ریاستی حکومت قحط سالی سے نپٹنے پوری طرح تیار:پرمیشور

10:57AM Sat 8 Dec, 2018

مدھوگری۔8دسمبر( سالار نیوز)ریاست کے 100اضلاع قحط سے متاثر قرار دےئے گئے ہیں ۔ ٹمکور ضلع کے 10تعلقہ شدید سوکھے سے متاثر ہیں لیکن سرکاری افسر راحت کاری کے کام اطمینان بخش طریقے سے انجام نہیں دے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے افسروں کو مشورہ دیا کہ وہ منصوبہ بند طریقے سے راحت کا کام کریں۔ مدھوگری تعلقہ پنچایت دفتر میں سوکھا اور سوکھا راحت کاری کے کاموں کے جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت حالات کامقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور کہا کہ پینے کے پانی کی فراہمی اور جانوروں کو چارہ مہیا کرانے ضروری اقدامات کرنے کیلئے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مخلوط حکومت پریشانی کی اس گھڑی میں پوری طرح کسانوں کے ساتھ ہے ۔اور ان کی مدد کیلئے ہمیشہ تیار ہے ۔ اس لئے کسانوں کے 49ہزار کروڑ روپئے قرض معاف کرنے کااعلان کیا گیا ہے ۔ 8دسمبر کو وزیراعلیٰ ڈوڈبالاپور اور سیڈم ،تعلقہ میں قرض معافی اسکیم کا باضابطہ آغاز کریں گے اور کسانوں کو قرض سے چھٹکارہ کے علامتی کاغذات حوالے کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت سوکھے سے متاثر اضلاع میں فی الحال پینے کے پانی کی فراہمی اور جانوروں کوچارہ مہیا کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مہاتما گاندھی قومی روز گار گیارنٹی اسکیم نریگا کے تحت دیہات کے لوگوں کو روز گار مہیا کرانے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے تاکہ ضلع میں بے روز گاری کا مسئلہ نہ ہو اور لوگوں کو روز گارکی تلاش میں شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے نائب وزیراعلیٰ نے اس بات پر برہمی کااظہار کیا کہ امبیڈکر ہاؤزنگ کارپوریشن میں تعمیری کام رک گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ڈپٹی کمشنرز اکاؤنٹ میں 300کروڑ روپئے جمع ہیں اس کے علاوہ ہرایک کیلئے علیحدہ 50لاکھ روپئے منظور کئے گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ کمار سوامی نے بھی کہا ہے کہ فنڈز کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ انہوں نے افسروں کومشورہ دیا کہ تعمیری کام شروع کرنے میں پہل کریں۔رکن پارلیمان مد وہنومے گوڈانے بتایا کہ محکمہ زراعت کے افسر کرشی ہونڈا قائم کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری افسر راحت کاری کے کام میں پس وپیش کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔رکن اسمبلی ایم وی ویر بھدرپا نے بتایا کہ سوکھے کی وجہ سے ضلع میں ناریل کی فصل کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ محکمہ باغبانی کے افسر ناریل کسانوں کو راحت فراہم کرنے کا کام ترجیحی بنیا د پر کریں۔ نائب وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی برہمی کااظہار کیا کہ تعلقہ پنچایت کے بیشتر ای او نریگا اسکیم کے تحت دیہات کے لوگوں کو مقررہ تعداد میں روز گار کے دن کی بنیاد پر روز گار فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ اس معاملے میں تمام ضلع مطلوبہ نشانہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے ان کے اپنے حلقہ کورٹ گیرے میں اب تک مطلوبہ نشانہ سے 70ہزار نفری دن کا کم روز گار فراہم کیا گیا ہے ۔اجلاس میں رکن پارلیمان رکن اسمبلی کے علاوہ ضلع پنچایت صدر لتا ، سی ای او انیس کنمنی جوائے ، پولیس سپرنٹنڈنٹ شوبھا رانی ، اسسٹنٹ کمشنر چندر شیکھر پا ، تعلقہ پنچایت ای او موہن کمار ، تحصیلدارتپے سوامی سمیت ضلع اور تعلقہ سطح کے اعلیٰ افسر شریک رہے۔