سی اے اے احتجاج: چندر شیکھر معاملہ میں عدالت کی پولیس کو پھٹکار، کہا۔ کیا جامع مسجد پاکستان میں ہے؟
01:51PM Tue 14 Jan, 2020
نئی دہلی۔ بھیم آرمی سربراہ چندر شیکھر آزاد (Bhim Army Chief Chandrashekhar) کی ضمانت عرضی پر منگل کو تیس ہزاری کورٹ (Tis Hazari Court) میں سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے دہلی پولیس (Delhi Police) کے وکیل کی دلیلوں پر کافی تلخ تبصرہ کیا۔ کورٹ نے چندر شیکھر پر قابل اعتراض بیان دینے کے الزامات کو لے کر دہلی پولیس کے وکیل کی دلیل پر کہا ’ آپ ایسے برتاؤ کر رہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہو‘۔ کورٹ نے دراصل یہ تبصرہ دہلی پولیس کے وکیل کی اس دلیل پر کیا جس میں وہ مذہبی مقام کے باہر احتجاج کرنے کو لے کر سوال اٹھا رہے تھے۔
تیس ہزاری کورٹ میں معاملہ کی سماعت کے دوران دہلی پولیس کی طرف سے پیش سرکاری وکیل نے چندر شیکھر پر قابل اعتراض بیان دینے کے الزام لگائے۔ اس پر کورٹ نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ کیا قابل اعتراض بیان دئیے گئے ہیں۔ قانون کیا کہتا ہے اور آپ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے۔ سرکاری وکیل نے کورٹ سے کہا کہ وہ عدالت کو قانون یا ضابطہ دکھانا چاہتے ہیں جو مذہبی مقامات کے باہر احتجاج پر روک کی بات کرتا ہے۔ اس پر جج نے دہلی پولیس سے کہا۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری دہلی پولیس اتنی پچھڑی ہوئی ہے کہ اس کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے؟ چھوٹے معاملوں میں دہلی پولیس نے ثبوت درج کئے ہیں تو اس واقعہ میں کیوں نہیں۔