کسانوں کومعاشی طورپر خودمختار بنانے حکومت کی کوششیں:وزیرزراعت ریاست کے کسان اسرائیل کے طرز پر زراعت کواپنائیں۔ جدید ٹیکنالوجی کااستعمال کریں
02:00PM Tue 7 Aug, 2018
چکبالاپور 7؍ اگست ( سالارنیوز)ریاست کے کسانوں کو معاشی طورپر خودمختار بنانے کے لئے حکومت نے ریاست میں اسرائیل کے طرز پر زراعت کوفروغ دینے کافیصلہ کیاہے۔ یہ بات وزیرزراعت ایچ ایس شیوشنکر ریڈی نے بتائی، انہوں نے بتایاکہ اسرائیل میں اپنائے گئے زراعت کے طریقے سے کم پانی اورکم لاگت سے اچھی فصل تیارکی جاسکتی ہے۔ یہ طرز ریاست میں اپنا کرکسانوں کومعاشی طورپر خودمختار بنایاجاسکتاہے۔ پانی کی کمی والے علاقوں میں اسرائیل کے طرز پر مجموعی زراعت کے طریقے کواپنانے سے اچھی فصل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ضلع کے ودھراویشرا میں ضلع پنچایت ،محکمہ زراعت، زرعی یونیورسٹی ایکری سیاٹ حیدرآباد اوردیگر تنظیموں کے اشتراک سے منعقدہ سمگرا کرشی ابھیمان، 2018کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری ریاست میں آ ج بھی پرانے طرز پر ہی زراعت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کسانوں کومشورہ دیاکہ وہ صدیوں پرانے طریقے کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کااستعمال کریں۔ ۔ ہائی بریڈ طریقہ کو اپنائیں۔ اس طریقے سے سال میں دوفصلیں اگائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مجموعی زراعت( سمگراکرشی) کے طریقے کواپنا کرملک کے کسانوں کومعاشی طورپر خودمختار بنایاجاسکتاہے۔ اس سلسلہ میں مخلصانہ کوشش ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مصنوعی کھاد اور جراثیم کش ادویات کے زیادہ استعمال سے کسانوں کی زمینوں کونقصان ہوتاہے۔ ذرخیزی کم ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات سے دوچار ہوناپڑتاہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوتی ہے۔ کسان مالی پریشانیوں کاشکار ہوسکتے ہیں۔ وزیرموصوف نے کہاکہ سایواوکرشی اورزمینات کی بہتر نگرانی سے ہی کسانوں کی مالی حالت میں سدھار لایا جاسکتا ہے۔ دیہی علاقوں کے کسان فصل کے لئے قرض لے کر مقروض ہوتے جارہے ہیں۔ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے بھی کسان کافی پریشان ہیں۔ کسانوں کوچاہئے کہ ہروقت وہ ایک نئی فصل کی بجائے موسم اور اپنی زمینات کی حالت کے مطابق طرح طرح کی فصلوں کواگانے کی جانب توجہ دیں۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیلی طرز کی زراعت کرنے کے لئے کسانوں کو متوجہ کرانے کی ضرورت ہے، آبی ذخائر کم ہونے کی وجہ سے کسانوں کو چاہئے کہ وہ ڈراپ زراعت کرنے کی کوشش کریں۔ اس علاقہ کے کسان زراعت کے لئے زیادہ تربارش کے پانی پرانحصار کرتے ہیں اوراس سال ماہ جون تک اچھی بارش ہوئی تھی مگر اب بارش نہیں ہورہی ہے اوربارش کاکوئی امکان بھی نظر نہیں آرہاہے۔ اس وجہ سے یہاں کے کسان پریشان ہیں۔ ریاست میں کئی علاقوں میں اب تک 60فیصد ہی بیج بوئے گئے ہیں۔ جبکہ چکبالاپور ۔ کولاراورآس پاس کے اضلاع میں بارش کی کمی کی وجہ سے بوائی کم ہوئی ہے۔وزیرزراعت نے بتایاکہ ریاست کے کسانوں نے فصل انشورنش کی طرف بہت کم توجہ دی ہے۔ ریاست کے ہرضلع میں زیادہ سے زیادہ فصل انشورنس کے لئے کسانوں میں بیداری لانی ضروری ہے۔ اس موقع پر ضلع پنچایت صدر ایچ وی منجوناتھ، ڈاکٹر قادر، ضلع پنچایت اراکین ، تعلقہ پنچایت صدر واراکین محکمہ زراعت کے جوائنٹ ڈائرکٹر ملیکار جن کے علاوہ کئی افسران اوردیگر افراد موجود تھے۔