اجودھیا معاملہ: یوگی حکومت کے وزیرکا سوال "دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود اتنی بھیڑکیسے جمع ہوئی"؟
12:14PM Sat 24 Nov, 2018
اجودھیا میں وشوہندو پریشد کی 25 نومبرکومجوزہ دھرم سبھا اورشیو سینا سربراہ اودھو ٹھاکرے کے آشیرواد اتسوکولے کرسیاست تیز ہوگئی ہے۔ رام مندرتنازعہ پریوگی حکومت میں کابینہ وزیراوم پرکاش راج بھرنے اپنی ہی حکومت پرسوال کھڑے کئے ہیں۔
راج بھرنے ہفتہ کوکہا کہ جب ضلع انتظامیہ نے شہرمیں دفعہ 144 نافذ کردی ہے تواتنی بڑی تعداد میں شیوسینک اوروشوہندوپریشد کے کارکنان کیسے جمع ہورہے ہیں۔ ضلع انتظامیہ مفلوج نظرآرہی ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی توجہ یہاں نہیں ہے، وہ توانتخابی تشہیرمیں مصروف ہیں۔ جبکہ ریاست کے لوگوں کی سیکورٹی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی ہوتی ہے۔
I welcome Akhilesh’s statement. Section 144 is imposed in Ayodhya, yet the administration is letting people gather there, it means they have failed. The army should be brought: UP Minister O P Rajbhar on Akhilesh Yadav's statement that army should be brought in Ayodhya pic.twitter.com/vmTWN86U6S
— ANI (@ANI) November 24, 2018
اوم پرکاش راج بھرنے کہا کہ سادھو سنت رام مندرکا راگ صرف اس لئے الاپتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے اوران کا پیٹ بھرتا ہے۔ وہیں لاکھوں کا چڑھاوا جوچڑھتا ہے، سادھو سنت نہ تو کھیتی کرتے ہیں اورنہ ہی محنت کا کوئی دوسرا کام کرتے ہیں۔ ان کی آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں ہوتا، اس لئے وہ مندرکا راگ الاپ کراپنی روزی روٹی کا انتظام کرتے رہتے ہیں۔ مندرکولے کران کے دل میں کوئی آستھا نہیں ہوتی۔