اردو کے مشہور و مقبول مصنف،ناقد،ادیب داکٹر نیر مسعود کا لکھنو میں طویل علالت کے بعد انتقال

02:43PM Tue 25 Jul, 2017

بھٹکلیس نیوز/ 25 جولائ، 17 لکھنو/ (ایجنسی) علمی اور ادبی دنیا کی انتہائی قد آور شخصیت پروفیسر نیر مسعود کا آج 81/ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ وہ ادھر بہت زمانے سے علیل تھے اور مکمل طور پر صاحب فراش تھے۔ نیر مسعود لکھنؤ میں سید مسعود حسن رضوی 'ادیب' کے گھر 1936 میں پیدا ہوئے، لکھنؤ یونیورسٹی میں فارسی کے پروفیسر رہے۔ ان کی خدمات پر سنہ 1979ء میں انہیں پدم شری اعزاز برائے تعلیم و ادب سے نوازا گیا۔نیر مسعود بہترین مترجم بھی تھے۔ انکی وجہ سے ہم نے کافکا کو پڑھا۔ اور اسکے علاوہ فارسی افسانہ نگاروں کو بھی ہم نے نیر مسعود کی وجہ سے پڑھا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فارسی فکشن کو اردو میں ترجمہ کرنے والوں میں سب سے اونچا نام نیر مسعود کا ہے۔ نیّر مسعود کا افسانہ طاؤس چمن کی مینا پچھلے دس بارہ برسوں میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا افسانہ قرار پایا تھا. ان کے افسانوی مجموعے میں عطر کافور، سیمیا اور گنجفہ اہل اردو کے لیے بیش قیمت تحفہ سے کم نہیں. میر انیس اور سوز خوانی پر بھی نیر مسعود نے معرکہ آرا کام کیا تھا. انھوں نے غالب کے منتخب اشعار کی شرح بھی لکھی تھی. تدفین دیر رات منشی فضل حسین کی کربلا وکٹوریہ گنج میں ہوگی-

ڈاکٹر نیر مسعود نے اپنی تصانیف سے ملک کے اعلی انعامات اور اعزازات حاصل کئے انکو صدر جمہوریہ کا ایوارڈ،ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ وغیرہ کے علاوہ ملک کا اہم ترین سرسوتی سمان اعزاز ملا جو اردو میں صرف دو قلمکاروں کا ہی ملا۔

نیر مسعود کی متعدد کہانیوں اور افسانوں کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ہے۔