ملت میں اتحاد کو قائم کرنا بے حد ضروری ہے۔مولانا عابد خوندمیری

03:23PM Mon 28 Aug, 2017

بزم روح ادب چن پٹن کے زیر اہتمام منقبتی مشاعرہ کا انعقاد چن پٹن۔(بھٹکلیس نیوز) بزم روح ادب کے زیر اہتمام مہدویہ قدیم جامع مسجد اوپر دائرہ چن پٹن میں حضرت بندگی میاں سید محمود المعروف ثانئ مہدیؒ کی شان اقدس میں منقبتی مشاعرہ منعقد ہوا۔ مہدویہ عربی مدرسیہ اشرفیہ کے زیر نگرانی اس مشاعرے کی صدارت مفسر قرآن حضرت مشائخ سید میرانجی صاحب عابدؔ خوندمیری نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں مولانا نے کہا کہ مشاعروں کے انعقاد سے ہم دو مقاصد حاصل کرناچاہتے ہیں ۔ ایک تو عقائد کی پختگی، بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ اور دوسرا اردو زبان و ادب کی ترقی۔ ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ منقبت کے ذریعہ حضرت بندگی میاں سید محمود ثانی مہدیؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو شعراء نے اپنے کلام میں پیش کیا ۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ حالات میں جہاں اغیار مسلمانوں پرگھات لگا کر حملے کررہے ہیں ،وہیں ہمیں سمجھ بوجھ سے کام لینا بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ منظم طریقہ سے اسلام کو بدنام کرنے اوراسلامی شریعت میں غیر محسوس طریقے سے مداخلت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔یہ وقت مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ۔نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کودین کی طرف زیادہ سے زیادہ راغب ہونا بہت ضروری ہے ۔ ہمارے اسلاف کے عمل کو یاد کرتے ہوئے اس پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ہمیں خوشنودی خداوندی بھی حاصل ہو اورغیر مسلموں کو اپنے کردار سے متاثر بھی کیا جاسکے ۔ ورنہ اسکولوں میں طلباء کو مغربی تہذیب والی خرافات کو روز مرہ کی زندگی میں شامل کرکے انہیں دین سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مولانا نے کہا کہ دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے بھی اللہ کی مدد کی ضرورت ہے ۔مولانا سید نجم الدین اشرفی کی قرأت سے آغاز ہوا۔ عالم خان اور مدثر نظامی نے بارگاہِ نبوت ؐو بارگاہ ولایت میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔سید محمود یداللٰہی نے تحریک صدارت پیش کی۔ڈاکٹر اظہر نظامی نے تائید کی۔عبدالکریم انجم کی نظامت میں حسب ذیل شعراء نے اپنی تخلیقات پیش کیں ۔ مولانا اشرف روحی ؔ خوندمیری، مولانا طاسین آغا عرشیؔ خوندمیری، سہیل ؔ نظامی، ثناء اللہ خان ثناءؔ ، سید مختارؔ احمدخوندمیری، سید محمودؔ یداللٰہی، نظام بیگ نظامؔ ،ایوب خان صبر، ڈاکٹر اظہر نظامی، شاہ فرید نظامی،صداقت مہدی،سید اسد اشرفی۔مولانا سید طاہر نجمیؔ خوندمیری گجرات اور عشرت جہاں ثمرؔ چن پٹن کا کلام پڑھا گیا۔سید تنویر اشرفی کے شکریہ اور سلام و تسبیح کے بعد مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔