مکہ معظمہ پر حوثیوں کے میزائل حملہ، عالم اسلام کا شدید رد عمل
02:56PM Sat 29 Oct, 2016
ایران نواز حوثی باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات
گذشتہ روزیمن میں حکومت کے خلاف سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر راکٹ حملے کی ناکام مجرمانہ کوشش پر عالم اسلام اور عرب ممالک کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے مکہ معظمہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنائے جانے کی ناکام کوشش کے بعد عرب ممالک اور اسلامی دنیا کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ کل جمعہ کے روز سعودی فورسز نے یمن سے مکہ مکرمہ پر داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضاء ہی میں تباہ کردیا تھا۔
مکہ کو راکٹ حملے سے نشانہ بنانے کی مجرمانہ اور مذموم حرکت پر عالم اسلام کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیاجا رہا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے مکہ پر راکٹ حملے کی کوشش کو کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی سازش کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے جو یمن کے حوثی باغیوں کو اس نوعیت کا اسلحہ فراہم کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے مکہ معظمہ کو نہیں بلکہ بیت اللہ کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی رجیم ایک طرف خود کو عالم اسلام کی نمائندہ قرار دینے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف وہ مکہ معظمہ پر راکٹ برسانے کے لیے یمن کے حوثی شدت پسندوں کی مدد بھی کررہا ہے۔
بحرین اور قطر کی طرف سے بھی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے راکٹ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حوثی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
قطرمیں سپریم علماء کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں مکہ مکرمہ پر راکٹ حملے کی کوشش کو عالم اسلام پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔