مسلمانوں نے دین کو قومی قبائلی اور خاندانی مذہب بنا لیا ہے
12:44PM Mon 14 Mar, 2016
انجمن فروغ سنت کانپور کے زیر اہتمام سیرت صحابہؓ کے آخری جلسہ سے مولانا سلمان ندوی نے کا خطاب
کانپور، 14؍مارچ: انجمن فروغ سنت کانپور کے زیر اہتمام قاضی شہر و مفتی اعظم کانپور حضرت مولانا مفتی منظور احمد صاحب مظاہری کی صدارت میںمنعقد ہونے والے دوروزہ مرکزی اجلاس سیرت صحابہؓ کے آخری جلسہ میں لکھنؤ سے تشریف لائے مولانا سلمان ندوی نے فرمایا کہ مسلمانوں نے دین کو اپنا قومی قبائلی اور خاندانی اور انفرادی مذہب بنا لیا ہے۔ جبکہ محمد ﷺ سب کے ہیں دین اسلام ساری دنیا کا مذہب ہے۔ ہمیں عیسیٰ ؑ کے ماننے والے عیسائیوں کو بتانا ہوگا کہ تمہارے نبی حضرت عیسیٰؑ نے پیشین گوئی کی تھی کہ ایک آخری نبی آئے گا۔اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کو ماننے والے یہودیوں اور مہاتما بدھا کے ماننے والوں کو بھی بتانا ہوگا کہ تمہارے نبی اور رہنمائوں نے ہزاروں سال پہلے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ایک آخری نبی دنیا میں آئے گا۔ دنیا کے تمام مذاہب کی کتابیں اس بات کا وجود پیش کرتی ہیں کہ آخری نبی آئے گا۔ مولانا نے قرآن کے حوالے سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے نبی ہیں اسی طرح حضرت محمد ﷺ کے ساتھی یعنی صحابہ ؓ بھی سب کے ہیںحضرت ابوبکر ؓ و عمرؓ،عثمانؓ و علیؓ اور سارے صحابہ ؓ بلا تفریق مذہب ہم سب کے ہیں۔ان کے لئے کسی طرح کی لڑائی اور کشمکش کے کوئی معنیٰ نہیں ، لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب ان صحابہ کرامؓ کی سیرت کو ،مشن کو اور ان کے کام کو دنیا کے اختلافات سے اوپر اٹھ کر پختہ اور علمی دلیلوں کے ساتھ ان کے اسکولوں ،کالجوں،یونیورسٹیز اور اکیڈمیز میںسب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر ان باتوں کی وضاحت دنیا کے سامنے نہیں ہوگی توپھر یہ لوگ ایک پہلو کو دیکھ یہی کہیں گے یہ باتیں تو ہمیں نہیں معلوم۔آج لوگ قرآن کو ایک مذہب اور مسلمانوں کیلئے اتاری گئی اللہ کی کتاب سمجھتے ہیں جبکہ یہ غلط ہے کیونکہ قرآن ساری انسانیت کیلئے ہدایت کی کتاب ہے۔آج ساری دنیا میں مسلمان پریشا ن ہیں کیونکہ ہمارے تاجر قرآن دیکھ کرتجارت نہیں کرتے ،ڈاکٹر ،وکیل اورانجینئر،انتظامیہ قرآنی تعلیم کی روشنی میں اپنے کام کو انجام نہیں دے رہے۔جلسہ میں کاس گنج سے تشریف لائے مولانا انعام احمد صاحب نے سامعین خصوصاً نوجوانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج نوجوانوں کے موبائیلوں میں غلط طریقے سے دعائیں واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر دعائوں میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے ڈال دی جاتی ہے اور ہمارے نوجوان اس پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں ،بغیر تحقیق کے کوئی بھی اسلامی مضمون یا دعاء فارورڈ یا شیئر نہ کریں۔مولانا نے کہا کہ صحبت کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے مثلاً کوئلہ یا لوہا جب اس کو آگ کی صحبت حاصل ہوتی ہے تو وہ سرخ ہو جاتے ہیں،لیکن صحابہ کرامؓ کے بارے میں صحبت کا اثر نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کے نبی ؐ کی صحبت نے صحابہؓ کو کندن بنا دیا۔صحابہؓ کرام پر انگشت نوائی کی گنجائش نہیں،اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ان کے سچے ،عادل،راشدہونے کاسرٹیفکیٹ مل گیاہے۔ اس موقع پر بھیونڈی سے تشریف لائے مولانا سید محمد طلحہ صاحب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی 23سالہ نبوی زندگی حقیقت میں اس میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً قیامت تک پیش آنے والے حالات کو سمیٹ دیا ہے ، یہ کوئی فرضی یا خیالی بات نہیں کہ حضرت محمدﷺآخری نبیؐ ہیں،اب آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ ختم نبوت کے اپنے علمی اور عملی تقاضے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان تمام تقاضو کو پورا کرکے ان کی تکمیل کا انتظام فرما کر پھر رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے۔ ختم نبوت کا علمی تقاضہ تو یہ تھا کہ اب دین کی ہر ہر بات قیامت تک محفوظ رہے گی ، اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے دین کی اصل بنیاد قرآن پاک کی حفاظت کا ایسا غیر معمولی اور تاریخی انتظام فرمایا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی دوسری کوئی مثال نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ معصوم تھے انہوں نے اپنی زندگی میں عملی نمونہ صحابہ کے سامنے پیش کیا۔ لیکن کچھ کام ایسے تھے جو اللہ کے رسول ﷺ سے نہیں لئے جا سکتے تھے، مثلاً اگر کوئی چوری کرے یا پھر زنا جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کرے تو اس کو کیسے سزا دی جائے اور یہ نمونہ توپیغمبر ؐکے ذریعہ تو نہیں آ سکتا کیونکہ اگر ان کاموں کا عملی نمونہ ان سے لیا جاتا تو ان کی ذات مجروح ہو جاتی۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ اگر کسی سے کوئی سنگین غلطی ہو جائے اس کو کیسے سزا دی جائے یہ نمونہ بھی سامنے آ جائے تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کو استعمال فرمایا اور یہ صحابہ ؓ کا ہی حوصلہ تھا کہ انہوں نے دنیا کی ہدایت کیلئے ان کاموں کیلئے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا ۔کچھ لوگ نادانی میں کہتے ہیں کہ اگر صحابہؓ آئیڈیل و معیار ہیںتو کیا یہ گناہ بھی معیارہیں، ان کو بتلائیے کہ یہ گناہ نہیں بلکہ گناہ کے بعد ان کی بے چینی اور توبہ معیار ہے کہ گناہ کے بعد کیا کرنا چاہئے یہ نمونہ ہے۔ قاری عبد الباری صاحب نے تلاوت فرمائی اور قنوج سے تشریف لائے مفتی طارق جمیل صاحب نے نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ قاضی شہر مفتی منظور احمد صاحب مظاہری نے رات کے وقت شدید آندھی اور بارش کے باوجود لوگوں کو جم کر علماء کی باتیں سننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صحابہؓ سے محبت کا ہمارے اندر اسی طرح کا جذبہ ہونا چاہئے ، دین کواپنے گھروں میں پہنچانا چاہئے نمازوں کی پابندی کریں ۔ مفتی صاحب نے ناصحانہ انداز میں لوگوں سے کہا کہ موجودہ دور میں بہت سے لوگ اخبارات اوررسالے تو پابندی سے پڑھتے ہیںکہ ان کے بغیر لوگوں کو چین نہیں آتالیکن کیا اسی طرح قرآن پڑھنے کا جذبہ بھی کبھی ہمارے دل میں آیا،نمازیں چھوٹنے پر افسوس ہوا؟ اگر نہیں آیا تو اس بات پر غور کریں اوراپنا جائزہ لیںکہ ہم کس رخ پر جا رہے ہیں؟ قاضی شہرمفتی منظور احمد صاحب مظاہری کی دعاء پر اس دو روزہ مرکزی اجلاس کا اختتام ہوا۔ نظامت کے فرائض قاری محمد آصف صاحب ثاقبی نے انجام دئے۔ اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء کانپور مولانا انوار احمد جامعی، قائم مقام قاضی شہر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی ،مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی عبد الرشید قاسمی، مولانا انعام اللہ قاسمی، مولانا انیس خاں، قاری انیس احمدصابری،مفتی مقصود احمد ندوی،حافظ معروف احمد جامعی، مولانا محمد احمد ندوی، مولانا ظفر عالم ندوی،مولانا احمد حسن قاسمی،فخر عالم صاحب ،قاری عبد المعید چودھری، قاری مجیب اللہ عرفانی،حافظ معمور احمد جامعی،مولانا محمد اکرم جامعی، مفتی اسعد الدین قاسمی، مولانا نور الدین احمد قاسمی، مفتی اظہار مکرم قاسمی، مولان انصار جامعی، مولانا انیس الرحمان قاسمی کے ساتھ ہزاروں لوگ آخری تک جلسے میں موجود رہے۔