کشمیر میں 133 دنوں بعد ہڑتال میں دو روزہ ڈھیل شروع، جامع مسجد کا محاصرہ ہٹا لیا گیا

04:32PM Sat 19 Nov, 2016

وادی کشمیر میں ہفتہ کو 133 دنوں بعد کوئی ہڑتال نہیں رہی جس کے باعث نہ صرف معمولات زندگی بحال ہوئے بلکہ وادی کے تمام بازاروں بالخصوص سری نگر کے سیول لائنز میں عرفہ جیسا سماں نظر آیا۔ وادی میں اتوار کو بھی کوئی ہڑتال نہیں ہوگی۔ 133 دنوں بعد ہڑتال میں دو روزہ ڈھیل کا اعلان علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جاری کردہ اپنے تازہ ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر میں کیا تھا۔ سول سکریٹریٹ کے نزدیک واقع بتہ مالو جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بڑی مسافر گاڑیاں (بسیں) 9 جولائی سے کھڑی ہوئی تھیں، میں آج صبح خاصی چہل پہل نظر آئی ۔ بتہ مالو بس اسٹینڈ میں ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو اپنی گاڑیاں صاف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بس اسٹینڈ کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں افراد نے اپنے اسٹال لگائے تھے جو مختلف اشیاء خاص طور پر گرم ملبوسات اور پھل فروخت کررہے تھے۔ وادی میں گزشتہ 133 دنوں میں پہلی مرتبہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نمودار ہوا اور سری نگر کے سیول لائنز میں ٹریفک جام کے بدترین مناظر دیکھنے کو ملے۔ وادی 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی اور اُن کے دو دیگر ساتھیوں کی جنوبی کشمیر کے ایک گاؤں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد ابل پڑی تھی۔ برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف وادی کے اطراف واکناف میں بھڑک اٹھنے والے شدید پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کو مختلف علاقوں میں 55 دنوں تک جاری رکھا گیا تھا۔ کشمیری عوام کے لئے حق خودارادیت کا مطالبہ کررہے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان مسٹر گیلانی و میرواعظ اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یاسین ملک نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر جاری کرنے کا سلسلہ جاری کیا تھا، جس کو اجراء کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری قوم نے گزشتہ ساڑھے چار ماہ کے دوران ایک اخلاقی فتح حاصل کی ہے ۔ وادی میں گزشتہ 133 دنوں کے دوران سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں کم از کم 95 عام شہری ہلاک جبکہ 15 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں سینکڑوں افراد بالخصوص نوجوان ایسے ہیں جو چھرے لگنے سے اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔