کرناٹک میں آئندہ تین روز کے لئے دفعہ 144 نافذ، یدی یورپا نے کہا- ہر حال میں نافذ کریں گے شہریت ترمیمی قانون

03:17PM Thu 19 Dec, 2019

بنگلورو: شہریت ترمیمی قانون پرپورے ملک میں جاری احتجاجی مظاہرہ کےدرمیان کرناٹک میں فوری طورپرآئندہ تین دنوں کےلئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ وہیں منگلوروکے پولیس کمشنرپی ایس ہرش نے بغیراجازت کے شہریت ترمیمی قانون کولے کراحتجاجی مظاہرہ کئےجانےکے خلاف بدھ کو وارننگ دی اورلوگوں اورتنظیموں سےلاء اینڈ آرڈرکے تحت اپنی رائےکا اظہارکرنےکی اپیل کی۔ انہوں نےبتایا کہ سوشل میڈیا پرکئی پیغام پھیلائے جارہے ہیں، جن میں لوگوں سے 20 اور 23 دسمبرکویہاں احتجاجی مظاہرہ کےلئےبڑی تعداد میں جمع ہونےکےلئےکہا جارہا ہے، لیکن پولیس کواحتجاج کرنےکےلئےاجازت لینے سےمتعلق کوئی عرضی نہیں موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے حالانکہ یہ نہیں بتایا کہ احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے کس کس نےکال دی ہے۔  پولیس کمشنرنےیہاں صحافیوں کوبتایا 'ہم نےمتعلقہ اشخاص سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہےکہ اب تک اس طرح کےکسی بھی پروگرام کا منصوبہ نہیں ہے'۔ پولیس نے 38 لوگوں کوکیا گرفتار پولیس کمشنرنےکہا کہ اب تک پولیس کو6 سے7 درخواستیں ملی ہیں، جس کےلئےلاء اینڈ آرڈرکا جائزہ لیا گیا تھا اوراحتجاجی مظاہرہ کرنےکی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نےکہا 'دو دن پہلے، ہم نےاحتجاج کرنےاورکرناٹک پولیس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنےکےلئے38 مظاہرین کوحراست میں لیا تھا، کیونکہ احتجاج کےلئے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی'۔ انہوں نےکہا کہ جوبھی احتجاج یا ریلیوں کے طورپراپنی رائے رکھنا چاہتے ہیں، وہ مقامی پولیس تھانےمیں اجازت کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ پولیس کمشنرنے 20 اور23 دسمبرکے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق کہا کہ اگرکوئی 'اس طرح کی افواہوں کوپھیلاتا ہےاوراحتجاج میں شامل ہونےکےلئےلوگوں کواکساتا ہے، تواس طرح کے لوگوں یا گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی'۔
وزیراعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ کا موقف وہیں کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے ریاست میں شہریت ترمیمی قانون صد فیصد نافذ کرنےکا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے ہبلی میں ایک سوال کے جواب میں نامہ نگاروں سےکہا، 'ہم اسے صد فیصد نافذ کریں گے'۔  دوسری جانب کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے بدھ کوبی جے پی کی قیادت والی بی جے پی حکومت پرالزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کےلئےاین آرسی اورشہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ ایک طبقے کو نشانہ بنا رہی ہے اورملک میں 'سیکولرازم کی وراثت' کو ختم کررہی ہے۔ انہوں نے کانگریس پربھی تنقید کی ہے۔ واضح رہےکہ مغربی بنگال، پنجاب، کیرلا، مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ جیسی ریاستوں کے وزرائےاعلیٰ نےکہا ہےکہ وہ اس قانون کونافذ نہیں کریں گے۔