کرناٹک میں12فیصد والے اعلیٰ عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں

02:13PM Sun 6 Aug, 2017

مسلمان18فیصد ہونے کے باوجود ناکام ایسا کیوں ؟ ضمیر احمد خان بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) مسلمان کسی بھی پارٹی میں اپنا لوہا منانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے کرناٹک میں لنگا یت فرقہ کی آبادی 12 فیصد ہے وہ ہر پارٹی میں اپنے فرقہ کیلئے پارٹی کی صدارت اور وزرات اعلیٰ کا عہدہ طلب کرتے ہیں اور بات کو منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی 18فیصد ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ کا عہدہ تو دور کی بات کسی بھی پارٹی میں صدارت کا عہدہ بھی نہیں حاصل نہیں کرسکتے ۔ یہ بات چامراج پیٹ حلقہ کے یم یل اے اور سابق وزیر جناب ضمیراحمد خان نے اُردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ان لوگوں کے اندر اتحاد ہے اورہم لو گو ں کے اندر اتحاد نہیں بلکہ اختلاف ہے سیاسی شعور کی کمی ہے ۔ کوئی بڑ اعہدہ حاصل کرنے کیلئے وہ لوگ چاہے کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں اپنی اپنی پارٹی میں رہتے ہوے اندر سے متحدہ ہوجاتے ہیں لیکن یہ بات ہمارے اندر نہیں ہے جس کی وجہ ہمیں پارٹیاں نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ضمیراحمد خان نے بتایا کہ آج بھی وقت ہے ہم متحد ہو کر قیادت کو مضبوط کرسکتے ہیں اور ان کی طرف سے وعدہ ہے کہ ایک مضبوط قیادت کیلئے وہ ہر طرح کا تعاؤن دیں گے۔ جنتادل سے علیحد گی کے بعد آئندہ کے بارے میں دریافت کرنے پر جناب ضمیر احمد خان نے بتایا کہ ڈسمبر کے پہلے ہفتہ میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی موجودگی میں وہ اور ان کے ساتھی باقاعدہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ اس سلسلے میں راہول گاندھی، مسٹر سدرامیا اور ڈاکٹر پر میشور سے بات ہوچکی ہے ان لیڈروں نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنے اپنے حلقہ سے کانگریس کا ٹکٹ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے لیڈروں کے وعدے پر ہمیں یقین ہے۔ جنتادل سے اختلاف کی وجہ بتاتے ہوئے جناب ضمیر احمد خان نے بتا یا کہ جنتادل میں کسی بھی مسلم لیڈرکو ابھرتے دیکھا نہیں جاسکتا جب بھی کوئی لیڈر ابھرنے کی کوشش کرتا تو اسے ابھرنے نہیں دیا جاتا ہمارے سامنے مثال موجود ہے جناب سی یم ابراہیم، اقبال انصاری، عبدالعظیم ، روشن بیگ، ایسے کئیلیڈر ہیں جن کا تعلق جنتادل سے تھا وہ پارٹی سے ہٹ گئے ۔ جناب ضمیر احمد خان نے بتایا کہ راجیہ سبھا ایلکشن میں فاروق کو ٹکٹ دےئے جانے کی بات پر ان کا اختلا ف ہوا تھا ہمارا کہنا تھا کہ پارٹی کیلئے فاروق کی کوئی قربانی نہیں دانش علی جیسے کئی سینئر لیڈڑ ہیں ان کو ٹکٹ دیا جائے لیکن ان کی بات نہیں سنی گئی کیونکہ یہ سوٹ کیس کا معاملہ تھا ۔جنتادل میں سوٹ کیس کلچر کے بارے میں خود دیوے گوڈا کے رشتہ داروں نے انکشاف کیا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جناب سی یم ابراہیم نے راجیہ سبھا کی ٹکٹ کیلئے کوشش کی تو انہیں نظر انداز کرکے وجئے ملیا کو ٹکٹ دیا گیا یہ بھی سوٹ کیس والا معاملا تھا ۔اگلے الیکشن میں حلقہ کے بارے میں دریافت کرنے پر جناب ضمیر احمد خان نے بتایا کہ چامراج پیٹ میرا حلقہ ہے وہاں کے عوام میری خدمت لینا چاہتے ہیں میں دوبارہ اسی حلقہ سے امیدوار کی حیثیت سے ایلکشن لڑینگے۔ اگرجنتادل والے میرے خلاف کسی مسلمان کو کھڑا تے ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں حلقہ کے ووٹرس میرے حق میں ہیں اور مجھے کامیاب بناتے آرہے ہیں یہاں تک کہ حلقہ میں وکلیگا فرقہ کے ووٹرس بھی میرے ساتھ ہیں۔ ریاستی وزیر شیوکمار کے خلاف انکم ٹیکس ڈپار ٹمنٹ کی کاروائی کے بارے میں دریافت کرنے پر ضمیر احمد خاں نے بتایا کہ یہ ایک سیاسی انتقام ہے بی جے پی والے کانگریس لیڈروں کو دھمکا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ دیوے گوڈا سکیولر لیڈر ہیں لیکن کمار سوامی سیکولر کے بھیس میں کمیونل ہیں وہ کبھی بھی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملاسکتے ہیں ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔