سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں لگاتار 16 ویں مرتبہ نہیں ہوسکی نماز جمعہ ، ہڑتال 112 ویں دن میں داخل

04:05PM Fri 28 Oct, 2016

جموں وکشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کی تاریخی جامع مسجد سری نگر کا فوجی حصار توڑنے کی کال ناکام بنادی گئی ہے۔ کرفیو اور بندش کی وجہ سے پائین شہر میں واقع سب سے بڑی مسجد میں مسلسل 16 ویں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی ۔ کشمیر کے حالات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جب پائین شہر میں واقع اس تاریخی جامع مسجد میں مسلسل 16 ویں جمعہ کو بھی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خیال رہے کہ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے تازہ ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر میں اعلان کیا تھا کہ تاریخی جامع مسجد کا فوجی حصار توڑنے کے لئے 28 اکتوبر کو وادی بھر سے عوام تاریخی جامع مسجد کی طرف مارچ کریں گے ۔ اس اعلان سے قبل میرواعظ عمر فاروق نے 25 اکتوبر کو چشمہ شاہی سب جیل سے رہائی پانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جمعہ کو وہ مسلمانان کشمیر کے ساتھ جامع مسجد سری نگر میں جمعہ کی نماز ادا کریں گے اور کرفیو اور بندشوں کی صورت میں اس کی خلاف ورزی کی جائے گی۔ اگرچہ میرواعظ نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ اپنی نگین رہائش گاہ سے تاریخی جامع مسجد کی طرف مارچ کیا، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے میرواعظ کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ نگین منتقل کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق میرواعظ جوں ہی اپنی خانہ نظربندی توڑتے ہوئے مارچ کی صورت میں تاریخی جامع مسجد کی طرف بڑھنے لگے تو وہاں پہلے سے تعینات سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے انہیں حراست میں لیکر پولیس تھانہ نگین منتقل کیا۔ تاریخی جامع مسجد کی طرف مارچ کو ناکام بنانے کے لئے پائین شہر میں بیشتر سڑکوں کو جمعرات کے دن ہی خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ تاہم پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں اور سیول لائنز کے بتہ مالو کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان جمعہ کی صبح کیا گیا۔