مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہونا چاہئے:یوسف کنی

02:20PM Wed 9 Aug, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز ) ہندوستان ہمارا ملک ہے۔ اور یہ ملک جمہوری ہے ،اسکی آزادی کے لئے ہمارے بز رگوں نے سب کچھ قربان کیا ہے، انگریز مسلمانوں کو اپنا اولین دشمن سمجھتے تھے، ہم ملک کی صرف خود مختاری کے قائل نہیں تھے ہم ملک کی مکمل آزادی چاہتے تھے اور تقسیم ہند کے خلاف تھے ۔ مسلمان حکمران ملک کی سا لمیت ، تحفظ اور اس کی بقاء کے لئے کام کیا ہے۔ ملک کے عوام کی بلا مذہب و ملت خدمات انجام دیا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، سماج میں امن کے علاوہ ذات پات کے منافرت کے خاتمے کے لئے کام کیا ہے۔ہندوستان میں رسولﷺ کے چہیتے صحابہؓ سے لیکر اولیاء کرام کے مبارک تعلیمات نے اسلام کے تعارف اور فروغ میں مدد ملی ہے۔ آزادی سے قبل مسلمانوں کو ملک میں ایک چھوٹا سا طبقہ اپنی تہذیب میں ضم کرنے اور مختلف مسائل میں الجھائے رکھنے کی کوشش کرتارہا اور آج وہ ملک پر قابض ہے۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے لئے فرقہ پرست کوشش کرتے رہے ہیں اور حکمراں طبقہ ان کی کوششوں کو نظر انداز کرتے رہا ہے۔جس کی وجہ سے مسلمان آج تعلیمی میدان میں پیچھے ہوگئے۔ معاشی اعتبار سے کمزور کردیا ہے، سماجی خدمات سے ہم دور ہوگئے۔ سیاسی میداں کوہم نے خالی کردیا۔ دینی جماعتوں کا قیام مسلمانوں میں دینی شعور کی بیداری کے لئے تھیں لیکن ہمارے اختلافات نے ہمیں اور کمزور کردیا گیا۔ مختلف دینی جماعتیں ، ادارے ، تنظیمیں ایک دوسرے سے تعاون کے لئے ہیں جماعتوں کو قائم کرنے والی شخصیات نے مسلمانوں سے نفرت کی بات نہیں کہی ہے، ان خیالات کا اظہار جناب محمد یوسف کنی جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے گدگ میں رابطہ ملت کے قیام کے موقع پر صدارتی خطاب کے دوران فرمایا، ملک کے موجودہ حالات کو پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ملک کے لئے نقصان دہ ہے کوئی بھی مذہب اس کی تعلیم نہیں دیتا لیکن وہ کون ہیں جو ملک میں دہشت پھیلارہے ہیں گاؤ کشی کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو پریشان کرنا اور دہشت کا ماحول پیدا کرنا انتہائی افسوس نا ک بات ہے۔حکمران گونگے ہیں اور پولیس تماشائی بنی ہے ۔ رابطہ ملت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، اتحاد پیدا کرنا مسلمانوں کی جان و مال عزت و آبرو کی تحفظ کرنا اور برادران وطن سے اچھے روابط قائم کرنا رابطہ ملت کی اہم مقاصد ہیں ۔ تبلیغی جماعت ، جماعت اسلامی ہند ، اہل سنت الجماعت ، اہل حدیث ، جمعتہ العلما ہند اور ضلع بھر سے مختلف اداروں تنظیموں کے 125 نمائندے شریک اجلاس رہے۔ ضلع کی صور تحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالکریم ہبلی نے مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ’مسلک اور جماعتوں کا قیام ہمارا لئے رحمت تھیں، لیکن آج تصویر مختلف نظر آتی ہے ۔ رابطہ ملت کے قیام سے باہمی محبت اور اُخوت میں اضافہ ہوگا۔ مولانا مفتی محمد عارف قاسمی صاحب نے اپنے اظہار خیال میں فرمایا، ہماری بدحالی کو بدلناہوگا تعلیمی میدان میں ملت کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے اتحاد و اتفاق ہی سے ملت کو مضبوط کیا جاسکتاہے۔ اس اجلاس میں اتفاق رائے سے مولانا عنایت اللہ صاحب پیرزادے (تبلیغی جماعت) بحثیت صدرمنتخب کیا گیا۔جناب سراج احمد صاحب (اہل حدیث) جناب غلام حسین صاحب (اہل سنت الجماعت ) جناب سرفراز احمد امچگی(تعلیمی ادارے کے نمائندے) کو نائب صدور اور جناب خواجہ حسین شیخ(جماعت اسلامی) کو جنرل سکریٹری اور جناب داداپیر مچھالے لکشمیشور ، حافظ عبدالحمید پٹیل رون ، جناب محمد غوث مکاندار منڈرگی ، اڈوکیٹ محمد رفیق کوکنور، جناب ڈاکٹر پیارعلی نورانی اور جناب ایس ایس بلّاری کورابطہ ملت ضلع گدگ کے سکریٹریزمقررکئے گئے۔