Moulana Qazi Shabbir Manki
آج مورخۃ ۲۱ / اپریل علی الصبح بھٹکل کے مضافاتی قصبے منکی سے مولانا قاضی محمد شبیر صاحب کے انتقال کی خبر نے دل کو ملول کردیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے پیرانہ سالی کے امراض نے انہیں صاحب فراش کردیا تھا، گذشتہ ۱۸ رمضان المبارک کو آپ کی عیادت کے لئے احباب کے ساتھ جانا ہوا تھا، جسم میں اٹھنے بیٹھنے کی سکت نہیں تھی، جسم ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا، لیکن ہوش وحواس ابھی باقی تھے، ایک طویل عرصہ بعد انہوں نے ہمیں دیکھا تھا، پر بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہمیں پہچاننے میں انہیں کوئی دشواری ہوئی ہو۔ آواز دھیمی تھی، جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی۔ شناسا چہروں کو دیکھ کر ان کی خوشی ومسرت کا احساس ہورہا تھا،اآپ نے اس دنیائے فانی کی (۸۴) بہارییں دیکھیں۔
یاد پڑتا ہے کہ مولانا کو پہلے پہل کوئی ساٹھ سال قبل استاد الجیل مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس دیکھا تھا،۱۹۶۳ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت اور پھر دو سال ممبئی میں امامت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد آپ نےاب منکی قصبے کو مستقل مستقر بنایا تھا،اس وقت وہ مولانا ندوی علیہ الرحمۃ سے سے ملنے جامع مسجد بھٹکل آیا کرتے تھے۔جہاں اس وقت جامعہ اسلامیہ بھٹکل کی تعلیمی درجات لگتے تھے۔ پرانی جامع مسجد میں جہاں وضو کے لئے حوض بنا ہوا تھا، اس کے بائیں طرف ایک چوڑی لکڑی سے بنی سیڑھی اوپر کو جاتی تھی، جس پر چڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک ہال ہوا کرتا تھا،جس میں مولانا ندوی کا درجہ لگتا تھا، مولانا کلاسوں میں نہیں جاتے تھے بلکہ طلبہ مولانا کے پاس یہاں آیا کرتے تھے،مولانا جہاں بیٹھتے تھے اس کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہوا کرتا تھا، جس میں جماعت المسلمین کا آفس تھا۔
مولانا شبیر صاحب کا یہ عنفوان شباب تھے، عمر تیئیس چوبیس کے پیٹھے میں رہی ہوگی، گورا چٹھا رنگ، نازک اندام بدن ، دھان پان جسم، ڈاڑھی صرف ٹھوڑی پر نکلی ہوئی، جو دیکھنے میں بڑی بھلی لگتی تھی۔
مولانا کا تعلق منکی کے قاضی گھرانے سے تھا، اسی گھرانے کے افراد ایک طویل زمانے سے پڑوسی قصبے مرڈیشور اور ولکی میں بھی منصب قضا پر چلے آرہے ہیں، سنا ہے کہ اسی خاندان کے ایک فرد قاضی بھٹکل مولانا ابوبکر خطیبی اوپا خلفو سے قبل بھٹکل کی قاضی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے،
قاضی شبیر کے والد ماجد کا انتقال کم عمری میں ہوگیا تھا، آپ کی ابتدائی تعلیم اس وقت کے نظام کے مطابق منکی کے قدیم دینی مکتب انجمن نصرۃ المسلمین منکی میں ہوئی تھی ۔ جس کے پرانے اساتذہ میں ملا عبد القادر خلفو کا ذکر آتا ہے۔
یہاں سے آپ کے چچا علی باپو اسماعیل صاحب نے جنہوں نے بعد میں اپنی دختر آپ سے بیاہی تھی، آپکو مزید تعلیم کے لئے ممبئی لے گئے، جہاں دوٹانکی میں قائم مدرسہ امدادیہ میں آپ کا داخلہ ہوا۔ ممبئی میں آپ کے ایک اور چچا علی باپو باپصاحب کا نل بازار میں ناریل اور کھوپرے کا کاروبار تھا۔
۱۹۶۱ء میں آپ کی امدادیہ سے فراغت ہوئی، جہاں سے آپ کو چچا علی باپو صاحب نے دار العلوم دیوبند بھیج دیا، جہاں سے ۱۹۶۳ء میں آپ کی فراغٹ ہوئی۔ ممبئی میں فراغت کے بعد دوسال قاضی عطاء اللہ مرگھے کے تعاون سے ایک شافعی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دئے، اور ۱۹۶۵ء میں اپنے وطن منکی تشریف لے آئے، جہاں آپ نے مادر علمی انجمن نصرۃ المسلمین میں تدریسی خدمات انجام دیں، اس وقت جماعت المسلمین منکی نے آپ کو قاضی شہر مقرر کیا، اس وقت انجمن کا نام بدل کر مدرسہ رحمانیۃ رکھا گیا تھا،یہاں آپ نے مسلسل نو سال خدمت انجام دی۔ جہاں آپ کے ہاتھوں ایک نسل دینی تعلیم سے آراستہ ہوئی۔اس زمانے میں پرائمری اسکول صبح ساڑھے دس بجے چھوٹ جاتے تھے، یہاں سے بچے آپ کے پاس رحمانیہ آتے اور بارہ ساڑھے بارہ بجے تک قرآن اور دینی تعلیم سے آراستہ ہوتے ۔ اس طرح ایک نسل آپ کی تعلیم وتربیت سے مزین ہوئی۔
۱۹۷۵ء کے بعد آپ نے دوبارہ ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ نے دوبارہ ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے شروع کئے ، اس دوران امارات کے شہر العین کے ایک بڑے تاجر عبد الرحمن زرعونی کو جو شہر کے انفراسٹرکچر کی تعمیرات سے وابستہ تھے، اورجس وقت شہر میں گھروں میں پائپوں سے پانی کی سپلائی شروع نہیں ہوئی تھی، ٹنکروں سے گھر گھر پانی سپلائی کرتے تھے، آپ کے پیچھے نمازیں پڑھنے کا موقعہ ملا، آپ کی خوبصورت تلاوت ، اور امامت کے روائیتی انداز سے اتنے متاثر ہوئے کہ ۱۹۸۰ء میں اصرار کرکے العین کے قلب شہر میں واقع اپنی تعمیر کردہ جامع مسجد میں امامت کی ذمہ داری پر فائز کردیا، جہاں آپ نے ۱۹۹۵ ء میں آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی وجہ سے سبکدوشی اختیار کی۔
یہاں ہمیں مولانا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا، کیونکہ ۱۹۷۹ء میں ملازمت کی تلاش میں میرا دبی جانا ہوا، تو ہمارے کمرے کے ساتھیوں عبد لحق دامدا فقیہ، اور ثناء اللہ دامدافقیہ نے العین میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا، قریبی عزیز عبید اللہ رکن الدین کی بھی وہاں پر کپڑے کی دکان تھی، اس زمانے میں العین باغات کا شہر تھا، یہاں گھومنے پھرنے اور تفریح کی جگہیں تھی امارات میں کہیں اور نہیں پائی جاتی تھیں، لہذا مہینے دومہینے میں العین کا چکر لگ جایا کرتا تھا، مولانا کی مسجد کی پہلی منزل، جس کی اونچائی کچھ کم تھی اور نماز کے لئے استعمال نہیں ہوتی تھی، مہمانوں کا بہترین مسکن تھی، مولانا کا بھی یہی مسکن تھا۔ یہاں مولانا کی خوش مزاجی اور اعلی مہمان نوازی کا خوب لطف آتا تھا، مولانا حقیقی معنوں میں بڑے با اخلاق اور ملنسار تھے، ہمارا یقین ہے کہ مولانا کی زندگی میں آپ کی ذات سے کسی کو شاید ہی کوئی تکلیف پہنچی ہو، مولانا نے اپنے تینوں لڑکوں کو وہاں پر عربی سرکاری اسکولوں میں تعلیم دی، امارات میں یہ بہت ہی نایاب مثال ہے۔
۱۹۹۵ء سے انتقال تک آپ نے اپنے وطن عزیز کی خدمت کی آپ مدرسہ رحمانیہ منکی کے ناظم اعلی رہے، اور قصبے کے لوگ آپ کی رہنمائی اور مشوروں سے فیض یاب ہوتے رہے، آج منکی ایک قابل مثال بستی ہے، یہاں پر مولانا قاضی شکیل احمد اور ان کے رفقاء منظم طور پر بہترین دینی و اجتماعی خدمات انجام دے رہے ہیں، قاضی شبیر کی دعائیں اور رہنمائیاں ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں۔
مولانا قاضی محمد شبیر صاحب ایک طبعی عمر گذار کر اپنے رب کی طرف لوٹ گئے ، ہمیں بھی اسی طرح ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانا ہے، مولانا جس باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے، اس کی یادیں اور محبتیں ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالی مرحوم کے نیک کاموں کو قبول کرے، اور انہیں اعلی علیین میں جگہ دے۔ آمین
2026-04-21