ممبئی: عمارت سانحہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 14 پہنچی
05:10PM Wed 17 Jul, 2019
ممبئی: عروس البلاد ممبئی میں مسلم اکثریتی علاقہ ڈونگر ی میں ایک صدی قدیم چار منزلہ عمارت قیصر بائی منزل کے منہدم ہونے کی وجہ سے 14 افراد کے ملبے میں دب کرجاں بحق ہوگئے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں علاقہ میں صف ماتم بچھ جانے کی وجہ سے میونسپل کارپوریشن اور مہاڈا کے خلاف غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ آج آرپی آئی کے رہنماءاور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور متاثرین خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا جبکمہلوکین کے ورثاءکو 5-5 لاکھ اور زخمیوں کو پچاس ہزاردینے کاوزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کا اعلان کیا ،نیز زخمیوں کے طبّی بل کی ادائیگی حکومت مہاراشٹر کرے گی۔
واضح رہے کہ یہاں رات بھر فائربریگیڈ ،این ڈی آرایف اور مقامی این جی اوز کی مددسے راحتی کام جاری رہا ممبئی میں ڈونگری علاقے میں منہدم ہونے والی قیصر بائی نامی عمارت سے مزید لوگوں کو نکالنے کے نتیجے میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 14 تک پہنچ گئی ہے۔جبکہ دوبچوں سمیت 9 افراد کو بحفاظت ملبے سے نکال لیا گیا۔جنوبی ممبئی کے شہریوں کی مدد سے ایم ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں کام میں مصروف ہیں،اس علاقے میں متعدد پرانی عمارتیں واقع ہیں۔ان تنگ گلیوں میں جے بی سی اور دیگر بڑی مشینیں لیناجانا مشکل ہوا۔ممبئی میں خصوصی طور جنوبی اور جنوب وسطی علاقے میں ں ایسی سینکڑوں عمارتیں واقع ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے ڈونگری میں عمارت منہدم ہونے کے واقعہ کے بعد پیداشدہ حالات کا ایک میٹنگ میں جائزہ لیا اور اس میٹنگ میں ریاستی وزراءرادھاکرشن وکھے پاٹل،گریش مہاجن ،سبھاش ڈیسائی وغیرہ اور میونسپل کمشنر پروین پردیسی ،پولیس کمشنر سنجے بروے اور مہاڈا ۔محکمہ رہائش کے افسران بھی موجودتھے۔اس موقع پر سی 1عمارتوں کی ازسرنوتعمیرات کی رکاوٹوں کو دورکرنے کے لیے نیا قانون تشکیل دینے اور ٹرانزٹ فراہم نہ کیے جانے کی شکل میں مکین کودوسال کا کرایہ اداکرنے کا فیصلہ بھی کیا جائے گا جبکہ مہاڈا کہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایک تعمیراتی فریق کے طورپر وہ کلسٹر ڈیولپمنٹ کرائے۔
این ڈی آرایف کے سربراہ سچنندا گاوڑے نے کہا کہ راحتی رات بھر جاری رہا اور آج بھی ملبے ہٹایا جارہا ہے ،مرنے والوں میں چھ مرداور چار عوریں شامل ہیں جبکہ تین بچے بھی موت کاش کار بن گئے ہیں۔تقریباً نو لوگوں کو جے جے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔بتایا کہ نچلی منزل پر ایک ہوٹل تھا اور کسے پتہ نہیں ہے کہ وہاں کتنے لوگ موجودتھے،اس لیے ملبے کی صفائی کا کام جاری ہے۔