مسلم فورم نے وزیرِ اعظم کی جانب سے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کئے جانے کا خیر مقدم کیا

02:20PM Wed 28 Sep, 2016

سارک کانفرنس کا بائیکاٹ وزیرِ اعظم کے ذریعہ مناسب وقت پر کیاگیا زود اثر اقدام: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ28؍ستمبر: ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کئے جانے کے فوراً بعد فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس( ایف ایم ایس اے) نے ایک ہنگامی میٹنگ منعقد کرکے وزیرِ اعظم ہند مسٹر نریندر کے ذریعہ سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کا سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کئے جانے کا فیصلہ مناسب وقت پر لیاگیا ایک زود اثر اقدام ہے جس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیاجانا چاہئے کیونکہ پاکستان کی جانب سے ہند کے خلاف ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی نفی میں یہ ایک زود اثر اقدام ہوگا۔ فورم فار مسلم اٹڈیز اینڈ اینالائسس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک عظیم الشان اقتصادی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہچان ہی امن، محبت، بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہے اور ہندوستان نے روزِ اول سے ہی مسائل کے پُر امن حل میں یقین رکھا ہے لیکن پاکستان مسلسل نہ صرف ہمارے ملک میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دیتا رہا ہے بلکہ کشمیر میں بد امنی اور عدم استحکام پھیلاکر معصوم اور بے گناہ افراد کی جان و مال سے کھلواڑ کر رہا ہے جو ایک غیر انسانی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخباری رپورٹوں کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا ہے جو اس امر کا مظہر ہے کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے پاکستان کو بہتر طور پر ہندوستان کی حیثیت اور پاکستان کی اوقات دکھادی ہے جس پر سارا ہندوستان فخر کرتا ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ہندوستانی وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا فیصلہ محض پاکستان کو ایک وارننگ دینے کی غرض سے کیا ہے جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دانشور طبقہ کو امن اور عدم تشدد کے نام پر وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کے فیصلہ پر تنازعہ پیدا کرنے کی جگہ ان کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور خصوصی طور پر پاکستانی فوج کی سرپرستی میں ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری ہیں جن سے ساری دنیا واقف ہے اور پاکستان اب کہیں بھی اپنا منھ دکھانے لائق نہیں رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے سامنے ایک چیلنج سے بھرپور وقت ہے اور ہمیں ایک محبِ وطن ہندوستانی ہونے کے ناطے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں اور تمام مسلم تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستانی اشیاء کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی میں اپنے اعتماد کا مظاہرہ کریں تاکہ پاکستان کبھی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکے اور ہندوستان اسے ہر سطح پر اس کی اوقات دکھاسکے