معروف صحافی و سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کی ایس ڈی پی آئی کی جانب سے سخت مذمت 

03:23PM Wed 6 Sep, 2017

فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے والوں کا صرف قتل کیا جاسکتا ہے لیکن انصاف کی آواز کو دبایا نہیں دیا جاسکتا۔ اے سعید کالی کٹ۔ ( بھٹکلیس نیوز ) ۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے قومی صدر اے سعید نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں معروف سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے قتل سے ملک کی ثقافت،انصاف اور اظہار رائے کی آزادی کو دھچکا پہنچا ہے۔ گوری لنکیش ملک کی فسطائی اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف لڑائی میں ہمیشہ صف اول میں رہی ہیں۔ ان کی جرات مندانہ اور ایماندارانہ موقف ان تمام لوگوں کے لیے حوصلہ افزا ہے جنہوں نے اپنے حقوق اور انصاف کے لیے لڑائی لڑی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ان کی بہیمانہ قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان تمام مجرموں، سازش رچنے والوں اور ان کے قتل کے پیچھے جو طاقتیں چھپی ہیں ان کو فوری طور پر گرفتارکیا جائے۔ قومی صدر اے سعید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف کسی فرد کا قتل نہیں ہے بلکہ جمہوریت،سیکولرازم اور ترقی پسندی کا قتل ہے۔ جن فرقہ وارانہ طاقتوں نے مفکر اور ترقی پسند شخصیات نریندر دھابولکر،گووند پنسارے، ایم ایم کلبرگی کا قتل کیا ہے وہی فرقہ وارانہ طاقتیں گوری لنکیش کے قتل کے پیچھے ہوسکتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ سے ان فرقہ وارانہ فسطائی طاقتوں کے ہاتھوں خطرے میں ہے جو اس ملک کو نسل پرستی اور منو وادی ملک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ گاندھی جی کے قتل سے لیکر گوری لنکیش کے قتل تک یہ منووادی عناصرہمیشہ تشدد، قتل اور تباہی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ قومی صدر اے سعید نے مزید کہا ہے کہ یہ فرقہ پرست عناصر مفکرین، سماجی کارکن اور ترقی پسند شخصیات کا قتل کرنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن وہ ان کی آواز ، خیالات اور جدوجہد کو روکنے میں کھبی کامیاب نہیں ہوسکتی ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے حکومتوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سماجی کارکنوں اور ترقی پسند شخصیات کا قتل کرنے والے قاتلوں کا پتہ لگانے میں حکومت ناکام رہی ہیں جس سے ان قاتلوں کو مزیدحوصلہ ملا ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی ریاست میں کسی کا بھی قتل کرنے پر آمدہ ہیں۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومتیں ان شخصیات کے قاتلوں اور ان قتل کی سازش کرنے والوں کو گرفتار کرنے میں اگر سنجیدگی نہیں دکھاتی ہے تو ملک اور اس کے تنوع کے دشمنوں کے خلاف عوامی جدوجہداور تحریک کو کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔