بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد بولے سندھیا’ کانگریس چھوڑتے وقت دل دکھی بھی ہے، پریشان بھی‘
03:41PM Wed 11 Mar, 2020
نئی دہلی۔ 18 سال تک کانگریس میں رہے جیوترادتیہ سندھیا بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا کی موجودگی میں سندھیا نے پارٹی دفتر میں پارٹی کی رکنیت لی۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سندھیا نے کہا’ کانگریس چھوڑتے وقت میرا دل دکھی بھی ہے اور پریشان بھی۔ میری زندگی میں دو تاریخیں بہت اہم ہیں۔ ایک 30 ستمبر 2001 جب میں نے اپنے والد (مادھو راؤ سندھیا) کو کھویا اور دوسرا 10مارچ 2020 جب میری زندگی کا نیا دور شروع ہوا ہے۔
بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سندھیا نے وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ سندھیا نے کہا کہ میں نڈا جی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے اپنے کنبے میں مدعو کیا اور ایک مقام دیا۔
کانگریس پر برسے سندھیا
اس دوران سندھیا نے کانگریس پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی پہلی جیسی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کو منظوری نہیں مل رہی ہے۔ ملک کی خدمت کانگریس میں رہ کر نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کسان پریشان ہیں، نوجوان بے بس ہیں۔ روزگار کم ہوا اور بدعنوانی بڑھی ہے۔
نئی دہلی۔ 18 سال تک کانگریس میں رہے جیوترادتیہ سندھیا بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا کی موجودگی میں سندھیا نے پارٹی دفتر میں پارٹی کی رکنیت لی۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سندھیا نے کہا’ کانگریس چھوڑتے وقت میرا دل دکھی بھی ہے اور پریشان بھی۔ میری زندگی میں دو تاریخیں بہت اہم ہیں۔ ایک 30 ستمبر 2001 جب میں نے اپنے والد (مادھو راؤ سندھیا) کو کھویا اور دوسرا 10مارچ 2020 جب میری زندگی کا نیا دور شروع ہوا ہے۔بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سندھیا نے وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ سندھیا نے کہا کہ میں نڈا جی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے مجھے اپنے کنبے میں مدعو کیا اور ایک مقام دیا۔
کانگریس پر برسے سندھیا
اس دوران سندھیا نے کانگریس پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی پہلی جیسی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کو منظوری نہیں مل رہی ہے۔ ملک کی خدمت کانگریس میں رہ کر نہیں ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کسان پریشان ہیں، نوجوان بے بس ہیں۔ روزگار کم ہوا اور بدعنوانی بڑھی ہے۔