامہ "نیا راستہ"، "امدادِ باہمی"،" انقلابِ نو"،"محفل"، "اداکار" اور " اردو ڈائجسٹ" کے علاوہ روزنامہ سیاست کے ادارتی عملہ میں بھی شامل رہے۔ یزدانی جالندھری ادارۂ ادب کے سیکریٹری اور پاکستان رایٔٹرز گلڈ کے فعال رکن رہے۔ ان کی تخلیقات محفل ، فنون ، نقوش ، تخلیق ، شام وسحر ، افکار اور پنج دریا جیسے معیاری ادبی جرایٔد میں جگہ پاتی تھیں ۔ ادارۂ ادب ، مجلسِ شمعِ ادب ، مجلسِ سیرت اور ریڈیو پاکستان لاہور کے مشاعروں میں بھی شرکت کرتے تھے۔ یزدانی کے دوستوں میں خوشتر گرامی , طفیل ہوشیار پوری ، انجم رومانی ، شہرت بخاری ، عبدالحمید عدم ، ایف۔ڈی۔گوہر ، شرقی بن شایٔق ، عبدالرشید تبسم ، تبسم رضوانی اورساغر صدیقی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
وفات
یزدانی جالندھری کا انتقال 23 مارچ 1990ء کو لاہورمیں ہوا۔ "روزنامہ جنگ" لاہور کے ادبی ایڈیشن نے احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وحید قریشی، مرزاادیب، انور سدید ،طفیل ہوشیارپوری، حمید اختر اور دوسرے اہم شعراء اور ادباء کے تعزیعتی پیغامات شائع کیے۔
یزدانی صاحب نے ذاتی شہرت و مفاد سے بالا تر ہو کرعمر بھر خاموشی سے اور اخلاص سے گلستانِ ادب و صحافت کی آبیاری کی۔ خوش آیند امر یہ ہے کہ خلوص اور محبّت کی اساس پر انہوں نے دنیائے علم و ادب میں جو یزدانی روایت آغاز کی تھی ان کے صاحبزادگان سیّد خالد یزدانی،سیّد شاہد یزدانی،سیّد ساجد یزدانی، سیّد حامد یزدانی، راشد یزدانی اور ماجد یزدانی اسے مسلسل آگے بڑھانے میں کوشاں ہیں۔۔