جولائی 14:-ممتاز شاعر حمایت علی شاعرؔ کا یومِ پیدائش ہے
07:01PM Thu 13 Jul, 2017
Share:
از : ابو الحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام میر حمایت علی اور شاعرؔ تخلص ہے۔۱۴؍جولائی۱۹۲۶ء کو اورنگ آباد(دکن) میں پیدا ہوئے۔ روزنامہ ’خلافت‘ میں کام کیااور ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔۱۹۶۳ء میں سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔حمایت علی شاعر نے فلموں کے لیے گانے بھی لکھے ۔ شاعری میں ایک نیا تجربہ’’ثلاثی‘‘ کے تحت کیا ہے جس میں تین مصرعے ہوتے ہیں۔ حمایت سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے بھی منسلک رہے۔آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’آگ میں پھول‘، ’شکست آرزو‘، ’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘، ’حرف حرف روشنی‘، ’دود چراغ محفل‘(مختلف شعرا کے کلام)، ’عقیدت کا سفر‘(نعتیہ شاعری کے ساتھ سو سال، تحقیق)، ’آئینہ در آئینہ‘(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ’ہارون کی آواز‘(نظمیں اور غزلیں)، ’تجھ کو معلوم نہیں‘(فلمی نغمات)، ’کھلتے کنول سے لوگ‘(دکنی شعرا کا تذکرہ)، ’محبتوں کے سفیر‘(پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام)۔ حمایت علی شاعر کونگار ایوارڈ(بہترین نغمہ نگار)، رائٹرگلڈآدم جی ایوارڈ، عثمانیہ گولڈ مڈل (بہادر یار جنگ ادبی کلب) سے نوازا گیا۔ ان کی ادبی اور دیگر خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمایت علی شاعر کا نام اردو زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ گذشتہ پانچ دہائیوں پر پھیلا ہے۔ ریڈیو پر صداکاری ہو یا پھر ٹی وی پروگراموں کی تنظیم ، مشاعرے ہوں یا پھر تحقیقی کام ، حمایت علی شاعر نے بہت سی اصناف میں کام کرکے اپنا سکہ جمایا ہے۔
اورنگ آباد، بھارت کے ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے حمایت طراب ، جنہیں اردوزبان و ادب سے محبت کرنے والی دنیا حمایت علی شاعر کے نام سے جانتی ہے، اپنے والد کی خواہش کے برعکس فوج کی بجائے ِ ادب کے شعبےسے وابستہ ہوئے۔
وہ کہتے تھے کہ جب میں حمایت طراب تھا اس زمانے میں افسانے لکھا کرتا تھا۔ تو ظاہر ہے کہ ایک تو افسانے اور پھر عمر کے تقاضے ۔ ایک دن ہمارے ابا ناراض ہو گئے کہ ایسے افسانے تم میرے نام سے لکھتے ہو۔ کیونکہ میرے نام میں ان کا نام شامل تھا ۔ تو پھر میں نے شاعری شروع کردی اور اپنا تخلص ’’شاعر ‘‘کر لیا اور ان کا نام چھوڑ دیا۔
یہ ان کی عام ڈگر سے ہٹ کر چلنے کی روش ہی تھی ، کہ تقسیم ِ ہند کے موقع پر باقی خاندان کے بھارت میں رہ جانے کے باوجود انہوں نے اپنے لئے پاکستان کی طرف ہجرت کرنا پسند کیا ۔ وہ 1950ء کے اوائل میں کراچی آکر ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔
حمایت علی شاعر حیدرآباد دکن ریڈیو پر بھی کام کرتے رہے اور نہ صرف یہ کہ ریڈیو ڈراموں میں کام کرتے تھے بلکہ اناؤنسر بھی تھے، خبریں بھی پڑھتے تھے اور کمنٹری بھی کرتے تھے۔ پھر اخبارات میں لکھتے بھی رہے۔ پھر جب پاکستان آۓ تو یہاں بھی انہیں ریڈیو میں نوکری مل گئی۔
ریڈیو میں مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کے ساتھ 60ء کے عشرے میں انہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت نگار قدم رکھا اوربہت سے نگار ایوارڈز اپنے نام کیے۔
صحافتی ، ادبی اور تحقیقی حوالے سے بے شمار کتابوں کے اس خالق کو 2002ء میں حکومت ِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی دیا گیا۔
حمایت علی شاعر نے نہ صرف عربی و اردو نعت کی سات سو سالہ تاریخ پر مفصل تحقیق کی، بلکہ انہوں نے اردو ادب میں غزل کے آغاز سے لے کر عصر ِ حاضر تک غزل کے بدلتے اسلوب اور روایات کے ساتھ ساتھ شعراء کرام کے انداز پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔تاہم وہ علامہ اقبال کو اردو شاعری کی سب سے قدآور شخصیت مانتے تھے
" آئینہ در آئینہ" ان کی منظوم سوانح ِ حیات ہے۔ اردو میں سوانح حیات نہیں لکھی گئی۔ چھوٹی موٹی کہانیاں لو سٹوری ٹائپ چیزیں تو منظوم لکھی گئیں۔ لیکن پوری زندگی قلم بندکرنا مشکل ہے۔ جس میں زندگی کی مشکلات اور باقی تمام مسائل بھی ہیں۔ تو یہ پہلی بار انہوں نے لکھا اور یہ ان کی ہمیشہ ایک آرزو رہی تھی کہ کوئی ایسا کام کروں کہ جو میرے نام سے منسوب رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ شاعر صاحب ایک قادر الکلام اور بسیار گو شاعر ہیں۔ اردو شاعری کی مقبول و معروف اصناف میں سے شاید ہی کوئی صنف ایسی ہو گی جس میں آپ نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ غزل تو خیر ایسی صنف سخن ہے جس پر ہر دَور کے ہر شاعر نے کسی نہ کسی حد تک فکر کی ہے اور اس میں اپنی جودت طبع کے جوہر دکھائے ہیں چنانچہ شاعر صاحب نے بھی خاصی بڑی تعداد میں غزلیں کہی ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے نظم پر بہت محنت، وقت اور صلاحیت صرف کی ہے۔ آپ کی نظموں میں کچھ تو بہت طویل ہیں اور کچھ کم طویل۔ مختصر نظمیں آپ کے یہاں کم ہی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے پابند نظمیں بھی کہی ہیں، آزاد نظموں پر بھی قلم اٹھایا ہے اور نظم معرّیٰ پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ موضوع کے اعتبار سے بھی ان کی نظموں میں بہت تنوع ہے۔ سیاسی، سماجی، قومی اور تاریخی نظموں کے علاوہ انہوں نے افسانوی نظم، منظوم تمثیل، تمثیلی غنائیہ وغیرہ کے پیرائے میں متعدد منظومات لکھی ہیں۔ علاوہ ازیں قطعات اور رباعیات بھی کلیاتِ شاعر کی رونق ہیں اور جاپانی روایت (یعنی ۵۔ ۷۔ ۵ بولوں کی ترتیب )پر مبنی ہائیکو بھی کتاب میں موجود ہیں۔ اس ضمن میں آپ نے ایسے عام اُردو ہائیکو نگاروں کی طرز نگارش سے صحت مند گریز کیا ہے جو ہر سہ مصرعی تخلیق کو ہائیکو کہنے میں عارمحسوس نہیں کرتے ہیں۔ ان سب اصناف سخن میں فکر سے مستزاد شاعر صاحب نے نظم گوئی میں گاہے گاہے اجتہاد سے بھی کام لیا ہے۔ لہٰذا آپ کے یہاں ’’ایک مصرعہ۔ ایک نظم‘‘ کے عنوان سے یک مصرعی نظم (اگر ایسی کوئی چیز ہو سکتی ہے تو!) ملتی ہے نیز رباعی کی تقلید میں ایک نئی سہ مصرعی صنف سخن ’’ثلاثی‘‘ کی ایجاد و ترویج کا سہر ا بھی آپ کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ آپ نے اتنی مختلف النوع شاعری پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ فلمی دنیا میں بھی گیت نگاری کی طرح ڈالی ہے چنانچہ کلیات میں آپ کے فلمی نغمات، بھجن، قوالیاں، لوریاں، شادی بیاہ کے گیت، مزاحیہ منظومات بھی اپنے قارئین کو دعوت فکر و نظر دیتے ہیں۔ کتاب میں ’’یاد رفتگاں ‘‘، کے عنوان سے مرحوم دوستوں اور عزیزوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا ہے اور اس کا ایک باب شاعر صاحب نے اپنی اہلیہ مرحومہ کی یاد میں کہی گئی منظومات کے لئے مختص کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلیات شاعر کی ایک سو گیارہ غزلوں کے تقریباً ساڑھے چھ سو اشعار میں موصوف نے لفظ ’’دل‘‘ کم و بیش پچانوے (۹۵) مرتبہ باندھا ہے اور پانچ اشعار پر مشتمل ایک غز ل تو ایسی ہے جس کی ردیف ہی ’’دِل‘‘ ہے۔ اس کلیدی لفظ کی روشنی میں موصوف کی غزل کو دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند اشعار ملاحظہ کیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سناٹے میں رہ رہ کے یوں دھڑک اٹھتا ہے دل
جیسے کوئی آواز دیے جاتا ہے مجھ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کچھ بھی گذرنا ہے مرے دل پہ گذر جاۓ
اُترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جاۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جاۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جب اس آرزو پر وقت اور حالات پانی پھیر تے نظر آتے ہیں تو پھر یہ دھڑکن طرح طرح کے اندیشوں اور وسوسوں کا شکار ہو جاتی ہے اور شاعر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل بھی ہے رہنِ غیر،بدن بھی ہے رہنِ غیر
اپنی کلاہِ کج ہے بہ حالِ زبوں ہنوز
جو شاخ بے ثمر ہے یہاں،سر بلند ہے
اور شاخ باردار کا ہے سرنگوں ہنوز
شاعر میں شعر بھی نہ کہوں اب تو کیا کروں
دل تھا جو بے سکوں،سو ہے بے سکوں
۔۔۔
اب تو ہر شور طرب سن کر دہل جاتا ہے دل
جانے کس اندیشہء فردا سے گھبراتا ہے دل
پھر نہ لٹ جاۓ کہیں منزل پہ اہل کارواں
اٹھتے جاتے ہیں قدم اور بیٹھتا جاتا ہے دل
شاعر ایسی چوٹ کھائی ہے بہ فیض دوستاں
دوستی کے نام سے اب لرز جاتا ہے دل
اہل درد۔اہل خرد،اہل نظر سب سو گۓ
سب کو بیداری کا دعویٰ تھا مگر سب سو گۓ
اس عام بے حسی کے ہاتھوں وہ شہر نا پرساں میں بے حال اور نالاں و پریشاں ہو جاتے ہیں تو لوگوں کو للکارتے بھی ہیں اور ان کے لب و لہجہ میں درشتی اور تلخی بھی آ جاتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی ’’وہی ڈھاک کے تین پات‘‘ نکلتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آتش کدہء دل کو ہوا کیوں نہیں دیتے؟
پتھر تو نہیں لوگ،صدا کیوں نہیں دیتے؟
سایہ ہے کہ خورشید کے دل کی ہے سیاہی
محرم ہوں تو یہ راز بتا کیوں نہیں دیتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی ان کی زندگی کا المیہ ہے جس نے ان کی شاعری کو ایک نوحہ میں بدل دیا ہے۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ پاکستان بہت سی امیدوں کے ساتھ گئے تھے۔ وہاں نہ صرف ان کو ایک عام بے توجہی اور ایک ہندوستانی ہونے کے ناطے شک و شبہ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اُ ن کی وطن دوستی کو وطن دشمنی سمجھا گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان پر ہندوستان کا ایجنٹ ہونے کا الزام تک لگایا گیا۔ یہ’’ موئے پر سَو دُرّے ‘‘ ان کی دل شکنی اور آزردگی کے تابوت میں آخری کیل کا حکم رکھتے تھے چنانچہ وہ اپنے اور وطن کے حالات سے بالکل ہی نا اُمید ہو کر اگر یہ کہتے ہیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہے
دل سے جو ترے غم کے پرستار نہ ہوتے
اس شان سے رسوا سر بازار نہ ہوتے
سینے میں جو دل بن کے دھڑکتا نہ غم عشق
ہم اہل جنوں آج سردار نہ ہوتے
یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے
ملتے ہیں یہاں لوگ بہت روپ بدل کے
آۓ ہیں غم عشق میں ایسے بھی مقامات
دل خون ہوا آنکھ سے آنسو بھی نہ ڈھلکے
کانوں میں آ رہی ہے کسی صور کی صدا
دھڑکے ہوۓ ہیں دل کسی روز حساب سے
بیدار دل میں ہے کوئی بے نام خوف سا
سہیمی ہوئی ہے روح سوال و جواب سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر صاحب آزادی کے بعد دو ہجرتوں کا شکار ہوئے ہیں۔ پہلی مرتبہ ان کو اپنا وطن مالوف ہندوستا ن چھوڑ کر پاکستان جانا پڑا۔ وہاں کے حالات شروع سے ہی ہمت شکن اور صبر آزما رہے ہیں۔ وہاں جا کر ایک ایسا وقت بھی آیا جب ان پر مصلحت پرست حلقوں نے ہندوستان کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا۔ ہندوستان اور پاکستان کے جذباتی اور ہیجانی ماحول میں ایسے الزام سے زندگی پر جو اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ان کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ اس ہجرت کے بعد آپ کو پاکستان سے کینیڈا کی ہجرت بھی پیش آئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کینیڈا میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا اور اس صدمے نے انہیں بالکل ہی نڈھال کر کے رکھ دیا۔ یہ ذاتی کرب ان کے یہاں اشعار بن کر نمایاں ہوا ہے اور ممکن نہیں ہے کہ کوئی ان کے اشعار پڑھے اور متاثر نہ ہو :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں تو کٹتی ہی رہے گی غم دوراں میں حیات
آج کی رات غم یار کی باتیں ہی سہی
زندہ رہنے کی کبھی تو کوئی صورت نکلے
عالم عشرت دیدار کی باتیں ہی سہی
اب تو تنہائی کا یہ کرب نہ ہو گا برداشت
کچھ نہیں تو در و دیوار کی باتیں ہی سہی
کوئی تو بات چھیڑے آج جی بہت اداس ہے
حسرت کوچہء دیدار باتیں ہی سہی
ذہن چنتا جاۓ مجھ کو جسم کی دیوار میں
اور دل لے جاۓ اپنے آپ سے باہر مجھے
آتے آتے آنکھ تک دل کا لہو پانی ہوا
کس قدر ارزاں ہے خون کا سودا یہاں
نہ جانے اہل نشیمن پہ کیا گھڑی آئی
قفس میں چیخ اٹھا ہے سکوت تنہائی بھی
قدم قدم پہ کھلے ہیں ہزار لالہ و گل
جو کام آئی تو اپنی ہی آبلہ پائی
کوئی تو بات تھی ہم کو جو ملا رتبہء دیدار
وگرنہ شہر میں کچھ کم نہ تھے سودائی
یوں موت کو حیات کا انعام کر لیا
جو بھی کفن کیا اسے احرام کر لیا
آزاد ہو کے اور بھی پابند ہو گۓ
ایسے اڑے کہ خود کو تہ دام کر لیا
اب ترے ذکر ہی سے عبارت ہے زندگی
ہر اک نفس کو میں نے ترے نام کر لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان روزِ اوّل سے ہی سیاسی، معاشی، معاشرتی اور لسانی مسائل کا شکار رہا ہے۔ موقع پرست اور وطن دشمن قوتوں نے وہاں کے حالات خراب سے خراب تر کرنے میں کوئی کسر کبھی نہیں چھوڑی۔ جس بنیاد پر یہ ملک بنا تھا وہ انتہائی کھوکھلی ثابت ہوئی اور غریب عوام کا جس طرح مذہب، صوبائیت، زبان، فرقہ وغیرہ کے نام پر خویش پرور اَرباب اختیار، وڈیروں اور مذہب کے ٹھیکے داروں نے استحصال کیا اور ایک کبھی نہ ختم ہونے والے قتل و غارتگری اور دہشت گردی کے دَور کو ملک اور قوم پر تھوپ دیا اُس کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ہی ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ’’شود ہم پیشہ با ہم پیشہ دشمن‘‘ کے مصداق مقامی ادبی حلقے بھی انہیں دیکھ کر خوش نہیں ہوئے ہوں گے۔ ایسی صورت حال کا اثر ایک شاعر پر زیادہ ہی ہوتا ہے کیونکہ نہ صرف وہ بھی اس پریشانی اور بربادی کا شکار ہوتا ہے بلکہ اپنے تجربات و مشاہدات، خیالات و جذبات کو موثر طرح سے دُنیا کے سامنے پیش کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے۔ شاعر صاحب بھی اگر وطن کی زبوں حالی پر آنسو بہاتے ہیں تو کوئی حیرت کا مقام نہیں ہے۔ ان کا دلی غم اشعار میں جا بجا تلخی بن کر جھلکتا ہے۔ اس سے زیادہ شاید وہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راہ زن کے بارے میں اور کیا کہوں کھل کر
میر کارواں یارو،میر کارواں یارو
صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو
بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ہے
مرے الاؤ میں اب خاک کے سوا کیا ہے
یہ شہر سجدہ گزاراں،دیار کم نظراں
یتیم خانہ،ادراک کے سوا کیا ہے
تمام گنبد و مینار و منبر و محراب
فقیہِ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے
تمام عمر کا حاصل بہ فضل رب کریم
متاع دیدہء نمناک کے سوا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق تو بہرکیف عشق ہی ہوتا ہے چنانچہ باوجود حالات کی ناسازگاری کے وہ اپنے ’’عشق لا حاصل‘‘ کے انگیز کرنے پر گاہے گاہے احتجاج بھی کرتے رہے اور قوم، ملک اور معاشرہ کو للکارتے بھی رہے لیکن ضمیر فروشی کے دَور میں کس کو فکر تھی کہ قوم، عوام یا ملک کی حالتِ زار پر اُن کے ساتھ خون کے آنسو بہاتا، اپنے گریبان میں جھانک کر عبرت حاصل کرتا اور سب کی فلاح و بہبودی کی راہ نکالنے کی جانب مائل ہوتا۔ دیکھئے کہ شاعر صاحب کس انداز سے اپنے ارد گرد کے منظر کا رونا روتے ہیں اور کس طرح وہ ہار کر خاموش ہو جانے پر مجبور ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا تو ایک ہے لیکن خدا کے گھر بہت
کہ ملکیت کے بہانے زمین پر ہیں بہت
اسی بہانے مقدر کا فیض جاری ہے
فقیہہَ شہر کے فتوے بھی معتبر ہیں بہت
غریب کے لۓ دنیا میں ایک چھت بھی نہیں
امیر کے لۓ دیوار و بام و در ہیں بہت
سواد ہے اگر سر میں تو ٹکراتے نہیں کیوں؟
دیوار میں در کوئی بنا کیوں نہیں دیتے؟
بیٹھے ہو جو یوں جسم کی قبروں میں سمٹ کر
کتبہ بھی سر قبر لگا کیوں نہیں دیتے؟
ہر قدم پر نت نۓ سانچے مین ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
کس لۓ کیجیۓ کسی گم گشتہء جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس
پیش و بس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ
اپنے ساۓ ساۓ سرنہوڑاۓ آہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ
شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ
شاعر ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کے تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب رات ڈھلی، تم یاد آئے
اک نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
نہ چھڑاسکوگے دامن
حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں
خداوندا،یہ کیسی آگ سی جلتی ہے سینہ میں
نوازش کرم، شکریہ مہربانی